Urdu Deccan

Friday, September 23, 2022

جاوید شاھد

یوم پیدائش 12 سپتمبر 1958

یوں زندگی سے خواب جزیروں میں آگئے 
حرماں نصیب جیسے اسیروں میں آگئے

جن کی رگوں کے خون سے فن کو جلا ملی
وہ کوزہ گر چمن کے حقیروں میں آگئے

ان سے متاع دین بھی دنیا بھی چھن گئی
جن کے ضمیر زر کی لکیروں میں آ گئے

تیرے لئے تو تج دئیے سب تخت و تاج بھی 
شاھی کو چھوڑا ہم نے فقیروں میں آگئے

ہے روشنی بھی ساتھ تو صوت ازاں بھی ہے
شاھد جی جب سے زندہ ضمیروں میں آ گئیے

جاوید شاھد



پرویز عالم

یوم پیدائش 12 سپتمبر 1993

آپ کے صدقے میں رب نے دو جہاں پیدا کیے
دونوں عالم پر ہے قائم حکمرانی آپ کی

پرویز عالم



مہ جبین غزال

یوم پیدائش 11 سپتمبر

اس سے بڑھ کے ہو بدنصیبی کیا
 اس نے پا کر گنوا لیا ہے مجھے

مہ جبین غزال



ضرر وصفی

یوم پیدائش 11 سپتمبر 1938
رباعی 
ہر کرب کو لفظوں میں سمودیتا ہوں
قطرے میں سمندر کو ڈبو دیتا ہوں
لو شمع صداقت کی جو تھراتی ہے
مانند حسینؓ اپنا لہو دیتا ہوں

ضرر وصفی



اکرم سحر فارانی

یوم پیدائش 11 سپتمبر 1959

ناؤ طوفاں میں ہے ٹوٹے ہوئے پتوار کے ساتھ
دشمنی بھی ہے اَزل سے مری منجدھار کے ساتھ

راہِ منزل میں مرا عزم اکیلا تو نہیں
راستہ بھی ہے سفر میں مرے رہوار کے ساتھ

منزلیں اُس کے قدم چوم لیا کرتی ہیں
جو مسافر بھی چلے وقت کی رفتار کے ساتھ

آگ برسی تو پرندوں کے ٹھکانے بھی گئے
جل بُجھے گھونسلے جلتے ہوئے اشجار کے ساتھ

بیج نفرت کے کہاں باغ میں بوتا ہے کوئی
جھاڑیاں خود ہی اُگا کرتی ہیں اشجار کے ساتھ

شاہی دربار جو پہنچے وہ زباں بیچ گئے
کون پہنچا ہے وہاں جرأتِ اِظہار کے ساتھ

وقت کے شمر سے کہہ دو کہ خبردار رہے
جھُک نہیں سکتا یہ سر جائے گا دستار کے ساتھ

وعدہ تنہائی میں ملنے کا وفا ہو کیسے
دونوں جانب تو فرشتے ہیں گنہگار کے ساتھ

پوچھ کر حال سبھی دوست چلے جاتے ہیں
رات بھر کوئی نہیں جاگتا بیمار کے ساتھ

آئے کچھ دوست مرے دل کے مدینے میں نئے
یعنی دو چار مہاجر بھی ہیں انصار کے ساتھ

جان بھی ٹیکس میں دے دوں گا میں ہاروں گا نہیں
میں نے یہ شرط لگا رکھی ہے سرکار کے ساتھ

لوگ سمجھے مرے کمرے میں ہے موجود کوئی
میں نے تصویر لگا رکھی تھی دیوار کے ساتھ

یوں نبھائی ہے سحرؔ رسمِ وفا گُلشن میں
پھول جس طرح نبھاتا ہے کسی خار کے ساتھ

اکرم سحر فارانی


 

عرفان صدیقی

یوم پیدائش 11 سپتمبر 1939

اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے

جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے

کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے

عرفان صدیقی 



شان بھارتی

یوم پیدائش 11 سپتمبر 1947

پڑی وہ زد کہ نگاہوں کا حوصلہ ٹوٹا 
تمہارے عکس کی جھلمل سے آئنہ ٹوٹا 

زمین شق ہوئی آنکھوں میں بھر گیا سورج 
ہمارے سر پہ اچانک وہ حادثہ ٹوٹا 

گجر کا شور اذاں کی پکار کیا کہئے 
خدا سے میرے تکلم کا سلسلہ ٹوٹا 

ہماری فکر حد آسماں سے آگے تھی 
مگر کبھی نہ روایت سے واسطہ ٹوٹا 

تغیرات کی رو کب رکی ہے روکے سے 
ہر ایک دور میں لمحوں کا زاویہ ٹوٹا

شان بھارتی



امان اللہ خاں سیفی

یوم پیدائش 09 سپتمبر 1990
صلی اللہ علیہ وسلم 

حُسینی ہو کے بھی اتنا ہنر نہیں آتا
کہ ضبطِ اشک کو بس یاں گزر نہیں آتا 

بصارتوں کا تِری نَقص یہ نہیں تو کیا؟
نظر حسین کا سر نیزے پر نہیں آتا؟

یہ بات طے ہے کہ وہ آنکھ ہی یزیدی ہے
لہو حسین کا جس کو نظر نہیں آتا

دیے بجھا کے کہے قافلے کا رہبر بھی
حسینی لوٹ کے تو کوئی گھر نہیں آتا 

ہزارہا سے لڑے اس طرح بَہَتٌر ہیں
کہ ذکر بے دلی کا مختصر نہیں آتا 

حسینی فلسفہ جس کو سمجھ نہیں آتا
سمجھ لے لاکھ وہ حق پر ہے، پر نہیں آتا!

غَمِ حسین منائے جو مصطفیٰ کی طرح
مجھے پھر اس سے نظر معتبر نہیں آتا

اگرچہ سیکھنا تو تھا حسینیت کا سبق
غَمِ حسین ہی پر سیکھ کر نہیں آتا !!

امان اللہ خاں سیفی



فیصل راجہ

یوم پیدائش 09 سپتمبر 

کیا تماشا دکھا رہی ہے مجھے
عمر بڑھ کر گھٹا رہی ہے مجھے

تم زمانے کی رونقوں میں گم
اور تنہائی کھا رہی ہے مجھے

میں جدا تجھ سے ہو چکا لیکن
تیری چاہت نبھا رہی ہے مجھے

اک لرزتا ہوا چراغ ہوں میں
سانس میری بجھا رہی ہے مجھے

اے انا تیرے مشورے کیا ہیں
خود پرستی سکھا رہی ہے مجھے

مجھ سے تیری یہ بے حسی فیصل
دیکھ پتھر بنا رہی ہے مجھے

فیصل راجہ


 

آل احمد سرور

یوم پیدائش 09 سپتمبر 1911

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی
آئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھی

ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکا
یوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی

یاں تشنہ کامیاں تو مقدر ہیں زیست میں
ملتی ہے حوصلے کے برابر کبھی کبھی

آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں
دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی کبھی

منزل کی جستجو میں جسے چھوڑ آئے تھے
آتا ہے یاد کیوں وہی منظر کبھی کبھی

مانا یہ زندگی ہے فریبوں کا سلسلہ
دیکھو کسی فریب کے جوہر کبھی کبھی

یوں تو نشاط کار کی سرشاریاں ملیں
انجام کار کا بھی رہا ڈر کبھی کبھی

دل کی جو بات تھی وہ رہی دل میں اے سرورؔ 
کھولے ہیں گرچہ شوق کے دفتر کبھی کبھی

آل احمد سرور



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...