Urdu Deccan

Tuesday, November 30, 2021

آنس معین

 یوم پیدائش 29 نومبر 1960


یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور


کیا پھر یوں ہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی

کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور


انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے

خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور


تب ہوگی خبر کتنی ہے رفتار تغیر

جب شام ڈھلے لوٹ کے آئے گا کوئی اور


امید سحر بھی تو وراثت میں ہے شامل

شاید کہ دیا اب کے جلائے گا کوئی اور


کب بار تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا

یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور


اس بار ہوں دشمن کی رسائی سے بہت دور

اس بار مگر زخم لگائے گا کوئی اور


شامل پس پردہ بھی ہیں اس کھیل میں کچھ لوگ

بولے گا کوئی ہونٹ ہلائے گا کوئی اور


آنس معین


افسر میرٹھی

 یوم پیدائش 29 نومبر 1895


رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

پھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے


لاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں

یہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے


لالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی

آگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے


اب کوئی دیر میں الفت کا طلب گار نہیں

اٹھ گئی رسم وفا ہائے صنم خانوں سے


پاس آتے گئے جس درجہ بیابانوں کے

دور ہوتے گئے ہم اور بیابانوں سے


اب کے ہم راہ گزاریں گے جنوں کا موسم

دامنوں کی یہ تمنا ہے گریبانوں سے


اس زمانے کے وہ مے نوش وہ بدمست ہیں ہم

پارسا ہو کے نکلتے ہیں جو مے خانوں سے


ہائے کیا چیز ہے کیفیت سوز الفت

کوئی پوچھے یہ ترے سوختہ سامانوں سے


پھر بہار آئی جنوں خیز ہوائیں لے کر

پھر بلاوے مجھے آتے ہیں بیابانوں سے


خاک کس مست محبت کی ہے ساقی ان میں

کہ مجھے بوئے وفا آتی ہے پیمانوں سے


غیر کی موت پہ وہ روتے ہیں اور ہم افسرؔ

زہر پیتے ہیں چھلکتے ہوئے پیمانوں سے


افسر میرٹھی


نعیم طباطبائی

 یوم پیدائش 29 نومبر 1852


پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

چلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرف


بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ

نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف


رہ وفا کو نہ چھوڑا وہ عندلیب ہوں میں

چھٹا قفس سے تو پرواز کی چمن کی طرف


گریز چاہئے طول امل سے سالک کو

سنا ہے راہ یہ جاتی ہے راہزن کی طرف


سرائے دہر میں سوؤ گے غافلو کب تک

اٹھو تو کیا تمہیں جانا نہیں وطن کی طرف


جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سے

نہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف


جہان حادثہ آگین میں بشر کا ورود

گزر حباب کا دریائے موجزن کی طرف


اسی امید پہ ہم دن خزاں کے کاٹتے ہیں

کبھی تو باد بہار آئے گی چمن کی طرف


بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی

سنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف


گواہ کون مرے قتل کا ہو محشر میں

ابھی سے سارا زمانہ ہے تیغ زن کی طرف


خبر دی اٹھ کے قیامت نے اس کے آنے کی

خدا ہی خیر کرے رخ ہے انجمن کی طرف


وہ اپنے رخ کی صباحت کو آپ دیکھتے ہیں

جھکے ہوئے گل نرگس ہیں یاسمن کی طرف


تمام بزم ہے کیا محو اس کی باتوں میں

نظر دہن کی طرف کان ہے سخن کی طرف


اسیر ہو گیا دل گیسوؤں میں خوب ہوا

چلا تھا ڈوب کے مرنے چہ ذقن کی طرف


یہ میکشوں کی ادا ابر تر بھی سیکھ گئے

کنار جو سے جو اٹھے چلے چمن کی طرف


زہے نصیب جو ہو کربلا کی موت اے نظمؔ

