یوم پیدائش 09 سپتمبر 1927
ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہوگا
خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہوگا
بنام فصل بہاراں خزاں کی پوجا ہے
یہی مذاق گلستاں رہا تو کیا ہوگا
دھواں سا اٹھنے لگا دل سے اہل محفل میں
نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہوگا
تمہارے شہر میں آئے ہیں اہل غربت پھر
اس آس پر کہ کوئی درد آشنا ہوگا
جرس ہے ان کا صدا ان کی کارواں ان کے
سوائے گرد سفر میرے پاس کیا ہوگا
کبھی نہ عہد جنوں میں کسی نے سوچا تھا
خرد کا دور بہت صبر آزما ہوگا
نسیمؔ ہم سے ہے زندہ جہاں میں نام وفا
ہمارے بعد زمانہ بدل چکا ہوگا
وحیدہ نسیم

No comments:
Post a Comment