یوم پیدائش 09 سپتمبر 1850
بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی
افسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئی
ارمان وصل یوں ہی رہا سو گئے نصیب
جب آنکھ کھل گئی تو یکایک سحر ہوئی
دل عاشقوں کے چھد گئے ترچھی نگاہ سے
مژگاں کی نوک دشمن جانی جگر ہوئی
پچھتاتا ہوں کہ آنکھ عبث تم سے لڑ گئی
برچھی ہمارے حق میں تمہاری نظر ہوئی
چھانی کہاں نہ خاک نہ پایا کہیں تمہیں
مٹی مری خراب عبث در بدر ہوئی
دھیان آ گیا جو شام کو اس زلف کا رساؔ
الجھن میں ساری رات ہماری بسر ہوئی
بھارتیندو ہریش چندر

No comments:
Post a Comment