Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

بھار تیندو ہریش وردھن

 یوم پیدائش 09 سپتمبر 1850


بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی

افسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئی


ارمان وصل یوں ہی رہا سو گئے نصیب

جب آنکھ کھل گئی تو یکایک سحر ہوئی


دل عاشقوں کے چھد گئے ترچھی نگاہ سے

مژگاں کی نوک دشمن جانی جگر ہوئی


پچھتاتا ہوں کہ آنکھ عبث تم سے لڑ گئی

برچھی ہمارے حق میں تمہاری نظر ہوئی


چھانی کہاں نہ خاک نہ پایا کہیں تمہیں

مٹی مری خراب عبث در بدر ہوئی


دھیان آ گیا جو شام کو اس زلف کا رساؔ

الجھن میں ساری رات ہماری بسر ہوئی


بھارتیندو ہریش چندر


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...