Urdu Deccan

Thursday, April 29, 2021

نیاز سواتی

 یوم پیدائش 29 اپریل 1941


حسینوں سے تمہاری دوستی اچھی نہیں لگتی

بڑھاپے میں یہ عشق و عاشقی اچھی نہیں لگتی


مزا کچھ اور ہی تھا پی ڈبلیو ڈی کی سروس کا

ہمیں اب اور کوئی نوکری اچھی نہیں لگتی


الیکشن میں تو ہر ووٹر پر اپنی جاں چھڑکتے تھے

اب ان سے رہنماؤ بے رخی اچھی نہیں لگتی


کھلائے جو بھی حلوا تم اسی کا ساتھ دیتے ہو

ہمیں واعظ تمہاری پالیسی اچھی نہیں لگتی


رگڑنا پڑ رہا ہے سر ہر اک ووٹر کے پاؤں پر

اسی باعث تو ہم کو ممبری اچھی نہیں لگتی


نیاز سواتی


عظیم امروہوی

 یوم پیدائش 29 اپریل 1954


انبیاء جتنے ہیں ان کا مرتبہ کچھ اور ہے

عظمتِ حضرت محمد مصطفےؐ کچھ اور ہے


نیل کے پانی میں جو رستہ بنا کچھ اور ہے 

آسمانوں سے جو گزرا راستہ کچھ اور ہے 


چاند ہے سورج ہے تارا ہے نہ ہے کوئی چراغ

آمنہ کے گھر میں یہ جلوہ نما کچھ اور ہے 


ہوگی جنت بھی تری معبود کافی پُر فضا

میری نظروں میں مدینے کی فضا کچھ اور ہے


تھا خدا مطلوب موسیٰؐ کو تو پہنچے طور پر

جس کو بلوایا وہ محبوب خدا کچھ اور ہے


کوئی گزرے گا فلک سے چاند بھی آج خوش

اور تاروں کے چمکنے کی ادا کچھ اور ہے


ہیں محمدؐ تو مدینہ علم کا حیدر ؓ ہیں در

ماسوا حیدر ؓ کہیں سے راستہ کچھ اور ہے


شاعری کا لطف ہر صنف سخن میں ہے عظیم

نعت کہنے کا حقیقت میں مزا کچھ اور ہے 


عظیم امروہوی


Wednesday, April 28, 2021

مبارک عظیم آبادی

 یوم پیدائش 29 اپریل 1829


درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی

زندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئی


دن کے نالے نہ گئے رات کی زاری نہ گئی

نہ گئی دل سے کبھی یاد تمہاری نہ گئی


ہم تو خوں گشتہ تمناؤں کے ماتم میں رہے

سینہ کوبی نہ گئی سینہ فگاری نہ گئی


انتظار آپ کا کب لطف سے خالی نکلا

رائیگاں رات کسی روز ہماری نہ گئی


بخشوایا مجھے تم نے تو خدا نے بخشا

نہ گئی روز جزا بات تمہاری نہ گئی


لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ لیکن

دن ہمارا نہ گیا رات ہماری نہ گئی


مبارک عظیم آبادی


اجے سحاب

 یوم پیدائش 29 اپریل 1969


جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں


حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے

حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں


رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لیے

صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں


ہوش میں ہو کے بھی ساقی کا بھرم رکھنے کو

لڑکھڑانے کی ہم افواہ اڑا دیتے ہیں


کیوں نہ لوٹے وہ اداسی کا مسافر یارو

زخم سینہ کے اسے روز سدا دیتے ہیں


اجے سحاب


راز علیمی



اک تماشا بنا کے لاتے ہیں
خط ہمارا جلا کے لاتے ہیں

جب جوانی کی یاد آتی ہے
مَے کدے سے اُٹھا کے لاتے ہیں

روٹھ کر جا رہی ہے جانِ بہار
باغباں! چل منا کے لاتے ہیں

میں تقاضائِے دِید کرتا ہوں
عُذر وہ رنگِ ،، نَا ،، کے لاتے ہیں

دل تو بَیعُ و شِرا کی چیز نہیں
اس لیے ہم چُرا کے لاتے ہیں

جب گلابوں کی بات ہوتی ہے
اس کی صورت بنا کے لاتے ہیں

میں سویرے وفا کے لاتا ہوں
وہ اندھیرے دغا کے لاتے ہیں

اس کے بِن بزم سونی سونی ہے
چل ذرا ورغلا کے لاتے ہیں

قریۂِ دل سے راز اُمیدوں کی
ساری شمعیں بجھا کے لاتے ہیں

راز علیمیؔ

محمد وقار احمد نوری

 سرفروشی چاہنا ہے لازمی

وقت آیا جاگنا ہے لازمی


