Urdu Deccan

Sunday, August 21, 2022

گلنار آفرین

یوم پیدائش 15 اگست 1942

شام الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر 
روتا رہا ہے یہ دل پہروں مچل مچل کر 

منزل کی جستجو میں پہنچے کہاں کہاں ہم 
دیکھا کیے تماشہ رستے بدل بدل کر 

شہر وفا میں ہم نے سب کچھ لٹا دیا ہے 
یہ بات ان سے کہنا لوگو سنبھل سنبھل کر 

کیا ضد کریں گے تجھ سے اے گردش زمانہ 
ہنسنا بھی آ گیا ہے غم سے بہل بہل کر 

گلنارؔ ضبط غم کی یہ انتہا بھی دیکھی 
دامن بھگو رہے ہیں آنسو نکل نکل کر 

گلنار آفرین


 

یوسف تقی

یوم پیدائش 15 اگست 1943

اتنا کرم کہ عزم رہے حوصلہ رہے 
اس دل کے ساتھ درد کا رشتہ سدا رہے 

اپنی انا کے ساتھ جیے کج ادا رہے 
اب اس کا کیا ملال کہ بے دست و پا رہے 

خود ساختہ خداؤں کا مجھ کو نہیں ہے خوف 
تیری نوازشوں کا بس اک سلسلہ رہے 

آداب دوستی سے تو واقف کبھی نہ تھے 
تہذیب دشمنی سے بھی نا آشنا رہے 

یہ بھی ہمارے دور کا اک المیہ ہی ہے 
رہنے کو ساتھ ساتھ رہے پر جدا رہے

یوسف تقی


 

حنا لکھنوی

یوم پیدائش 15 اگست 1958

کتنی مدت کے بعد آئے ہیں
جیسے اپنے نہیں پرائے ہیں

حنا لکھنوی


 

صوفی سلطان شطاری

یوم پیدائش 15 اگست 1950

نیک اِنسانوں سے جن کا دوستانہ ہوگیا
اُن کا جیتے جی ہی جنت میں ٹھکانہ ہوگیا

چل رہا ہے زور سے ہر کاروبارِ خواہشات
اس لئے آباد دل کا کارخانہ ہوگیا

خوش نصیبی سے روابط ان سے قائم کیا ہوئے
روز میرے گھر پر اُن کا آنا جانا ہوگیا

زندگی میرے گلے کا ہار بن کر رہ گئی
دل لگانا اس سے میرا اک بہانہ ہوگیا

پیر کی نسبت کے صدقے پیر پر قربان دل
نُور سے اُن کے مرا روشن گھرانہ ہوگیا

اِنکساری جب مری حد سے زیادہ ہوگئی
اُن کا اندازِ کرم بھی والہانہ ہوگیا

آنے والے رزق اپنالے کے سُلطاںؔ آئیں گے
جائیں گے وہ ختم جن کا آب و دانہ ہوگیا

صوفی سلطان شطاری


 

عیسی رشک

یوم پیدائش 15 اگست 1953

سبب ہر خونِ ناحق کا تری تفریق ہے ورنہ
خیالِ اتحادِ حق پیامِ مرگِ قاتل ہے

عیسی رشک


 