کہ اڑ کے خاک شفا آئے خود کفن کی طرف


نظم طباطبائی


علی سردار جعفری

 یوم پیدائش 29 نومبر 1913


کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا

راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا


باعث رشک ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق

ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا


ہم نے دنیا کی ہر اک شے سے اٹھایا دل کو

لیکن ایک شوخ کے ہنگامۂ محفل کے سوا


تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد

بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا


جانے کس رنگ سے آئی ہے گلستاں میں بہار

کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا


علی سردار جعفری


شہاب الدین شاہ قنوجی

 یوم پیدائش 28 نومبر


نعتِ رسولِ مقبولﷺ 


نہیں   ہے   نہیں   ہے   زمیں  آسماں میں 

نہیں آپﷺ  جیسا کوئی دو جہاں میں


تھیں عرشِ  بریں  پر   وہ  دونوں ہی ذاتیں

نہ تھا اور  کوئی  وہاں  درمیاں  میں


محمدﷺ  سا کوئی ہوا  ہے نہ  ہو  گا

وہ بستے ہیں دائم مرے جسم و جاں میں


محمدﷺ  ہیں  احمد  ہیں  قاسم  مدثر 

خدا کے ہیں محبوب وہ دو جہاں میں


جاوید قیصرانی


جاوید قیصرانی

 یوم پیدائش 28 نومبر


نعتِ رسولِ مقبولﷺ 


نہیں ہے نہیں ہے زمیں آسماں میں 

نہیں آپﷺ جیسا کوئی دو جہاں میں


تھیں عرشِ بریں پر وہ دونوں ہی ذاتیں

نہ تھا اور کوئی وہاں درمیاں میں


محمدﷺ سا کوئی ہوا ہے نہ ہو گا

وہ بستے ہیں دائم مرے جسم و جاں میں


محمدﷺ ہیں احمد ہیں قاسم مدثر 

خدا کے ہیں محبوب وہ دو جہاں میں


جاوید قیصرانی


درویش ڈار

 یوم پیدائش 28 نومبر 1968


مثلِ زندان بخت ہے شاید

زندگی لخت لخت ہے شاید


ساکنانِ وطن پریشاں ہیں

حلقہِ طوق سخت ہے شاید


شوقِ گفتار ہے مگر خاموش

شوخ لہجہ کرخت ہے شاید


طائرانِ چمن سے لگتا ہے

ایک بوڑھا درخت ہے شاید


بے نیازی ہے یا غنا ، ورنہ

حاصلِ عمر تخت ہے شاید


قافلہ کوچ کرنے والا ہے

ختم ہونے کو رخت ہے شاید


حسرتِ عمر مر گئی درویش

یہ جبیں تیرہ بخت ہے شاید


درویش ڈار


منظور فائز

 یوم پیدائش 27 نومبر


سو کے پتھر پہ کبھی دیکھ کہ سونا کیا ہے 

تاکہ معلوم تجھے ہو یہ بچھونا کیا ہے 


میری تنہائی کسی روز جو مجھ سے کھیلے 

عین ممکن ہے سمجھ جاوں کھلونا کیا ہے  


بیج کوئی بھی ہو وہ جڑ تو پکڑ ہی لے گا

طے یہ کرنا ہے کہ نم خاک میں بونا کیا ہے


یوں نہ ہونے پہ مرے تجھ کو نہ حیرت ہو گی 

میں اگر تجھ کو بتا دوں کہ یہ ہونا کیا ہے 


ذکر وحشت میں اگر ٹوٹ گری ہے فائز 

چھوڑ تسبیح کے دانوں کو پرونا کیا ہے


منظور فائز


غلام سرور

 تم نے اہلِ وطن کو ہے دھوکا دیا

جھوٹ پر جھوٹ تم نے ہمیشہ کہا


تو وفادار ہے کہتے تھے یہ سبھی

جا نتے تھے تجھے تو فرشتہ سبھی 


جو دیا تھا تجھے اب وہ بھی نہ بچا

واسطے رب کے اب جھوٹ نہ ہی رچا


تیرے کرموں سے غافل رہا نہ کوئی

سب سمجھتے ہیں ، جاہل رہا نہ کوئی


بیچ کر تم نے ایمان، سودا کیا

 اپنے وعدےکو ہر گز نہ پورا کیا


سانس لینا یہاں آج دشوار ہے

 ہر طرف ظلم ہے ایسی سرکار ہے


غلام سرور


اظہر اقبال

 یوم پیدائش 28 نومبر 1978


گھٹن سی ہونے لگی اس کے پاس جاتے ہوئے 

میں خود سے روٹھ گیا ہوں اسے مناتے ہوئے 


یہ زخم زخم مناظر لہو لہو چہرہ 

کہاں چلے گئے وہ لوگ ہنستے گاتے ہوئے 


نہ جانے ختم ہوئی کب ہماری آزادی 

تعلقات کی پابندیاں نبھاتے ہوئے 


ہے اب بھی بستر جاں پر ترے بدن کی شکن 

میں خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ہوئے 


تمہارے آنے کی امید بر نہیں آتی 

میں راکھ ہونے لگا ہوں دئیے جلاتے ہوئے


اظہر اقبال


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...