Urdu Deccan

Tuesday, June 15, 2021

قادر صدیقی

 تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھے

جب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھے


جب بھی کیا ارادۂ ترک تعلقات

کیا جانے کیوں وہ شوخ حسیں تر لگا مجھے


پرکھا تو ظلمتوں کے سوا اور کچھ نہ تھا

دیکھا تو ایک نور کا پیکر لگا مجھے


خود اپنی ذات پر بھی نہ رہ جائے اعتبار

اے وقت ہو سکے تو وہ نشتر لگا مجھے


کیا جانے کس جہان میں بستے ہیں نرم دل

میں نے جسے چھوا وہی پتھر لگا مجھے


اک مرتبہ ضرور نظر پھر سے اٹھ گئی

جو قد بھی تیرے قد کے برابر لگا مجھے


قسمت اسی کو کہتے ہیں پھولوں کی سیج پر

لیٹا جو میں تو کانٹوں کا بستر لگا مجھے


اس پھول کا کلیجہ ملا غم سے پاش پاش

جو پھول دیکھنے میں گل تر لگا مجھے


دل ہنس کے جھیل جائے یہ بات اور ہے مگر

چرکا تری نگاہ کا اکثر لگا مجھے


دنیا کا یہ نظام یہ معیار سیم و زر

کمتر لگا مجھے کبھی بد تر لگا مجھے


ان کی گلی کی بات ہی قادرؔ عجیب ہے

ہر شخص شعر فہم و سخنور لگا مجھے


قادر صدیقی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...