حلول کر نہیں سکتا تو پھر حلاوت دے
مجھےطواف نہیں وصل کی سہولت دے
مدار قید ہے گردش سے تنگ آگیا ہوں
طواف چھوڑ کے آؤں مجھے اجازت دے
درشت لہجے میں خود سے کلام کر یارم
لذیذ لہجے سے خود کو بھی تھوڑی لذت دے
ہے اک اسیر جو تیری اسیری میں خوش ہے
مگر یہ چاہتا ہے تو اسے حکومت دے
درخت پھل کے عوض بس توجہ چاہتا ہے
اجیر کہتا ہے آجر سے میری اجرت دے
سوال داغتے چہروں سے کہہ رہی ہے آنکھ
جواب دیتی ہوں ،دوں گی ،ذرا سی مہلت دے
ابو لویزا علی

No comments:
Post a Comment