یوم پیدائش 10 سپتمبر 1947
ابھی تک یاد ہے مجھ کو مرا سرشار ہو جانا
نظر کا ناگہاں اٹھنا ترا دیدار ہو جانا
مری ہستی کا حاصل بن گیا وہ قیمتی لمحہ
وہ اک ٹک دیکھنا ان کا مرا گلنار ہو جانا
وہی لمحہ غنیمت جانیے جو ہنس کے کٹ جائے
سکوں کھونا ہے یکسر زندگی کا بار ہو جانا
ابھی کل کھیلتے پھرتے تھے آنکھیں میچ کر ہم تم
تمہیں سے پڑ رہا ہے اب ہمیں ہشیار ہو جانا
نئی خواہش ہر اک لمحہ تمنا چاند چھونے کی
ہمکنا دل کا سینے میں مرا بیزار ہو جانا
نہ دل میں جذبۂ ایماں نہ سودا سرفروشی کا
تو پھر کیوں چاہتے ہو آگ کا گلزار ہو جانا
دبی ہے پھر کوئی صحن چمن میں آج چنگاری
جو تم جانا گلستاں میں ذرا ہشیار ہو جانا
جو دل کا امتحاں چاہو تو پھر کچا گھڑا لا دو
وفا میں ڈوب جانا ہے ندی کے پار ہو جانا
کہاں تک ساتھ دے گا جذبۂ ایثار فرزانہؔ
لہو دینا چمن کو اور پس دیوار ہو جانا
فرزانہ اعجاز

No comments:
Post a Comment