Urdu Deccan

Wednesday, March 23, 2022

گلزار بخاری

 یوم پیدائش 11 مارچ 1949


محبت کے سوا حرف و بیاں سے کچھ نہیں ہوتا 

ہوا ساکن رہے تو بادباں سے کچھ نہیں ہوتا 


چلوں تو مصلحت یہ کہہ کے پاؤں تھام لیتی ہے 

وہاں جانا بھی کیا حاصل جہاں سے کچھ نہیں ہوتا 


ضرورت مند ہے صید افگنی مشاق ہاتھوں کی 

فقط یکجائی تیر و کماں سے کچھ نہیں ہوتا 


مسلسل بارشیں بھی سبزہ و گل لا نہیں سکتیں 

زمیں جب بے نمو ہو آسماں سے کچھ نہیں ہوتا 


خلا میں تیر اندازی سے کیا گلزارؔ پاؤ گے 

میسر اس جنون رائیگاں سے کچھ نہیں ہوتا


گلزار بخاری


حمزہ حامیؔ

 یوم پیدائش 11 مارچ


آج اشکوں سے ہم وضو کریں گے 

تیری آنکھوں پہ گفتگو کریں گے


یہ خطا ہے تو دو بہ دو کریں گے

آئینہ اس کے رو بہ رو کریں گے


گھر پہ مہمان کر کے آندھی کو

پھر چراغوں کو رو بہ رو کریں گے


اتنے تیکھے نقوش ہیں تیرے

دیکھنے والے آرزو کریں گے


کب تلک تم رہو گے پردے میں

اور ہم کتنی جستجو کریں گے


بھر کے آنکھوں میں خواب کی وحشت 

ایک ہنگامہ کو بہ کو کریں گے


دوستوں نے کیے ہیں کام وہی 

جو سنا تھا کہ یہ عدو کریں گے


بانجھ ذہنوں کی ہے صدی حامیؔ 

اپنی نسلوں کی کیا نمو کریں گے


حمزہ حامیؔ


احمد کمال پروازی

 یوم پیدائش 11 مارچ 1947


تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں

جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں


تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن

میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں


میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگر

یہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں


آدمی بن کے بھٹکنے میں مزا آتا ہے

میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ فرشتہ ہو جاؤں


وہ تو اندر کی اداسی نے بچایا ورنہ

ان کی مرضی تو یہی تھی کہ شگفتہ ہو جاؤں


احمد کمال پروازی


فگار عظیم آبادی

 یوم پیدائش 10 مارچ 1932


افلاس کے حصار سے وہ جھانکتا بدن

احساس کی نگاہ کا ناسور ہوگیا


فگار عظیم آبادی


رضا ٹوانہ


 یوم پیدائش 10 مارچ 1948


دیکھ فرعون کے لہجے میں کوئی بات نہ کر

ہم تو پاگل ہیں خداؤں سے الجھ پڑتے ہیں

ہم نے دیکھا ہے چراغوں کو حفاظت کے لئے

بجھتے بجھتے بھی ہواؤں سے الجھ پڑتے ہیں 


رضا ٹوانہ

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

 یوم پیدائش 09 مارچ 1909


ہم کسی دین سے ہوں، قائلِ کردار تو ہیں

ہم ثناء خواںِ شہِ حیدرِ کرارؐ تو ہیں

نام لیوا ہیں محمدؐ کے پرستار تو ہیں

یعنی مجبور بہ احمد مختار تو ہیں

عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں


میری نظروں میں تو اسلام محبت کا ہے نام

امن کا، آشتی کا مہر و مروت کا ہے نام

وسعت قلب کا ، اخلاص و اخوت کا ہے نام

تختہِ دار پہ بھی حق و صداقت کا ہے نام

میرا اسلام نِگہ و نام میں ہے، بد نام نہیں

بات اتنی ہے کہ اب عام یہ اسلام نہیں


حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے منقبت


تُو تو ہر دین کے، ہر دور کے انسان کا ہے

کم کبھی بھی تیری توقیر نہ ہونے دیں گے

ہم سلامت ہیں زمانے میں تو انشاء اللہ

تجھ کو اک قوم کی جاگیر نہ ہونے دیں گے


امام حسین ؓ کے بارے میں


زندہ اسلام کو کیا تُو نے

حق و باطل دِکھا دیا تُو نے

جی کے مرنا تو سب کو آتا تھا

مر کے جینا سِکھا دِیا تُو نے


لب پہ اے شاہِ شہیداں ؓ تیرا نام آتا ہے

سامنے ساقیِ کوثرؐ لیے جام آتا ہے

مجھ کو بھی اپنی غلامی کا شرف دے دیجیو

کھوٹا سِکہ بھی تو آخر کبھی کام آتا ہے


( غزل)


