یوم پیدائش 15 دسمبر 1950
قدم قدم پہ چراغ وفا جلا کے چلے
تمہارے عشق میں دنیا کے غم بھلا کے چلے
سنانے آئے تھے قصہ جفا شعاری کا
کہ چوٹ دل پہ نئی ایک اور کھا کے چلے
سخن جو ہم نے لکھے تھے تری محبت میں
سر صلیب، ہمی تھے جو گنگنا کے چلے
وہ میکدے کا ہو رستہ کہ جادۂ مقتل
ہمی حیات کی ہر رہ پہ مسکرا کے چلے
یہ زخم ہائے محبت ہیں تمغۂ جاناں
تبھی تو سینے پہ اپنے انہیں سجا کے چلے
ہمراز نیر
No comments:
Post a Comment