Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

وحیدہ نسیم

 یوم پیدائش 09 سپتمبر 1927


ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہوگا

خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہوگا


بنام فصل بہاراں خزاں کی پوجا ہے

یہی مذاق گلستاں رہا تو کیا ہوگا


دھواں سا اٹھنے لگا دل سے اہل محفل میں

نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہوگا


تمہارے شہر میں آئے ہیں اہل غربت پھر

اس آس پر کہ کوئی درد آشنا ہوگا


جرس ہے ان کا صدا ان کی کارواں ان کے

سوائے گرد سفر میرے پاس کیا ہوگا


کبھی نہ عہد جنوں میں کسی نے سوچا تھا

خرد کا دور بہت صبر آزما ہوگا


نسیمؔ ہم سے ہے زندہ جہاں میں نام وفا

ہمارے بعد زمانہ بدل چکا ہوگا


وحیدہ نسیم


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...