یوم پیدائش 15 دسمبر 1916
نہ نشاط چارہ سازی نہ ملال کم نگاہی
مجھے اس نظر نے مارا بے گناہ بے گناہی
سر انجمن غنیمت ہے بتوں کی کم نگاہی
کہ سکون دل پہ آتی ہے نظر سے بھی تباہی
یہ سیاست بہاراں ہے خزاں کی بے پناہی
کہ جو جل اٹھے نشیمن تو چمن نہ دے گواہی
تری انجمن سے باہر کئی آفتاب نکلے
نہ دھلی کسی سحر سے کسی رات کی سیاہی
ترے شہر سے نکلتے ہی مزاج دہر لا ہی
نہ وہ ربط شبنم و گل نہ وہ باد صبح گاہی
ترے شہر آرزو میں یوں ہی کٹ گئی ہیں راتیں
نہ جنوں کی آنکھ جھپکی نہ خرد نے لی جماہی
دئے تیری رہ گزاروں کے جہاں جہاں جلے ہیں
نہ چراغ بت کدہ ہے نہ چراغ خانقاہی
نہ صنم کدے کی منزل نہ حرم کا آستانہ
وہ نظر جہاں اٹھی ہے وہیں رک گئے ہیں راہی
کوئی شورؔ یہ تو پوچھے در و بام خسروی سے
یہ لہو سے کس کے روشن ہے چراغ کج کلاہی
منظور حسین شور
No comments:
Post a Comment