Urdu Deccan

Sunday, March 28, 2021

شیر سنگھ ناز دہلوی

 یوم پیدائش 19 مارچ 1898


دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

جہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہا


چلی جو کشتئ عمر رواں تو چلنے دی

رکی تو کشتئ عمر رواں سے کچھ نہ کہا


خطائے عشق کی اتنی سزا ہی کافی تھی

بدل کے رہ گئے تیور زباں سے کچھ نہ کہا


بلا سے خاک ہوا جل کے آشیاں اپنا

تڑپ کے رہ گئے برق تپاں سے کچھ نہ کہا


گلہ کیا نہ کبھی ان سے بے وفائی کا

زباں تھی لاکھ دہن میں زباں سے کچھ نہ کہا


خوشی سے رنج سہے نازؔ عمر بھر ہم نے

خدا گواہ کبھی آسماں سے کچھ نہ کہا


شیر سنگھ ناز دہلوی


محشر حبیبی

 یوم پیدائش 19 مارچ 1946


چاند تارے یہ رہگزر مانوس 

جس سفر سے ہیں ہم سفر مانوس 


اُن سے کتنا پرانا رشتہ ہے 

پتھروں سے ہمارے سر مانوس 


موت کا بھی مزا چکھیں گے ہم 

زندگی سے ہیں سانس بھر مانوس 


حادثوں سے ہے کون اب محفوظ 

آنسوؤں سے ہیں سارے گھر مانوس 


دوستی صرف اُن سے رکھتا ہوں 

جن کے شانوں سے ہے یہ سر مانوس 


میرا دُکھ کیا ہے آپ کیا جانیں 

آپ مجھ سے ہیں آنکھ بھر مانوس 


خامشی ٹھیک ہے مگر اے دوست 

شور محشر سے میرا گھر مانوس


محشر حبیبی


ارشد صدیقی

 یوم پیدائش 19 مارچ 1923


قلب و نظر کا سکوں اور کہاں دوستو

کوئے بتاں دوستو کوئے بتاں دوستو


میرا ہی دل ہے کہ میں پھرتا ہوں یوں خندہ زن

کم نہیں پردیس میں دل کا زیاں دوستو


جن میں خلوص وفا اور نہ شعور ستم

مجھ کو بٹھایا ہے یہ لا کے کہاں دوستو


چار گھڑی رات ہے آؤ کہ ہنس بول لیں

جانے سحر تک ہو پھر کون کہاں دوستو


ربط مراسم کے بعد ترک تعلق غلط

آگ بجھانے سے بھی ہوگا دھواں دوستو


لاکھ چھپو سایۂ گیسوئے شب رنگ میں

مل نہیں سکتی مگر غم سے اماں دوستو


شاعر ارشدؔ ہوں میں شاعر فطرت ہوں میں

مٹ نہیں سکتا مرا نام و نشاں دوستو


ارشد صدیقی


اعتبار ساجد

 تجھ سے لفظوں کانہیں، روح کارشتہ ہے مرا

تو مری سانس میں تحلیل ہے خوشبو کی طرح


اعتبار ساجد


یاسمین حمید

 یوم پیدائش 18 مارچ 1951


پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی


نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہوتا کوئی شخص

خود کو یہ بات بتانے میں بہت دیر لگی


ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں

وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی


آگ ہی آگ تھی اور لوگ بہت چاروں طرف

اپنا تو دھیان ہی آنے میں بہت دیر لگی


جس طرح ہم کبھی ہونا ہی نہیں چاہتے تھے

خود کو پھر ویسا بنانے میں بہت دیر لگی


یہ ہوا تو کہ ہر اک شے کی کشش ماند پڑی

مگر اس موڑ پہ آنے میں بہت دیر لگی


یاسمین حمید


Tuesday, March 23, 2021

صابر جوہری بھدوی

 زخمی ہوئے بدن تو کبھی سر قلم ہوئے

کیا کیا نہ حق پرستوں پہ ظلم و ستم ہوئے


دکھ درد میں شریک جب اوروں کے ہم ہوئے

ہر ایک کی نگاہ میں تب محترم ہوئے


یارب تو آج پھر مری غربت کی لاج رکھ 

پھر مہرباں غریب پہ اہل کرم ہو 


جل اٹھے تیری یادوں کے دل میں حسیں چراغ 

یوں زخم تیرے زینت شام الم ہوئے


بے شک وہ لوگ عظمت فن کے امین ہیں

دنیا میں جو بھی نازش لوح و قلم ہوئے


کتنا سکون موت سے ہم کو ہوا نصیب 

آرام کر کے تھوڑا سا پھر تازہ دم ہوئے


آساں نہیں ہے صاحب فن ہونا دوستو !

"جب دل ہوا لہو تو ہم اہل قلم ہوئے"


