Urdu Deccan

Wednesday, January 12, 2022

آذر تمنا

 یوم پیدائش 09 جنوری 1954


یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے

جو آدمی ہے الگ داستاں بناتا ہے


شکست کرتا ہے زنجیر خانہ و محراب

اور ایک حلقۂ آوارگاں بناتا ہے


گل وجود سے کرتا ہے کسب کوزۂ جاں

خمار سود میں لیکن زیاں بناتا ہے


کمال بے خبری ہے اگر بہم ہو جائے

مگر یہ زیست کو آساں کہاں بناتا ہے


پس چراغ ارادہ کوئی تو ہے آذرؔ

جو میرے شعلۂ دل کو دھواں بناتا ہے


آذر تمنا


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...