پھول ہو کر بھی خار ہیں ہم لوگ
جب سے بے اقتدار ہیں ہم لوگ
بیچ ڈالیں گے تم کو مولانا
یہ نہ سمجھو گنوار ہیں ہم لوگ
تیرے در پر کھڑے رہیں کب تک
کیا کوئی پہرہ دار ہیں ہم لوگ؟
ایک مدت سے کھوج میں تیری
اپنے گھر سے فرار ہیں ہم لوگ
واعظان جہاں سمجھتے ہیں
خلد کے ٹھیکیدار ہیں ہم لوگ
عشق کے کا لجوں میں اے ناظم
آج کل لکچرار میں ہم لوگ

No comments:
Post a Comment