یوم پیدائش 04 جنوری 1973
یہ صبح و شام بندش ِ دیوارودر ہے کیا
یعنی حصار ِ خاک میں رہنا ہی گھر ہے کیا
وہ آنکھ کیا ہے اس کا تکلف نہ پوچھیے
شب کا ہے موج میلہ ردائے سحر ہے کیا
اب بھی کسی منڈیر پہ جلتے ہیں کیا چراغ
اب بھی کسی کی آنکھ سر ِ رہگزر ہے کیا
موج رواں میں تشنہ لبی کا یہ کیسا خوف
تو ساتھ ہے تو دل میں بچھڑنے کا ڈر ہے کیا
دیکھے ہوئے سے لوگ یہ منظر یہ راستے
اس خاک میں سفر مرا بار ِ دگر ہے کیا
گردش میں میں ہوں یا کہ ستاروں کا جال ہے
میں چاک پر نہیں ہوں تو پھر چاک پر ہے کیا
اب بھی تو مجھ سے دور بہت دور ہے کہیں
چاروں طرف یہ پھیلتی خوشبو مگر ہے کیا
کس روشنی سے باندھ کے رکھا ہے خواب کو
نیندوں کے راستے میں بھی رہزن کا ڈر ہے کیا
کس کی نظر سے خود کو بچانے لگے سہیل
اب بھی کسی ہجوم کو آنا ادھر ہے کیا
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment