ذکر اب اُس کا کہیں آئے میں چپ رہتا ہوں
دل سے نکلے بھی اگر ہائے، میں چپ رہتا ہوں
ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کا بھرم رکھتا ہوں
کوئی الزام بھی لگ جائے میں چپ رہتا ہوں
میں سخن ور ہوں مجھے بات کا فن آتا ہے
ہر جگہ دیتا نہیں رائے میں چپ رہتا ہوں
آ ہی جاتی ہیں تعلق میں دڑاریں لیکن
جب تلک زخم نہ بھر جائے میں چپ رہتا ہوں
اب مجھے اُس سے شکایت ہے نہ امیدِ وفا
اب وہ جتنے بھی ستم ڈھائے میں چپ رہتا ہوں
وہ سمجھتا ہے مجھے اپنی اناؤں کا اسیر
کوئی جا کر اُسے سمجھائے میں چپ رہتا ہوں
اُس کے جانے کی اذیت کا اثر ہے یاور
جب تلک جاں پہ نہ بن آئے میں چپ رہتا ہوں

No comments:
Post a Comment