Urdu Deccan

Thursday, January 28, 2021

احسان عباس

 یوم پیدائش 28 جنوری


زہر اب آب و ہوا کا تو نہیں پِینا ہے 

ہم کو زندان میں ڈالو کہ ہمیں جِینا ہے


ہے مٙرٙض ایک ہی کیا شہر کے انسانوں کو   

جو بھی مرتا ہے وہ کیوں تھامے ہوئے سِینہ ہے


وسعتِ عالمِ امکان ذرا سوچیں تو 

یہ زمیں اس میں فقط ایک قرنطِینہ ہے


اے خداوند اُتارو بھی کوئی اِسکا علاج 

یہ وہ گھاؤ ہے جو دنیا نے نہیں سِینا ہے


آؤ کچھ سیرِ سماوات ہی کر لیں احسان 

جانبِ عرش لگاؤ جو کوئی زینہ ہے


احسان عبّاس


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...