جب بھی دے بھر کے دے خالی نہ دے جام اے ساقی
بادہ نوشی تو نہ کر مجھ پہ حرام اے ساقی
غم غلط کرنے کو، آیا ہوں تری محفل میں
دو گھڑی، تُو جو کہے، کر لوں قیام اے ساقی
پینے آتے ہیں، چلے جاتے ہیں، پی کر میخوار
کس کو میخانے نے بخشا ہے دوام اے ساقی
میکدے سے تجھے جانے کی پڑی ہے جلدی
جب کہ آیا بھی نہیں دَور میں جام اے ساقی
مے فروشی کے عوض تجھ کو وہاں خُلد مِلے
تیرا دنیا میں بھی ہو اُونچا مقام اے ساقی
کُھل کے آئی بھی نہیں رات ابھی جوبن پر
جلد کیوں ڈوب گیا ماہِ تمام اے ساقی
شیشہ و جام چھلکنے کو ہیں کب سے بیتاب
کر دے پِھر نام مِرے آج کی شام اے ساقی
محمد عارف

No comments:
Post a Comment