Urdu Deccan

Saturday, August 20, 2022

غوثیہ سلطانہ نوری

یوم پیدائش 15 اگست
راستہ ملتا نہیں

بند آنکھوں کو سفر میں راستہ ملتا نہیں
ہر کسی کو یونہی اونچا مرتبہ ملتا نہیں

قافلہ لوٹا گیا منزل کے پا لینے سے قبل
یاس میں ڈوبے ہوئے ہیں حوصلہ ملتا نہیں

احتساب اپنے عمل کا خود نہ کر پائے اگر
آدمیت سے وفا کا واسطہ ملتا نہیں

کچھ نہیں ہے زندگی رب کی محبت کے بغیر
کچھ سواۓ بندگی کے ، آسرا ملتا نہیں

کر دے جو تصویر کے ہر زخ کو روشن دوستو!
 اب کہیں بھی ایسا نوری آئینہ ملتا نہیں
 
 غوثیہ سلطانہ نوری


نبیل تبسم

یوم پیدائش 14 اگست 1997

یہاں پہ کون بھلا کس کو یار بھاتا ہے
یہاں تو آدمی ہی آدمی کو کھاتا ہے

وہ تیرے در کو بہت پر کشش بناتا ہے
وہ پچھلی رات کو آ کر دیا جلاتا ہے

جو دن میں اپنی تھکاوٹ کو دور کرتا ہے
وہ درد رات کو اکثر ہی جاگ جاتا ہے

تو اس پہ رحم کیا کر وہ مر نہ جائے کہیں
اے رات اپنا لہو وہ تجھے پلاتا ہے

نبیل تبسم


شہباز ماہی

یوم پیدائش 14 اگست 1996
 
خاک پائے رسول میں جو ہے
بات وہ ہے کہاں نگینے میں

شہباز ماہی


 

احسان شاہ

یوم پیدائش 14 اگست

بنا پیچھے مڑے کچھ لوگ بھاگے اور آگے
میرے ادراک کی سرحد سے آگے اور آگے

طبعیت منجمد ہوتی کسی منزل پہ کیوںکر
سفر میں عشق کے ملتے تھے دھاگے اور آگے

یہ کن مٹتے ہوئے چہروں کی بستی ہے یہاں پر
ہیولے ہی ہیولے مجھ کو لاگے اور آگے

ذرا سی دیر ٹھہرے اور خوابوں کے نگر سے
دوبارہ چل دئیے جب سو کے جاگے اور آگے

ہمارا مستقل رکنا یہاں ممکن نہیں ہے
یہاں سے بھی ہمیں جانا ہے آگے اور آگے

احسان شاہ


 

حاویؔ مومن آبادی

یوم پیدائش 14 اگست 1979

مرا پیار تھا دوانہ مرا عشق تھا نرالا
چلو یاد تو کرے گا مجھے بھول جانے والا

کبھی لفظوں میں پرویا کبھی شعر میں سراہا  
میں نےآتشِ نہاں سے ترے حسن کو اجالا

نہ جلاؤ ریگِ تُفتہ مرے دل کو یوں خدارا 
کہیں پھٹ گیا مبادا مرے پاؤں کا یہ چھالا

ترے حلق میں پھنسے گی یہ غریب کی کمائی
تجھے ہضم کیسے ہوگا یہ غریب کا نوالا 

مجھے داغ مت دکھانا میں زمانے کا جلا ہوں 
میں نے گر دکھائی چھاتی ترا کیا بنے گا لالہ 

میں مٹا سکا نہ حاویؔ یہ جہان کا اندھیرا 
میں نے دل بڑا جلایا پہ نہ کرسکا اُجالا 

حاویؔ مومن آبادی


 

ڈاکٹر اکرام الحق شوق

یوم وفات 14 اگست 2018

چاہت کا کبھی ایسے سمندر نہیں دیکھا
کربل سا کبھی پہلے تو منظر نہیں دیکھا

اس فخر سے میداں میں جگر کوشے اتارے 
ایسے کہیں اصغر کہیں اکبر نہیں دیکھا

جیتا ہوا کربل بھی محبت میں جو ہارے
ایسا تو زمانے میں سکندر نہیں دیکھا

حاکم تو لٹیرے ہیں بہت پہلے بھی دیکھے
شبیر سا عالم نے بھی رہبر نہیں دیکھا

تن من یہاں وارے جو شہادت پہ مسلسل
دنیا نے کہیں اور وہ قلندر نہیں دیکھا

لاچار تو دیکھے ہیں بہت قبر میں جاتے
ایسا تو کبھی شوق مکرر نہیں دیکھا

باطل سے لڑے شوق شہادت میں کہیں حق
تاریخ نے ایسا کبھی لشکر نہیں دیکھا

ڈاکٹر اکرام الحق شوق



فاخرہ بتول

یوم پیدائش 14 اگست 

عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو 
سانحہ ایسا ہوا تو کیا کرو گے سوچ لو 

