Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

منظور حسین شور

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1916


نہ نشاط چارہ سازی نہ ملال کم نگاہی

مجھے اس نظر نے مارا بے گناہ بے گناہی


سر انجمن غنیمت ہے بتوں کی کم نگاہی

کہ سکون دل پہ آتی ہے نظر سے بھی تباہی


یہ سیاست بہاراں ہے خزاں کی بے پناہی

کہ جو جل اٹھے نشیمن تو چمن نہ دے گواہی


تری انجمن سے باہر کئی آفتاب نکلے

نہ دھلی کسی سحر سے کسی رات کی سیاہی


ترے شہر سے نکلتے ہی مزاج دہر لا ہی

نہ وہ ربط شبنم و گل نہ وہ باد صبح گاہی


ترے شہر آرزو میں یوں ہی کٹ گئی ہیں راتیں

نہ جنوں کی آنکھ جھپکی نہ خرد نے لی جماہی


دئے تیری رہ گزاروں کے جہاں جہاں جلے ہیں

نہ چراغ بت کدہ ہے نہ چراغ خانقاہی


نہ صنم کدے کی منزل نہ حرم کا آستانہ

وہ نظر جہاں اٹھی ہے وہیں رک گئے ہیں راہی


کوئی شورؔ یہ تو پوچھے در و بام خسروی سے

یہ لہو سے کس کے روشن ہے چراغ کج کلاہی


منظور حسین شور


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...