خوشبو ہر ایک زخم سے آنے لگی تری 

جب آشنائے لذت درد و الم ہوئے


رکھتے ہیں اپنے ہاتھ میں پتھر جو ہر گھڑی

آئینے کی نظر میں وہ کب محترم ہوئے


واقف ہماری عظمت فن سے جہاں ہوا 

جب واقعاتِ زیست ہمارے رقم ہوئے


شہزادئ غزل کو پلایا نچوڑ کر 

جب ہم نے اپنا خون تب اہل قلم ہوئے


جو شخص مے پرستوں کا صابر ! امام ہے

اس کے مرید حضرت شیخ حرم ہوئے


صابر جوہری بھدوہوی


نعیم سرکار

 یوم پیدائش 18مارچ


قفس میں رنج و الم یرغمال رہتا ہے

وہ چھپ چھپا کے پریشان حال رہتا ہے


کہیں ملا تو مکمل اسے ٹٹولوں گا

وہ ضد میں کیسے یونہی باکمال رہتا ہے


وہ آسماں پہ مجھے ڈانٹنے کو آیا ہے

زمیں پہ رہتے ہوئے جو نڈھال رہتا ہے


کہیں کسی کی محبت نہ رنج دنیا کا 

جو کچھ نہیں تو بھلا کیا ملال رہتا ہے


جو تم نہیں تو مرے دل میں اب میرے سرکار

تمھارے جیسا کوئی خدوخال رہتا ہے


نعیم سرکار


ایڈوکیٹ متن طالب

 خوشبو جو تخیل میں ہے فن میں بھی وہی ہے

دل میں جو ہمارے ہے سخن میں بھی وہی ہے


محسوس ہو خطرہ جو شناور کو بھنور میں 

اے یار ! ترے چاہِ ذقن میں بھی وہی ہے


تہذیب پتہ چلتی ہے انساں کی زباں سے

ویسے تو میاں مشک ختن میں بھی وہی ہے


معیار پہ اترا ہے زمانے کے جو سکہ

قیمت بھی اسی کی ہے چلن میں بھی وہی ہے


گر آنکھ سے ٹپکے تو مزہ اور ہی کچھ ہے

کہنے کو لہو پورے بدن میں بھی وہی ہے


عاشق کو جو محبوب کی زلفوں میں ہے راحت 

منصور کو دار اور رسن میں بھی وہی ہے


قصہ ہے شبِ ہجر کا تکیے کی نمی میں 

 بکھرے ہوئے بستر کی شکن میں بھی وہی ہے


اسلاف سے بیباک طبیعت ملی ہم کو

اور جرأت اظہار ، سخن میں بھی وہی ہے


محسوس گھٹن ہوتی ہے پردیس میں مجھ کو

جبکہ میاں ! ماحول وطن میں بھی وہی ہے


آئینے کو مکاری نہیں آتی ہے یارو!

طالبؔ کی زباں پر ہے جو ، من میں بھی وہی ہے


ایڈوکیٹ متین طالبؔ


ذوالفقار علی ذلفی

 تیرے سینے میں محبت کے شرارے تھے کبھی

تجھ کو تیری جاں سے بڑھ کر , ہم بھی پیارے تھے کبھی


ایک مدت بعد بھی ہم سے بُھلائے کب گئے

ہم نے تیرے ساتھ لمحے جو گزارے تھے کبھی


مشکلوں میں چھوڑ کر اپنے کنارے ہو گئے

لوگ بھی وہ جو دل و جاں سے ہمارے تھے کبھی


جرمِ اُلفت تو فقط ہم سے ہی سرزد کب ہوا

تیری آنکھوں میں بھی چاہت کے اشارے تھے کبھی


آج جِن ہاتھوں میں پتھر ہیں ہمارے واسطے

اُن سے کتنے پھول تُو نے ہم پہ وارے تھے کبھی


زندگی بھر ہم سے اُن کا کب ازالہ ہو سکا

جو محبت میں مِلے ہم کو خسارے تھے کبھی


آج ذُلفی سوچتا ہوں ہو گئے کیسے جدا

ہم کسی دریا کے جیسے دو کنارے تھے کبھی


ذوالفقار علی ذُلفی 


سرِ محفل تجھے سپنوں کی رانی میں نہیں کہتا

جو آنکھوں سے بتاتا ہوں زبانی میں نہیں کہتا


نہ ہو جس آنکھ کو پہچان کچھ اپنے پرائے کی

اُسے پاگل سمجھتا ہوں ٫ سیانی میں نہیں کہتا


یہاں مطلب کی خاطر ہی محبت لوگ کرتے ہیں

حقیقت ہے کوئی جھوٹی کہانی میں نہیں کہتا


مِری مطلب پرستوں سے بِگڑ جاتی ہے تب اکثر

کِسی کم ظرف کو جب خاندانی میں نہیں کہتا


مِلو جب بھی تو مِلتے ہی ذرا سا مسکرا دینا

مجھے دو اپنے دل پر حکمرانی میں نہیں کہتا


نجانے عشق ہو جائے اُسے میری غزل پڑھ کر

ابھی تک تو اُسے اپنی دِوانی میں نہیں کہتا


چُھپا کے تیر پھولوں میں تمہارا پھینکنا مجھ پر

اِسے ذُلفی محبت کی نشانی میں نہیں کہتا


ذوالفقار علی ذُلفی





Wednesday, March 17, 2021

اشرف حسن عارفی

 حاصل ہے بس اسی کو محبت رسولؐ کی

"جو شخص کررہا ہے اطاعت رسولؐ کی"


یوں تو جہاں میں آئے بہت سے نبی مگر 

کوئی نہ پا سکا ہے فضیلت رسول کی


اپنوں کی بات چھوڑئیے غیروں نے بھی کہا

بےشک ہے بے نظیر صداقت رسولؐ کی


وہ شخص بے نصیب ہے سب کی نگاہ میں

جس نے کبھی بھی کی ہو اہانت رسولؐ کی


سب کی ہدایتوں کا وہ سامان دے گئے

پائی ہے مومنوں نے عنایت رسولؐ کی؟


بچپن سے لیکے دیکھئے عمر اخیر تک 

گلدستئہ حیات ہے سیرت رسولؐ کی


میری تو یہ دعا ہے کہ اے رب دو جہاں 

أشرف کو ہو نصیب شفاعت رسولؐ کی


اشرف حسن عارفی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...