Urdu Deccan

Monday, December 12, 2022

عمران رشید یاور

یوم پیدائش 08 دسمبر 1979

ذکر اب اُس کا کہیں آئے میں چپ رہتا ہوں 
دل سے نکلے بھی اگر ہائے، میں چپ رہتا ہوں 

ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کا بھرم رکھتا ہوں 
کوئی الزام بھی لگ جائے میں چپ رہتا ہوں 

میں سخن ور ہوں مجھے بات کا فن آتا ہے
ہر جگہ دیتا نہیں رائے میں چپ رہتا ہوں

آ ہی جاتی ہیں تعلق میں دڑاریں لیکن 
جب تلک زخم نہ بھر جائے میں چپ رہتا ہوں

اب مجھے اُس سے شکایت ہے نہ امیدِ وفا
اب وہ جتنے بھی ستم ڈھائے میں چپ رہتا ہوں

وہ سمجھتا ہے مجھے اپنی اناؤں کا اسیر
کوئی جا کر اُسے سمجھائے میں چپ رہتا ہوں

اُس کے جانے کی اذیت کا اثر ہے یاور
جب تلک جاں پہ نہ بن آئے میں چپ رہتا ہوں

عمران رشید یاور



No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...