Urdu Deccan

Friday, November 12, 2021

نظیر صدیقی

 یوم پیدائش 07 نومبر 1930


ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں

کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں


مجرم ہیں سارے اہل وفا تیرے شہر میں

کیا خوب ہے وفا کا صلہ تیرے شہر میں


اہل ہوس کے نام سے ہیں روشناس خلق

ملتی ہے جن کو داد وفا تیرے شہر میں


رکھتے ہیں لوگ تہمتیں اپنے نصیب پر

کرتے ہیں یوں بھی تیرا گلا تیرے شہر میں


اپنوں پہ اعتماد نہ غیروں پہ اعتماد

یہ کیسی چل پڑی ہے ہوا تیرے شہر میں


ہوتا ہے کس مرض کا مداوا ترے یہاں

ملتی ہے کس مرض کی دوا تیرے شہر میں


رکھتے ہیں ہر جزا کو قیامت پہ منحصر

دیتے ہیں ہر خطا کی سزا تیرے شہر میں


نظیر صدیقی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...