زمین و آسماں، خورشید اور تاروں کا کیا ہو گا
قیامت جب گزر جائے گی سیاروں کا کیا ہو گا
قبا پھولوں کی اوڑھے شاخ پر کانٹوں کا قبضہ ہے
یہی چلتا رہا تو پھر چمن زاروں کا کیا ہو گا
نگاہیں پھیر لی ہیں اب تو الفت کے طبیبوں نے
خدا جانے کہ آگے عشق کے ماروں کا کیا ہو گا
رقم کرنے سے پہلے کیا کبھی سوچا بھی ہے تم نے
فسانہ ختم ہو جانے پہ کرداروں کا کیا ہو گا
سجا ہو خوب میخانہ، ہوں رقصاں جام و پیمانہ
رہے نامہرباں ساقی تو میخواروں کا کیا ہو گا
تم اپنی جیب بھرنے کی تگ و دو میں رہو ہر دم
یہ مت سوچو غریبوں اور لاچاروں کا کیا ہو گا
اگر بے دخل کر دے کوئی حاکم کو حکومت سے
تو پھر اے شاد اس کے ناز برداروں کا کیا ہو گا
شمشاد شاد
No comments:
Post a Comment