ابھی وہ کمسن ابھر رہا ہے ابھی ہے اس پر شباب آدھا

ابھی جگر میں خلش ہے آدھی ابھی ہے مجھ پر عتاب آدھا


حجاب و جلوہ کی کشمکش میں اٹھایا اس نے نقاب آدھا

ادھر ہویدا سحاب آدھا ادھر عیاں ماہتاب آدھا


مرے سوال وصال پر تم نظر جھکا کر کھڑے ہوئے ہو

تمہیں بتاؤ یہ بات کیا ہے سوال پورا جواب آدھا


لپک کے مجھ کو گلے لگایا خدا کی رحمت نے روز محشر

ابھی سنایا تھا محتسب نے مرے گنہ کا حساب آدھا


بجا کہ اب بال تو سیہ ہیں مگر بدن میں سکت نہیں ہے

شباب لایا خضاب لیکن خضاب لایا شباب آدھا


لگا کے لاسے پہ لے کے آیا ہوں شیخ صاحب کو مے کدے تک

اگر یہ دو گھونٹ آج پی لیں ملے گا مجھ کو ثواب آدھا


کبھی ستم ہے کبھی کرم ہے کبھی توجہ کبھی تغافل

یہ صاف ظاہر ہے مجھ پہ اب تک ہوا ہوں میں کامیاب آدھا


کسی کی چشم سرور آور سے اشک عارض پہ ڈھل رہا ہے

اگر شعور نظر ہے دیکھو شراب آدھی گلاب آدھا


پرانے وقتوں کے لوگ خوش ہیں مگر ترقی پسند خاموش

تری غزل نے کیا ہے برپا سحرؔ ابھی انقلاب آدھا


کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر


ابھیشیک کمار امبر

 یوم پیدائش 07 مارچ 2000


ایک خواہش ہے بس زمانے کی

تیری آنکھوں میں ڈوب جانے کی


ساتھ جب تم نبھا نہیں پاتے

کیا ضرورت تھی دل لگانے کی


آج جب آس چھوڑ دی میں نے

تم کو فرصت ملی ہے آنے کی


تیری ہر چال میں سمجھتا ہوں

تجھ کو عادت ہے دل دکھانے کی


ہم تو خانہ بدوش ہیں لوگو

ہم سے مت پوچھئے ٹھکانے کی


ابھیشیک کمار امبر


نجمہ محمود

 یوم پیدائش 08 مارچ 1942


 نظم

 برف یوں ہی گرے 

چوٹیوں کو پہاڑوں کی ڈھکتی رہے 

کوہساروں میں چاندی پگھلتی رہے 

آگ جلتی رہے 

مینہ برستا رہے 

آرزؤں کے بے چین سے قافلے 

یوں ہی آہستگی سے سرکتے رہیں 

ہم یوں ہی خواب کی وادیوں سے گزرتے رہیں 

ہم یوں ہی ہر طرف 

وادیوں کوہساروں میں تحلیل ہوتے رہیں 


درختوں کی شاخوں پہ اس طرح ہی

صاف شفاف موتی دمکتے رہیں 

رقص شاخوں کا پیہم ہی جاری رہے 

برف کی آگ بس یوں ہی جلتی رہے 

برف یوں ہی گرے


نجمہ محمود


حسن رضا

 یوم پیدائش 09 مارچ 1971


ہجر کی سیج پہ دن رات گزارے کم تھے

کیسے کہہ دوں کہ محبت میں شرارے کم تھے

 

ڈوبنے والے محبت میں بہت تھے تری

اک سمندر تھا مگر اس کے کنارے کم تھے


زخم ہی زخم تھے پوشاک وفا پر صاحب

دامنِ عشق پہ نکلے ہوئے تارے کم تھے


اتنی خوش فہمیاں پائیں تھیں صعوبت میں تری

زندہ رہنے کے لیے یار سہارے کم تھے


اس نے حالات کی لہروں میں سمویا مجھکو

موج در موج جہاں عشق کے دھارے کم تھے


مرے وجدان کی تنہائی میں کچھ دیر رہے

آپکا حسن نظر جس میں خسارے کم تھے


لوگ خوابوں سے نکل آئے تو جانا ہم نے

رنگ تعبیر کے آنکھوں میں اتارے کم تھے


 اس کو بے ساختہ ہنستے ھوئے دیکھا تو لگا 

اس کی صحبت میں رضا لمحے گزارے کم تھے


حسن رضا


سید غضنفر علی غضنفر

 یوم پیدائش 09 مارچ 1953


محیط حسن جو اب دم بدم چڑھاؤ پہ ہے 

چلا ہے گھر سے اکڑتا بڑے ہی تاؤ پہ ہے 


مجھے بتا دے تو رہتا ہے کون سے گھر میں 

کہ جس کے کوٹھے سے کوٹھا ترا لگاؤ پہ ہے 


اٹھا کے آنکھ کسے دیکھنے کی تاب ہے آہ 

نشست یار اگرچہ بڑے دکھاؤ پہ ہے 


ہم اس کی بزم کی حسرت میں ہاتھ ملتے ہیں 

یہ جوں جوں سنتے ہیں مجلس بڑے جماؤ پہ ہے 


نہ پوچھو بحر محبت میں کچھ ہمارا حال 

جو کچھ ہے آفت دریا سو اپنی ناؤ پہ ہے 


غضنفرؔ اس سے تو کر لیجو عرض حال اپنا 

ابھی نہ بول کہ غصہ میں ہے وہ تاؤ پہ ہے


سید غضنفر علی غضنفر


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...