Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

ہمراز نیر

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1950


قدم قدم پہ چراغ وفا جلا کے چلے

تمہارے عشق میں دنیا کے غم بھلا کے چلے


سنانے آئے تھے قصہ جفا شعاری کا

کہ چوٹ دل پہ نئی ایک اور کھا کے چلے


سخن جو ہم نے لکھے تھے تری محبت میں

سر صلیب، ہمی تھے جو گنگنا کے چلے


وہ میکدے کا ہو رستہ کہ جادۂ مقتل

ہمی حیات کی ہر رہ پہ مسکرا کے چلے


یہ زخم ہائے محبت ہیں تمغۂ جاناں

تبھی تو سینے پہ اپنے انہیں سجا کے چلے


ہمراز نیر


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...