Urdu Deccan

Friday, March 25, 2022

رئیس انصاری

 یوم پیدائش 20 مارچ 1951


کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے 

بزرگ زندہ رہیں آسماں رہے نہ رہے 


کوئی تو دے گا صدا حرف حق کی دنیا میں 

ہمارے منہ میں ہماری زباں رہے نہ رہے 


ہمیں تو پڑھنا ہے میدان جنگ میں بھی نماز 

مؤذنوں کے لبوں پر اذاں رہے نہ رہے 


ہمیں تو لڑنا ہے دنیا میں ظالموں کے خلاف 

قلم رہے کوئی تیر و کماں رہے نہ رہے 


یہ اقتدار کے بھوکے یہ رشوتوں کے وزیر 

بلا سے ان کا یہ ہندوستاں رہے نہ رہے 


خدا کرے گا سمندر میں رہنمائی بھی 

یہ ناؤ باقی رہے بادباں رہے نہ رہے


رئیس انصاری


شیر سنگھ ناز دہلوی

 یوم وفات 19 مارچ 1962


دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

جہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہا


چلی جو کشتئ عمر رواں تو چلنے دی

رکی تو کشتئ عمر رواں سے کچھ نہ کہا


خطائے عشق کی اتنی سزا ہی کافی تھی

بدل کے رہ گئے تیور زباں سے کچھ نہ کہا


بلا سے خاک ہوا جل کے آشیاں اپنا

تڑپ کے رہ گئے برق تپاں سے کچھ نہ کہا


گلہ کیا نہ کبھی ان سے بے وفائی کا

زباں تھی لاکھ دہن میں زباں سے کچھ نہ کہا


خوشی سے رنج سہے نازؔ عمر بھر ہم نے

خدا گواہ کبھی آسماں سے کچھ نہ کہا


شیر سنگھ ناز دہلوی


جعفر طاہر

 یوم پیدائش 19 مارچ 1917


چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویا

رات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویا


ذکر تھا کوچہ و بازار کے ہنگاموں کا

جانے کیا سوچ کے وہ یوسف ثانی رویا


غیرت عشق نے کیا کیا نہ بہائے آنسو

سن کے باتیں تری غیروں کی زبانی رویا


جب بھی دیکھی ہے کسی چہرے پہ اک تازہ بہار

دیکھ کر میں تری تصویر پرانی رویا


چشم ارباب وفا ہے جو لہو روتی ہے

غیر پھر غیر ہے رویا بھی تو پانی رویا


تیری مہکی ہوئی سانسوں کی لویں یاد آئیں

آج تو دیکھ کے میں صبح سہانی رویا


اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا

دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا


جعفر طاہر


نصیر وارثی

 یوم پیدائش 17 مارچ 1962


میں روز صحن سے پتے سمیٹتا جاؤں

لگا گیا ہے کوئی اک شجر اداسی کا


نصیر وارثی


واقف اروی

 یوم پیدائش 18مارچ 1916


اچھی نہیں ہمیشہ حقیقت کی بات چیت

کرتے ہیں لوگ اس سے شرارت کی بات چیت


مومن ہلاک لذت افطار ہو گیا

لیکن زباں پہ اس کی ہے جنت کی بات چیت


وہ آئے جب تو بحث کا نقشہ بدل گیا

کل سے چھڑی ہوئی تھی حماقت کی بات چیت


ہر روزہ دار مفتی اسلام ہوگیا

ہر مسئلہ میں کرتا ہے جنت کی بات چیت


روزہ میں کھل کے ہوتی ہے دو مفتیوں میں جنگ

اور اس کے بعد صاف جہالت کی بات چیت


 کرتے ہیں ضبط غصہ کو دونوں بجبر وقہر

رہ جاتی ہے ادھوری شجاعت کی بات چیت


