یوم پیدائش 07 نومبر 1930
ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں
مجرم ہیں سارے اہل وفا تیرے شہر میں
کیا خوب ہے وفا کا صلہ تیرے شہر میں
اہل ہوس کے نام سے ہیں روشناس خلق
ملتی ہے جن کو داد وفا تیرے شہر میں
رکھتے ہیں لوگ تہمتیں اپنے نصیب پر
کرتے ہیں یوں بھی تیرا گلا تیرے شہر میں
اپنوں پہ اعتماد نہ غیروں پہ اعتماد
یہ کیسی چل پڑی ہے ہوا تیرے شہر میں
ہوتا ہے کس مرض کا مداوا ترے یہاں
ملتی ہے کس مرض کی دوا تیرے شہر میں
رکھتے ہیں ہر جزا کو قیامت پہ منحصر
دیتے ہیں ہر خطا کی سزا تیرے شہر میں
نظیر صدیقی
No comments:
Post a Comment