یوم پیدائش 09 جنوری 1954
یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے
جو آدمی ہے الگ داستاں بناتا ہے
شکست کرتا ہے زنجیر خانہ و محراب
اور ایک حلقۂ آوارگاں بناتا ہے
گل وجود سے کرتا ہے کسب کوزۂ جاں
خمار سود میں لیکن زیاں بناتا ہے
کمال بے خبری ہے اگر بہم ہو جائے
مگر یہ زیست کو آساں کہاں بناتا ہے
پس چراغ ارادہ کوئی تو ہے آذرؔ
جو میرے شعلۂ دل کو دھواں بناتا ہے
آذر تمنا
No comments:
Post a Comment