فتنے اٹھیں گے تو پیغام تباہی دیں گے
اور تاریک فضاؤں کو سیاہی دیں گے
آپ چاہیں تو ہمیں بھول بھی جائیں لیکن
حال دل ہم تو کسی روز سنا ہی دیں گے
صرف اپنوں کی شرارت ہے تباہی میں یہاں
آپ کس کس کو یہ الزام تباہی دیں گے
بے نیازی کا یہ عالم ہے تو ایک دن چشمہ
میرے دل کو وہ تڑپ صورت ماہی دیں گے

No comments:
Post a Comment