دل میں اپنے صنم بسا لو مجھے
یعنی پلکوں پہ اب بٹھا لو مجھے
پختہ ایماں ہے اور یقیں کامل
جس طرح چاہو آزما لو مجھے
ہجر کی شب کا غم سہوں کیسے
اپنی دنیا میں اب بسالو مجھے
کس طرح غم سہوں زمانے کا
کیوں خدا سے کہوں اٹھا لو مجھے
آرزو ہے یہی صنم میرے
دل سے اپنے نہ تم نکالو مجھے
اپنی باتوں پہ میں بھی ہوں قائم
جس قدر چاہو تم ڈرا لو مجھے
ہے یہ کہنا ستم ظریفوں کا
خیر ہوگا ذرا ہنسا لو مجھے
بات اظہرؔ کی تو حقیقت ہے
ایک مظلوم ہوں ستا لو مجھے
اظہر احمدی

No comments:
Post a Comment