Urdu Deccan

Monday, December 12, 2022

نادر قادری

یوم پیدائش 09 دسمبر 1940

گود میں ذرات کی سر اپنا رکھ کر سو گیا 
پیاس کی دہلیز پر دریا کا منظر سو گیا

کچھ نظر آتا نہیں آئینۂ ایام میں 
عکس حیرت جاگ اٹھا خوابوں کا پیکر سو گیا
 
درد کو درماں بنانے کا ہنر رکھتا تھا وہ 
اوڑھ کر جو وقت کی خوش رنگ چادر سو گیا 

ہم ہی غم خوار تمنا تھے نہ سوئے صبح تک 
جب در و دیوار کو نیند آ گئی گھر سو گیا 

خاک اڑتی ہے سر صحن تمنا چار سو 
دیدنی جو کچھ بھی تھا منظر بہ منظر سو گیا 

عہد نو نے تابش حسن رفاقت چھین لی 
قریۂ جاں میں محبت کا سمندر سو گیا 

موسم سفاک نے وہ صبح روشن کی ہے نازؔ 
قطرۂ شبنم سر شاخ گل تر سو گیا

نادر قادری



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...