Urdu Deccan

Friday, July 16, 2021

محمد عارف


 جب بھی دے بھر کے دے خالی نہ دے جام اے ساقی

بادہ نوشی تو نہ کر مجھ پہ حرام اے ساقی


غم غلط کرنے کو، آیا ہوں تری محفل میں

دو گھڑی، تُو جو کہے، کر لوں قیام اے ساقی


پینے آتے ہیں، چلے جاتے ہیں، پی کر میخوار

کس کو میخانے نے بخشا ہے دوام اے ساقی


میکدے سے تجھے جانے کی پڑی ہے جلدی

جب کہ آیا بھی نہیں دَور میں جام اے ساقی


مے فروشی کے عوض تجھ کو وہاں خُلد مِلے

تیرا دنیا میں بھی ہو اُونچا مقام اے ساقی


کُھل کے آئی بھی نہیں رات ابھی جوبن پر

جلد کیوں ڈوب گیا ماہِ تمام اے ساقی


شیشہ و جام چھلکنے کو ہیں کب سے بیتاب

کر دے پِھر نام مِرے آج کی شام اے ساقی


محمد عارف

No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...