ہندو مسلم سکھ عسائی ایک ہوں

بند آنکھیں کھولنا ہے لازمی


قصر باطل کے ہلانے کے لیے

قلبِ مومن کی صدا ہے لازمی


صحبت صالح کرو تم اختیار

نیک بننا اب ذرا ہے لازمی


زندگی رنگیں بنانے کے لیے

الفتوں سے رابطہ ہے لازمی


ہے اگر رہنا محبت سے سدا

نفرتوں کا خاتمہ ہے لازمی


مختصر ہے زندگی اے دوستو

چار دن میں لوٹنا ہے لازمی


پوچھتے ہو کیا ہمیں تم ظالمو

دل میں خود کے جھانکنا ہے لازمی


آنچ ایماں پر اگر آئے کبھی

سر کٹانا کاٹنا ہے لازمی


قل ھواللہ احد کی اے وقار

رزمِ باطل میں نوا ہے لازمی


محمد وقار احمد نوری


Tuesday, April 27, 2021

محمد قاسم

 گہری ہوئی ہے دل کی کتابوں پہ دھول سب

اور سوکھنے لگے تری یادوں کے پھول سب


دنیا و آخرت کو اگر ہے سنوارنا

احکامِ کبریا کرو دل سے قبول سب


قائم ہے اب بھی حوصلہ، حالانکہ ہوگئے

رستے کی سختیوں سے مسافر ملول سب


بچوں کے کاندھے میرے برابر جو آ گئے

چلنے لگے ہیں ان کے ہی گھر میں اصول سب


چھوڑا ہے ہم نے جب سے بزرگوں کا راستہ

اڑنے لگی ہمارے ہی چہرے پہ دھول سب


دورِ جدید کی یہ چکا چوند دیکھ کر

ہم نے ہی توڑڈالے ہیں اپنے اصول سب


اوروں کے کام آنا ہی قاسم ہے زندگی

ورنہ ہے جینا مرنا تمھارا فضول سب


 محمد قاسم


ڈاکٹر طارق عزیز

تعبیروں کے درد اٹھا کر کیا کرنا ہے
کیا کرنا ہے خواب سجا کر کیا کرنا ہے

اس کی صورت اس کی باتیں بھول گئے ہیں
پھر سوچا ، خود دھوکا کھا کر کیا کرنا ہے

آپ نے جب لفظوں کے معنی بدل دئیے ہیں
آپ کو اپنا دوست بناکر کیا کرنا ہے

جب کرنوں نے سب ہاتھوں کو دیکھ لیا
پھر سورج سے اوس چھپا کر کیا کرنا ہے

کیا لینا ہے سڑکوں پر آوارہ پھر کر
اتنی جلدی گھر بھی جاکر کیا کرنا ہے

ڈاکٹر طارق عزیز

بدنام نظر

 یوم پیدائش 27 اپریل 1941


حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں

پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں


بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری

تمام رات گزاری ہے سرد بانہوں میں


اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں

بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں


بجھی جو رات تو اپنی گلی کی یاد آئی

الجھ گیا تھا میں رنگین شاہراہوں میں


نہ جانے کیا ہوا اپنا بھی اب نہیں ہے وہ

جو ایک عمر تھا دنیا کے خیر خواہوں میں


مری تلاش کو جس علم سے قرار آئے

نہ خانقاہوں میں پائی نہ درس گاہوں میں


بدنام نظر


شجاع حیدر

 ہر شخص ہو گیا ہے جُدا کون ساتھ ہے

یا رب جہاں میں تیرے سوا کون ساتھ ہے


"تنہائیوں میں کہتا ہے قرآن یہ "میں ہوں"

جب جب بھی میں نے رو کے کہا کون ساتھ ہے


جھولے سے ایک بچے نے خود کو گرا لیا

میداں میں باپ نے جو کہا کون ساتھ ہے


اک ماں دعائیں دیتی تھی وہ بھی نہیں رہی

اب زیست میں سوائے بلا کون ساتھ ہے


دولت کے پیچھے بھاگ رہا تھا غرور سے

اک روز آ کے بولی قضا کون ساتھ ہے


آئے ہیں میری صف میں مجھے تیر مار کر

جب دوستوں نے مجھ سے سنا کون ساتھ ہے


لے کر حسین چل پڑے پھر خاندان کو

جب دین کی بقا نے کہا کون ساتھ ہے


ہر ایک بے وفا سے وفا جب نبھا چُکا

کہنے لگی یہ مجھ سے وفا کون ساتھ ہے


دنیا میں جتنے اچھے تھے تم ان سے پوچھ لو

آخر میں سب کو کہنا پڑا کون ساتھ ہے


حیدر ہر ایک دوست کی ہجرت کی یاد میں

دیوار و در سے کہتا رہا کون ساتھ ہے


شجاع حیدر

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...