Urdu Deccan

Friday, November 12, 2021

احمد رئیس

 حالِ دل کرنا بیاں ہے کام جوئے شیر کا

سوختہ جاں ہے عبث نالہ ترا شب گیر کا


ہجر ہے میرا مقدر بس یہی سمجھا ہے دل

لے لیا بوسہ تصور میں تری تصویر کا


حشر کو ہی ہم ملیں گے، بارہا وعدہ کیا

ہاں مگر یہ تو بتا کیا ہے سبب تاخیر کا


میں نہیں کہتا کہ مجھ کو کر غلامی میں قبول

  پاسباں کوئی ہو لیکن حسن کی جاگیر کا


اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھتا ہی رہ گیا

پوچھ بیٹھا جب ستم گر خواب کی تعبیر کا


  سوچتا ہوں کیا کہوں نادان لوگوں کو بھلا

  میرے آگے چھیڑتے ہیں ذکر جب زنجیر کا


  شہر میں کربل بپا ہے، ہیں یزیدی چارسو

   آج بھی ہے سر پہ سایہ کفر کی شمشیر کا


غم نہ کھا بس اہل حق کی بزم میں جاکر تو دیکھ

   میں وہیں سمجھا ہوں کیا ہے فلسفہ تقدیر کا


چاہیے گر بادشاہی بن غلامِ مصطفیﷺ

  ہے سوا اس کے نہ رستہ عالمِ تسخیر کا


  احمد رئیس


No comments:

Post a Comment

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...