یوم پیدائش 06 جنوری 1773
کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے
پھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے
جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے
اندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے
بے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے
خورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے
ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ
بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے
کس چاک گریباں کا کیا آپ نے ماتم
کپڑے بھی نہیں تم نے اتارے کئی دن سے
دیوانہ ہے سودائی ہے فرماتے ہیں اکثر
ان ناموں سے جاتے ہیں پکارے کئی دن سے
دل پھنس گیا ہے آپ کی زلفوں میں ہمارا
ہیں بندۂ بے دام تمہارے کئی دن سے
منہ گال پے رکھ دیتے ہیں سوتے میں چمٹ کر
کچھ کچھ تو حیا کم ہوئی بارے کئی دن سے
مہندی بھی ہے مسی بھی ہے لاکھا بھی ہے لب پر
کچھ رنگ ہیں بے رنگ تمہارے کئی دن سے
ڈر سے ترے کاکل کے نہیں چلتے ہیں رستہ
دم بند ہیں اس سانپ کے مارے کئی دن سے
آخر مری آہوں نے اثر اپنا دکھایا
گھبرائے ہوئے پھرتے ہو پیارے کئی دن سے
کس کشتۂ کاکل کا رکھا سوگ مری جاں
گیسو نہیں کیوں تم نے سنوارے کئی دن سے
پامال کرو گے کسی وارفتہ کو اپنے
اٹکھیلیاں ہیں چال میں پیارے کئی دن سے
اک شب مرے گھر آن کے مہمان رہے تھے
آئے نہیں اس شرم کے مارے کئی دن سے
پھر شوقؔ سے کیا اس بت عیار سے بگڑی
ہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے
مرزا شوقؔ لکھنوی
No comments:
Post a Comment