Urdu Deccan

Saturday, January 8, 2022

مرزا شوقؔ لکھنوی

 یوم پیدائش 06 جنوری 1773


کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے

پھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے


جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے

اندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے


بے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے

خورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے


ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ

بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے


کس چاک گریباں کا کیا آپ نے ماتم

کپڑے بھی نہیں تم نے اتارے کئی دن سے


دیوانہ ہے سودائی ہے فرماتے ہیں اکثر

ان ناموں سے جاتے ہیں پکارے کئی دن سے


دل پھنس گیا ہے آپ کی زلفوں میں ہمارا

ہیں بندۂ بے دام تمہارے کئی دن سے


منہ گال پے رکھ دیتے ہیں سوتے میں چمٹ کر

کچھ کچھ تو حیا کم ہوئی بارے کئی دن سے


مہندی بھی ہے مسی بھی ہے لاکھا بھی ہے لب پر

کچھ رنگ ہیں بے رنگ تمہارے کئی دن سے


ڈر سے ترے کاکل کے نہیں چلتے ہیں رستہ

دم بند ہیں اس سانپ کے مارے کئی دن سے


آخر مری آہوں نے اثر اپنا دکھایا

گھبرائے ہوئے پھرتے ہو پیارے کئی دن سے


کس کشتۂ کاکل کا رکھا سوگ مری جاں

گیسو نہیں کیوں تم نے سنوارے کئی دن سے


پامال کرو گے کسی وارفتہ کو اپنے

اٹکھیلیاں ہیں چال میں پیارے کئی دن سے


اک شب مرے گھر آن کے مہمان رہے تھے

آئے نہیں اس شرم کے مارے کئی دن سے


پھر شوقؔ سے کیا اس بت عیار سے بگڑی

ہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے


مرزا شوقؔ لکھنوی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...