Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

فرزانہ اعجاز

 یوم پیدائش 10 سپتمبر 1947


ابھی تک یاد ہے مجھ کو مرا سرشار ہو جانا

نظر کا ناگہاں اٹھنا ترا دیدار ہو جانا


مری ہستی کا حاصل بن گیا وہ قیمتی لمحہ

وہ اک ٹک دیکھنا ان کا مرا گلنار ہو جانا


وہی لمحہ غنیمت جانیے جو ہنس کے کٹ جائے

سکوں کھونا ہے یکسر زندگی کا بار ہو جانا


ابھی کل کھیلتے پھرتے تھے آنکھیں میچ کر ہم تم

تمہیں سے پڑ رہا ہے اب ہمیں ہشیار ہو جانا


نئی خواہش ہر اک لمحہ تمنا چاند چھونے کی

ہمکنا دل کا سینے میں مرا بیزار ہو جانا


نہ دل میں جذبۂ ایماں نہ سودا سرفروشی کا

تو پھر کیوں چاہتے ہو آگ کا گلزار ہو جانا


دبی ہے پھر کوئی صحن چمن میں آج چنگاری

جو تم جانا گلستاں میں ذرا ہشیار ہو جانا


جو دل کا امتحاں چاہو تو پھر کچا گھڑا لا دو

وفا میں ڈوب جانا ہے ندی کے پار ہو جانا


کہاں تک ساتھ دے گا جذبۂ ایثار فرزانہؔ

لہو دینا چمن کو اور پس دیوار ہو جانا


فرزانہ اعجاز


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...