الیاس احمد جالب

یوم پیدائش 15 اگست 1949

گلہ ہی کیا ہے دوستو ، اگر نہ محترم رہے
کہ راہِ مستقیم پر نہ تم رہے نہ ہم رہے

کھڑے صفوں میں ہوگئے ملا کے دوش ہم مگر
دلوں میں فاصلے رہے ، طبیعتوں میں خم رہے

یہ کیا کہ جو ستم کرے اسے سلام سب کریں
یہ کیا کہ جو لہو پیے ، یہاں وہ محترم رہے

کھلے گی جالبِ حزیں خلافِ حق نہ یہ زباں
ہمارے گھر میں عمر بھر خوشی رہے کہ غم رہے

الیاس احمد جالب



مشتاق ہاشمی

یوم پیدائش 15 اگست 1965

میری جانب ملتفت سارا جہاں ہو جائے گا 
دل اگر مہر و محبت کا مکاں ہو جائے گا 

سونپ دو تلوار پہلے تم ذرا مظلوم کو 
دیکھنا پھر شہر میں امن و اماں ہو جائے گا 

امتیاز رنگ و بو کا خاتمہ جس دن ہوا
پھر یہی ہندوستاں رشک جناں ہو جائے گا 

کیا ضروری ہے کریں ہر شخص سے اظہار غم 
خامشی سے مدعا خود ہی بیاں ہو جائے گا 

دوستوں سے تم نہ کرنا انکشاف راز دل 
آشکارا ورنہ پھر راز نہاں ہو جائے گا 

ہو اگر ان کو پتہ مشتاقؔ ہے مشتاق دید 
آسماں اک اور زیر آسماں ہو جائے گا 

مشتاق ہاشمی



شاذیہ اکبر

یوم پیدائش 15 اگست 1975

اب تیرے انتظار کی عادت نہیں رہی 
پہلے کی طرح گویا محبت نہیں رہی 

ذوق نظر ہمارا بڑھا ہے کچھ اس طرح 
تیرے جمال پر بھی قناعت نہیں رہی

فرقت میں اس کی روز ہی ہوتی تھی اک غزل 
اب شاعری ذریعۂ راحت نہیں رہی 

دنیا نے تیرے غم سے بھی بیگانہ کر دیا 
اب دل میں تیرے وصل کی چاہت نہیں رہی 

کچھ ہم بھی تھک گئے ترے در پر کھڑے کھڑے 
تم میں بھی پہلے جیسی سخاوت نہیں رہی 

تکتے ہیں روز ایک ہی صورت الم کی ہم 
یا رب ترے جہاں میں بھی جدت نہیں رہی

شاذیہ اکبر 


 

Saturday, August 20, 2022

ارشد جمال صارم

یوم پیدائش 15 اگست 1978

کیا کہوں کتنا فزوں ہے تیرے دیوانے کا دکھ 
اک طرف جانے کا غم ہے اک طرف آنے کا دکھ 

ہے عجب بے رنگیٔ احوال مجھ میں موجزن 
نہ ہی جینے کی طلب ہے نہ ہی مر جانے کا دکھ 

توڑ ڈالا تھا سبھی کو درد کے آزار نے 
سہہ نہ پایا تھا کوئی کردار افسانے کا دکھ 

خون رو اٹھتی ہیں سب آنکھیں نگار صبح کی 
بانٹتی ہے شب کبھی جو آئینہ خانے کا دکھ 

شمع بھی تو ہو رہی ہوتی ہے ہر پل رائیگاں 
کیوں فقط ہم کو نظر آتا ہے پروانے کا دکھ 

سر پٹکتی تھیں مسلسل موج ہائے تشنگی 
ہونٹ کے ساحل پہ خیمہ زن تھا پیمانے کا دکھ 

لوٹتا ہے جب بھی سینے پر شناسائی کا سانپ 
لہر اٹھتا ہے بدن میں ایک انجانے کا دکھ 

وار دیتا ہوں میں صارمؔ اپنی سب آبادیاں 
مجھ سے دیکھا ہی نہیں جاتا ہے ویرانے کا دکھ

ارشد جمال صارم


 

عادل رضا منصوری

یوم پیدائش 15 اگست 1978

چاند تارے بنا کے کاغذ پر 
خوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پر 

بستیاں کیوں تلاش کرتے ہیں 
لوگ جنگل اگا کے کاغذ پر 

جانے کیا ہم سے کہہ گیا موسم 
خشک پتا گرا کے کاغذ پر 

ہنستے ہنستے مٹا دیے اس نے 
شہر کتنے بسا کے کاغذ پر 

ہم نے چاہا کہ ہم بھی اڑ جائیں 
ایک چڑیا اڑا کے کاغذ پر 

لوگ ساحل تلاش کرتے ہیں 
ایک دریا بہا کے کاغذ پر 

ناؤ سورج کی دھوپ کا دریا 
تھم گئے کیسے آ کے کاغذ پر 

خواب بھی خواب ہو گئے عادلؔ 
شکل و صورت دکھا کے کاغذ پر 

عادل رضا منصوری


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...