یوم پیدائش 04 جنوری1966
شکایت کیا، گلہ کیا دشمنی کیا
رہا ہے تجھ سے میرا کچھ کبھی کیا
خلوص و مہر سب سے غمگساری
مجھی میں رہ گئی ہے ہر کمی کیا
جہاں میں دوسری اس جیسی صورت
کوئی تصویر تمثیلی ملی کیا
مری باتوں سے اس درجہ تغافل
کبھی میں نے بھی کی ہے ان سنی کیا
یہ کہہ دیں دل پہ اپنے ہاتھ رکھ کر
ضرورت آپ کو میری بھی تھی کیا
وہ کیا رخصت ہوئے اس زندگی سے
مسرت ہوگئی تو بھی سَتی کیا
غزل میری سنی ہوں گی کسی سے
مرے منہ سے سنی، اچھی لگی کیا
یہی ہے خانہ ویرانی کا باعث
محبت کی سمجھ اب آ گئی کیا
ُاگا کر فصل دہقاں مر رہے ہیں
نہیں ہے بخت میں روٹی لکھی کیا
محبت تھی جو اُس سے پہلے عازم
کہانی بھولی بسری ہو گئی کیا
مسرت حسین عازم
No comments:
Post a Comment