فکرِ آیندہ خطِ لوحِ جبیں پر رکھ دی
خُوئے تشکیک و گُماں طاقِ یقیں پر رکھ دی
حُسنِ ترتیب سے خالی رہا کمرا میرا
بے خیالی میں کوئی چیز کہیں پر رکھ دی
زندگی کا کوئی سارق نہ مجھے گردانے
میں نے جو چیز اُٹھائی تھی وہیں پر رکھ دی
حرفِ کُن کہہ کے مری میّتِ ہستی اُس نے
آسماں سے جو اُٹھائی تو زمیں پر رکھ دی
“ لَا “ کہا اور پھر “ اِلَّا “ سے کیا مستثنٰی
اُس نے اثبات کی بنیاد نہیں پر رکھ دی
جو اُٹھائی نہ گئی اہلِ فلک سے افضل
وہ امانت بھی مجھی خاک نشیں پر رکھ دی
افضل خاکسار
#urdupoetry #urdudeccan #اردودکن #اردو #شع
راء #birthday #پیدائش #شاعری #اردوشاعری #اردوغزل #urdugazal #urdu #poetrylover #poetry #rekhta#شاعر #غزل #gazal

No comments:
Post a Comment