Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

سعدیہ بشر

 ہاتھ خالی تھے سو ہم کو کاسے ملے 

بعد مرنے کے کتنے دلاسے ملے


ہم نے آنسو جنے تیسری جنس کے 

جب بھی ارزاں ہوئے تو خدا سے ملے


سانحوں سے مرتب کتب کھو گئیں 

فن ہوا ہو گیا , گم خلاصے ملے


 از قدم تا قدم بھاگتے پھر رہے 

ٹوٹ کر گر گئے تب دعا سے ملے


بھول جانا ہنر ہے, نہیں آ سکا

عشق میں کچھ دفینے خطا سے ملے


سعدیہ بشیر


جمیل مظہری

 یوم پیدائش 02 سپتمبر 1904


میں صدقے تجھ پہ ادا تیرے مسکرانے کی

سمیٹے لیتی ہے رنگینیاں زمانے کی


جو ضبط شوق نے باندھا طلسم خودداری

شکایت آپ کی روٹھی ہوئی ادا نے کی


کچھ اور جرأت دست ہوس بڑھاتی ہے

وہ برہمی جو ہو تمہید مسکرانے کی


کچھ ایسا رنگ مری زندگی نے پکڑا تھا

کہ ابتدا ہی سے ترکیب تھی فسانے کی


جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر

یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی


ہوائیں تند ہیں اور کس قدر ہیں تند جمیلؔ

عجب نہیں کہ بدل جائے رت زمانے کی


جمیلؔ مظہری


شبیر نازش

 نہیں ہو سکتا مرے یار! نہیں ہو سکتا

عشق عاشق کا طرفدار نہیں ہو سکتا


مر رہا ہے جو مری ایک جھلک کی خاطر

اس کا کہنا تھا اسے پیار نہیں ہو سکتا


چاند سورج کو بھی آغوش میں لے لیتا ہے

اور اِس بات سے انکار نہیں ہو سکتا


تو مرا دوست ہے اور دوست بھی اچھا والا

تو مری راہ کی دیوار نہیں ہو سکتا


ہم بڑی عمر میں اے عشق! تری نذر ہوئے

کھل کے اِس عمر میں اِظہار نہیں ہو سکتا


جسم تو جسم، مری روح بھی ہے ایک ہی اِسم

اور اِس اِسم سے اِنکار نہیں ہو سکتا


جھوٹ کہتا ہے کوئی ایسا اگر کہتا ہے

وہ کسی حسن کا بیمار نہیں ہو سکتا


ایسے سردار کی سرداری نہیں مانتے ہم

جس کا سر اونچا سرِ دار نہیں ہو سکتا


عشق میں جو بھی روا رکھے دیانت نازشؔ!

ہجر اس شخص کو آزار نہیں ہو سکتا


شبّیر نازش، 


اظہر فراغ

 یوم پیدائش 31 اگست 1980


دھوپ میں سایہ بنے تنہا کھڑے ہوتے ہیں

بڑے لوگوں کے خسارے بھی بڑے ہوتے ہیں


ایک ہی وقت میں پیاسے بھی ہیں سیراب بھی ہیں

ہم جو صحراؤں کی مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں


یہ جو رہتے ہیں بہت موج میں شب بھر ہم لوگ

صبح ہوتے ہی کنارے پہ پڑے ہوتے ہیں


ہجر دیوار کا آزار تو ہے ہی لیکن

اس کے اوپر بھی کئی کانچ جڑے ہوتے ہیں


آنکھ کھلتے ہی جبیں چومنے آ جاتے ہیں

ہم اگر خواب میں بھی تم سے لڑے ہوتے ہیں


ہے ملال ایسے ہمیں باغ کی ویرانی کا 

جیسے ہم لوگ درختوں سے جھڑے ہوتے ہیں


اظہر فراغ


شمشاد شاد

 شہرِ سنگدل ہے یا قاتلوں کی بستی ہے

 زندگی گراں قیمت اور موت سستی ہے

 

جبر ہے تشدد ہے اور چیرہ دستی ہے 

 پھر ترے نشانے پر میری فاقہ مستی ہے

 

