خوبصورت خیال ہے اردو
گفتگو کا جمال ہے اردو
کل تلک جو مخالفت میں تھا
پڑھ کے بولا کمال ہے اردو
زین احترام
یوم پیدائش 12 نومبر 1932
اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے
پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے
کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب
چلنے سے پہلے زاد سفر دیکھ لیجئے
ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی
گر آپ میرا زخم جگر دیکھ لیجئے
سب کی طرف ہے آپ کی چشم نوازشات
کاش ایک بار آپ ادھر دیکھ لیجئے
تارے میں توڑ لاؤں گا آکاش سے مگر
شفقت سے آپ بازو و پر دیکھ لیجئے
جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ
کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے
ہو جائے گی حقیقت شمس و قمر عیاں
ان کو نگاہ بھر کے اگر دیکھ لیجئے
یہ برق حادثات بھی کیا ظلم ڈھائے گی
اٹھنے لگے گلوں سے شرر دیکھ لیجئے
عاجزؔ چلی ہیں ایسی تعصب کی آندھیاں
اجڑے ہوئے نگر کے نگر دیکھ لیجئے
عاجز ماتوی
یوم پیدائش 13 نومبر
پانی برسا تھا کہیں آگ کہیں چھائی تھی
خاک چھانی تھی جہاں، خاک وہیں چھائی تھی
آسماں روند دیے پاؤں میں کتنے ہی مگر
اب کہ اپنے سروں پر ایک زمیں چھائی تھی
طعنہ زن رہتے تھے جس پر سبھی منبر والے
ہندو بستی میں وہی ماہ جبیں چھائی تھی
جیسے سیاروں کا سورج کے ہے اطراف حصار
گھر کے مالک پہ اسی طرح مکیں چھائی تھی
اس کے چہرے سے چھلکتا تھا کئی حوروں کا حسن
اس کے سینے کے قریں خلدِ بریں چھائی تھی
مجھ کو معلوم تھی اول سے حقیقت اس کی
سو مرے ذہن پہ اک پل بھی نہیں چھائی تھی
چاہتے تھے جو اگا لیتے تھے آسانی سے
اپنے اطراف میں زرخیز زمیں چھائی تھی
حمزہ میر
یوم پیدائش 13 نومبر 1926.
اور کیا میرے لیے عرصۂ محشر ہوگا
میں شجر ہوں گا ترے ہاتھ میں پتھر ہوگا
یوں بھی گزریں گی ترے ہجر میں راتیں میری
چاند بھی جیسے مرے سینے میں خنجر ہوگا
زندگی کیا ہے کئی بار یہ سوچا میں نے
خواب سے پہلے کسی خواب کا منظر ہوگا
ہاتھ پھیلائے ہوئے شام جہاں آئے گی
بند ہوتا ہوا دروازۂ خاور ہوگا
میں کسی پاس کے صحرا میں بکھر جاؤں گا
تو کسی دور کے ساحل کا سمندر ہوگا
وہ مرا شہر نہیں شہر خموشاں کی طرح
جس میں ہر شخص کا مرنا ہی مقدر ہوگا
کون ڈوبے گا کسے پار اترنا ہے ظفرؔ
فیصلہ وقت کے دریا میں اتر کر ہوگا
احمد ظفر
میرا دل, میری جان ہے اردو
علم و عرفاں کی شان ہے اردو
ہر زباں کی زبان پر ہے یہی
سب سے شیریں زبان ہے اردو
اختر علوی
یوم پیدائش 12 نومبر 1915
کس کی یاد چمک اٹھی ہے دھندلے خاکے ہوئے اجاگر
یونہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں تنہا بیٹھا
کہیں کسی کا ماس نہ ہڈی کہیں کسی کا روپ نہ چھایا
کچھ کتبوں پر دھندلے دھندلے نام کھدے ہیں میں جیون بھر
ان کتبوں ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کر
مستقبل اور حال کو چھوڑے، دکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں
ماضی کی گھنگھور گھٹا میں چپکا بیٹھا سوچ رہا ہوں
کس کی یاد چمک اٹھی ہے، دھندلے خاکے ہوئے اجاگر؟
بیٹھا قبریں کھود رہا ہوں، ہوک سی بن کر ایک اک مورت
درد سا بن کر ایک اک سایا، جاگ رہے ہیں دور کہیں سے
آوازیں سی کچھ آتی ہیں، ''گزرے تھے اک بار یہیں سے''
حیرت بن کر دیکھ رہی ہے، ہر جانی پہچانی صورت
گویا جھوٹ ہیں یہ آوازیں، کوئی میل نہ تھا ان سب سے
جن کا پیار کسی کے دل میں اپنے گھاؤ چھوڑ گیا ہے