مغرب کے بعد چھڑتی ہے پھر ٹھنڈی ٹھنڈی جنگ

ہوتی ہے سرد سرد امامت کی بات چیت


ایسے بھی خال خال ہیں جن سے اگر ملو

کرتے ہیں کچھ شگفتہ طبیعت کی بات چیت


رکھتے ہیں وہ بلندئ گفتار فطرتاً

شکوے کا شائبہ نہ شکایت کی بات چیت


دشمن کے نام کو بھی وہ لیتے ہیں اس طرح

اڑ جاتی ہے ہوا میں عداوت کی بات چیت


اور ایسے روزہ دار بھی ملتے ہیں صبح وشام

ہوتی ہے جن کے انس میں وحشت کی بات چیت


ذکر عذاب قبر زباں پر ہے رات دن

ملتے ہی چھیڑتے ہیں قیامت کی بات چیت


واقف آروی



مختار مشرقی

 یوم پیدائش 17 مارچ 1953


فلک پہ مہرِ درخشاں ، زمیں پہ کھلتے گلاب

ہمارے حال پہ تادیر مسکرا نہ سکے


مختار مشرقی


کلیم فیض آبادی

 یوم پیدائش 17 مارچ 1909


کچھ ایسی محبت ہے ہمیں گنگ و جمن سے

مرکر بھی جدا ہوں گے نہ ہم اپنے وطن سے

جلنے پہ بھی ہر بار بنائیں گے نشیمن

حق دارِ چمن جا نہیں سکتے ہیں چمن سے


کلیم فیض آبادی


اشفاق اسانغنی

 یوم پیدائش 16 مارچ 1972


اب کون زندگی کا طلبگار ہے یہاں

ہر شخص خود سے برسر پیکار ہے یہاں


رشتوں کی پاسداری رکھے کون دہر میں

جب آدمی سے آدمی بیزار ہے یہاں


اپنی جڑوں کو کھوجتے گزری تمام عمر

پھل پھول کی تو بات ہی بیکار ہے یہاں


دستار کی فضیلتیں اپنی جگہ مگر

بے سر کا آدمی بھی سر دار ہے یہاں


سانسوں سے رشتہ توڑ لیا تو نے تو مگر

اب کون زندگی ترا غمخوار ہے یہاں


ساقی نہ تیرے جام و سبو معتبر رہے

ہوش و حواس میں ابھی میخوار ہے یہاں


تنہا سفر کی جھیل نہ پائے صعوبتیں

پھر آدمی کو قافلہ درکار ہے یہاں


چہرے چھپائے پھرتے مکھوٹوں سے ہیں سبھی

اب کون شخص آئینہ بردار ہے یہاں


اشفاق فکر کون ترا دیکھتا ہے اب

بے بحر شاعری میاں شہکار ہے یہاں


اشفاق اسانغنی


واجدہ تبسم

 یوم پیدائش 16 مارچ 1935


اٹھ کے محفل سے مت چلے جانا 

تم سے روشن یہ کونا کونا ہے


واجدہ تبسم 


غزل


مہماں ہوۓ ہیں آج وہ گھر مدتوں کے بعد 

آہوں میں آگیا ہے اثر مدتوں کے بعد 


پوشیدہ ان کو رکھا ہے پتلی میں آنکھ کی 

دیکھا ہے ان کو بارِ دگر مدتوں کے بعد 


معکوس آئینہ بھی ہے قلب و نظر بھی ہیں

 دیکھی گئ ہے ایسی نظر مدتوں کے بعد 


واجدہ تبسمؔ


سیّد خورشید سہسرامی

یوم پیدائش 16 مارچ 1998

فدائی جو شہ ابرار کے ہیں
وہی اعلیٰ ہوئے افکار کے ہیں

وہ کیسے جائیں گے دوزخ میں دیکھو
ہوئے جو مالک و مختار کے ہیں

کہ ان کی سنتوں کا ہے یہ صدقہ
" عدو قائل مرے ایثار کے ہیں "

کہ وہ مقبول لہجہ ہو گیا ہے
جو عادی سنتِ سرکار کے ہیں

گئے جو عرش سے یوں لامکاں تک
کہ چرچے بس اسی رفتار کے ہیں

زمانہ دیکھ لے اب ان کا رتبہ
مہ و انجم فدا رخسار کے ہیں

جو ہیں;خورشید؛ دنیا میں اجالے
انہیں کے رحمت و انوار کے ہیں

 سیّد خورشید سہسرامی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...