Urdu Deccan

Tuesday, June 15, 2021

ابو لویزا علی

 حلول کر نہیں سکتا تو پھر حلاوت دے

مجھےطواف نہیں وصل کی سہولت دے


مدار قید ہے گردش سے تنگ آگیا ہوں 

طواف چھوڑ کے آؤں مجھے اجازت دے


درشت لہجے میں خود سے کلام کر یارم 

لذیذ لہجے سے خود کو بھی تھوڑی لذت دے 


ہے اک اسیر جو تیری اسیری میں خوش ہے

مگر یہ چاہتا ہے تو اسے حکومت دے


درخت پھل کے عوض بس توجہ چاہتا ہے

اجیر کہتا ہے آجر سے میری اجرت دے


سوال داغتے چہروں سے کہہ رہی ہے آنکھ 

جواب دیتی ہوں ،دوں گی ،ذرا سی مہلت دے 


ابو لویزا علی


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...