جن کا پیار کسی کے دل سے سارے رشتے توڑ گیا ہے
اور وہ پاگل ان رشتوں کو بیٹھا جوڑ رہا ہے کب سے
اختر الایمان
یوم پیدائش 12 نومبر 1923
دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے
درد کے ماروں سے اب بات کہاں ہوتی ہے
ایک سے چہرے تو ہوتے ہیں کئی دنیا میں
ایک سی صورت حالات کہاں ہوتی ہے
زندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہے
مل تو جاتے ہیں ملاقات کہاں ہوتی ہے
آسمانوں سے کوئی بوند نہیں برسے گی
جلتے صحراؤں میں برسات کہاں ہوتی ہے
یوں تو اوروں کی بہت باتیں سنائیں ان کو
اپنی جو بات ہے وہ بات کہاں ہوتی ہے
جیسی آغاز محبت میں ہوا کرتی ہے
ویسی پھر شدت جذبات کہاں ہوتی ہے
پیار کی آگ بنا دیتی ہے کندن جن کو
ان کے ذہنوں میں بھلا ذات کہاں ہوتی ہے
احمد راہی
یوم پیدائش 12 نومبر 1944
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا
پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکی
اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا
مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نما اگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا
خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا
میوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا
سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا
پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا
یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا
تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا
اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا
کیا دودھ دینے والی گائیں بنائیں تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا
رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدرداں بنایا
آب رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آب رواں بنایا
ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا
اسماعیل میرٹھی
یوں سارے گُل رخوں کا تو چہرہ ہے منفرد
لیکن چمن میں وہ گُلِ رعنا ہے منفرد
لپٹی ہے میرے تن سے امر بیل پیار کی
یہ کائناتِ شوق کا پودا ہے منفرد
جو بھی اُٹھا یہاں سے وہ خورشید ہوگیا
اس سر زمینِ پاک کا ذرّہ ہے منفرد
دُنیا میں یوں تو اچھے کئی شہر ہیں مگر
ہر زاویے سے وادیِ بطحا ہے منفرد
ہر وقت کھوئے رہتے ہیں وہ جذبِ شوق سے
دیوانگانِ عشق کی دُنیا ہے منفرد
جبریل کہہ رہے ہیں یہی آسمان سے
اب کرّۂ زمین کا نقشہ ہے منفرد
نجم و قمر سے شب تو منّورؔ ادب کی ہے
لیکن وہ آسمان کا تارا ہے منفرد
سیدہ منوّر جہاں م
یوم پیدائش 11 نومبر 1899
ساز ہستی کا عجب جوش نظر آتا ہے
اک زمانہ ہمہ تن گوش نظر آتا ہے
حسرت جلوۂ دیدار ہو پوری کیوں کر
وہ تصور میں بھی روپوش نظر آتا ہے
دیکھتے جاؤ ذرا شہر خموشاں کا سماں
کہ زمانہ یہاں خاموش نظر آتا ہے
آپ کے نشتر مژگاں کو چبھو لیتا ہوں
خون دل میں جو کبھی جوش نظر آتا ہے
آپ ہی صرف جفا کوش نظر آتے ہیں
سارا عالم تو وفا کوش نظر آتا ہے
موسم گل نہ رہا دل نہ رہا جی نہ رہا
پھر بھی وحشت کا وہی جوش نظر آتا ہے
شانۂ یار پہ بکھری تو نہیں زلف دراز
ہر کوئی خانماں بر دوش نظر آتا ہے
جلوۂ قدرت باری کا معمہ نہ کھلا
روبرو رہ کے بھی روپوش نظر آتا ہے
پھر ذرا خنجر قاتل کو خبر دے کوئی
خون بسملؔ میں وہی جوش نظر آتا ہے
بسمل الہ آبادی
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...