ساتھ اس کے ہر قدم چلنے کی عادت کس لیے 
چھوڑ کر وہ چل دیا تو کیا کرو گے سوچ لو 

شور باہر ہے ابھی اس واسطے خاموش ہو 
شور اندر سے اٹھا تو کیا کرو گے سوچ لو 

کر رہے ہو گھر نیا تعمیر اڑتی ریت پر 
یہ اچانک گر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو 

لوٹ کر جانا تو ہے آخر سبھی کو اس طرف 
سو برس بھی جی لیا تو کیا کرو گے سوچ لو 

دھڑکنیں مدھم ہوئی جاتی ہیں اے چارہ گرو 
چاک دل کا سل گیا تو کیا کرو گے سوچ لو 

بند پلکوں میں ادھورے خواب بنتے ہو مگر 
کوئی ان میں آ بسا تو کیا کرو گے سوچ لو 

در دریچے سب مقفل کر کے بیٹھے ہو مگر 
وہ اچانک آ گیا تو کیا کرو گے سوچ لو 

ڈوبتے سورج کا چہرہ اور اس کا نقش پا 
جب یہ منظر گم ہوا تو کیا کرو گے سوچ لو 

فاخرہ بتول 


 

صائمہ نورین بخاری

یوم پیدائش 14 اگست 1971

کتنی آسانی نکل آتی ہے دشواری سے 
دل شفایاب ہوا ہجر کی بیماری سے 

تیرے خط جتنی تہوں میں بھی چھپا کر رکھوں 
تیرے ہاتھوں کی مہک آتی ہے الماری سے

وہی آنکھوں میں کوئی بھوک درندوں جیسی 
خوش لباسی میں بھی لہجے وہی بازاری سے

تیرے چہرے سے کسی روز یہ اترے گا نقاب 
بےخبر ہے یہ جہاں تیری اداکاری سے

زخم پھولوں کی طرح دل میں کھلے جاتے ہیں
گل فشانی ہے ترے غم کی شجر کاری سے

صائمہ نورین بخاری


 

شاد لکھنوی

یوم وفات 14 اگست 1899

عشق رخ و زلف میں کیا کوچ 
شب آ کے رہا سحر کیا کوچ 

خیاط نفس کا ہے بجا کوچ 
درزی کا ہے کیا مقام کیا کوچ 

جب موج رواں کہیں نہ ٹھہری 
دم لے کے حباب کر گیا کوچ 

ہر دم ہے روا نہ عمر انساں 
ہر ایک نفس ہے کر رہا کوچ 

پروانہ جلا تو شمع بولی 
تیرا ہے ادھر ادھر مرا کوچ 

وہ سوزن ساعت رواں ہوں 
کرتی ہے جو ہر منٹ سدا کوچ 

گھنگھرو دم نزع بولتا ہے 
آواز جرس نے دی ہوا کوچ 

ہم ساتھ تھے پا شکستہ جس کے 
لشکر وہ جہاں سے کر گیا کوچ 

شب بھر ہے فروغ شعلہ اے شادؔ 
ہنگام سحر ہے شمع کا کوچ

شاد لکھنوی


 

شمیم ہاشمی

یوم پیدائش 14 اگست 1947

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں 
معنی الجھ کے رہ گئے لفظوں کے جال میں 

جیتا ہے کون بحث میں مورکھ سے آج تک 
بے کار کیوں الجھتے ہو تم قیل و قال میں 

لے جانے والے لوٹ کے سب کچھ چلے گئے 
ہم سوچتے ہی رہ گئے کالا ہے دال میں 

ممکن ہے ان کے در سے ٹکا سا ملے جواب 
لیکن نہ ہچکچائیے اپنے سوال میں 

رشتے کی بات کون کسی سے کرے یہاں 
اپنا بنا کے لوگ پھنساتے ہیں جال میں 

پھولوں کا دل کلی کی تمنا مری دعا 
کام آئے رنگ بن کے تمہارے جمال میں 

رکھتے ہیں ناپ تول کے وہ ہر قدم شمیمؔ 
پیاری لگے ہے ان کی ادا ٹیڑھی چال میں

شمیم ہاشمی


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...