ختم ہی نہیں ہوتا انتظار کا موسم

موت سے گلے ملنے زندگی ترستی ہے


کیا بتاؤں میں تم کو کیا گزرتی ہے دل پر

ہجر کی تمازت سے روح جب جھلستی ہے


وہ تو چاہتیں اپنی غیروں پر لٹاتے ہیں

ان کے پیار کی بارش ہم پہ کب برستی ہے


جذبہءِ جواں مردی مجھ میں کم نہیں لیکن 

فکر ناگہانی اب حوصلوں کو ڈستی ہے 


سرفراز ہوتی ہے جس کے قدموں میں جنت 

ماں جہانِ گلشن کی وہ عظیم ہستی ہے


شاؔد اپنے قامت پر ہم غرور کیا کرتے

عرش کی بلندی جب خود رہین پستی ہے


شمشاد شاد


ضیاء المصطفیٰ ترک

 یوم پیدائش 29 اگست 1976


کتنے ہی فیصلے کئے پر کہاں رک سکا ہوں میں 

آج بھی اپنے وقت پر گھر سے نکل پڑا ہوں میں 


ابر سے اور دھوپ سے رشتہ ہے ایک سا مرا 

آئنے اور چراغ کے بیچ کا فاصلہ ہوں میں 


تجھ کو چھوا تو دیر تک خود کو ہی ڈھونڈتا رہا 

اتنی سی دیر میں بھلا تجھ سے کہاں ملا ہوں میں 


خوشبو ترے وجود کی گھیرے ہوئے ہے آج بھی 

تیرے لبوں کا ذائقہ بھول نہیں سکا ہوں میں 


ویسے تو میرا دائرہ پورا نہیں ہوا ابھی 

ایسی ہی کوئی قوس تھی جس سے جڑا ہوا ہوں میں 


جتنی بھی تیز دھوپ ہو شاخیں ہیں مہرباں تری 

چھاؤں پرائی ہی سہی سانس تو لے رہا ہوں میں


ضیاء المصطفیٰ ترک


مرزا سلامت علی دبیر

 یوم پیدائش 29 اگست 1803


پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے

عالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہے

مصباح و نجوم آفتاب و مہتاب

جس نور کو دیکھتا ہوں ضو تیری ہے


مرزا سلامت علی دبیر


ثبین سیف

 یوم پیدائش 28 اگست


دھڑکن ہیں، میری سانس ہیں، میری حیات ہیں 

اک آپ ہی تو بس مری کُل کائنات ہیں 


یہ وحدت الوجود ہے یا وحدت الشہود

میں جانتی ہوں آپ ہی بس میری ذات ہیں 


دیکھوں جدھر بھی آپ کی صورت دکھائی دے

میں یک جہت ہوں آپ مرے شش جہات ہیں 


میری متاع کچھ بھی نہیں شاملِ نصاب

ہاں آپ ہی بس آپ ہی وجہِ زکوٰة ہیں 


مصرع کہوں کہ شعر کہوں، یا غزل ثبین

میری ہر ایک بات کی بس آپ بات ہیں 


ثبین سیف


جوہر صدیقی

 یوم پیدائش 28 اگست 1928


کتنا شرمندہِ مذاقِ درد انسانی ہے آج

قاتلوں کو بھی غرورِ پاک دامانی ہے آج


اُف رے ماضی تیری چیخوں کی صدائے بازگشت

سازِ ہستی کی صدا کس درجہ طوفانی ہے آج


چہرہ اُترا زلف الجھی اور افسردہ نظر

دوستوں کو پھر بھی ارمان ِغزل خوانی ہے آج


کاش مٹنے والے بھی آکر یہ منظر دیکھتے

کتنا سنجیدہ مزاجِ فتنہ سامانی ہے آج


آشیاں لٹنے پہ کل تک پھول ہنستے تھے جہاں

رقص فرما ، دیکھ اُسی گلشن میں ویرانی ہے آج


آپ کے سمٹے ہوئے دامن کو اس کی کیا خبر 

اس قدر رسوا خلوصِ اشک افشانی ہے آج


جتنا روشن ہے شرابی کی نگاہوں کا چراغ

اتنی ہی تاریک تر زاہد کی پیشانی ہے آج


ایک لغزش جس کو جوہر عین مستی کہہ سکوں کو

بزم میں یوں تو بہکنے کی فراوانی ہے آج


جوہر صدیقی


فراق گورکھپوری

 یوم پیدائش 28 اگست 1896


بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں


مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں

نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں


جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی

اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں


نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا

تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں


طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں

ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں


خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا

اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں


حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے

وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں


ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی

مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں


تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت

کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں


اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں

خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں


جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا

عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں


تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں

ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں


ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے

تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں


رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے

ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں


زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے

اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں


فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر

کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں


فراق گورکھپوری


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...