Urdu Deccan

Sunday, August 28, 2022

آتش اندوری

یوم پیدائش 08 اگست 1977

کاش میں تجھ سا بے وفا ہوتا 
پھر مجھے تجھ سے کیا گلہ ہوتا 

عشق ہوتا ہے کیا پتا ہوتا 
گر پرندوں سے واسطہ ہوتا

بول کے مجھ سے گر جدا ہوتا 
ملنے جلنے کا سلسلہ ہوتا 

بے وفائی کا سرخ رنگ بھی ہے 
عشق میں ورنہ کیا مزہ ہوتا 

خود پہ گر اختیار ہوتا تو 
دور میں تجھ سے جا چکا ہوتا 

حصے میں آتا صرف امیروں کے 
عشق پیسوں میں گر بکا ہوتا

آتش اندوری



علی ارمان

یوم پیدائش 25 اگست 1973

ترے خیال کا نشہ اترتا جاتا ہے 
ٹھہر ٹھہر کے کوئی پل گزرتا جاتا ہے 

بکھرتی ہے مرے چہرے پہ جتنی پیلاہٹ 
اے زندگی ترا چہرہ نکھرتا جاتا ہے 

زمیں کو بھوک لگی پھر کسی تمدن کی 
یہ کون زینۂ عبرت اترتا جاتا ہے 

بتا رہی ہے تھکن تیرے زرد لہجے کی 
ترے لہو میں کوئی خواب مرتا جاتا ہے 

جسے سجانا تھا ارمان اس کی زلفوں میں 
وہ پھول اس کی طلب میں بکھرتا جاتا ہے

علی ارمان



نینا سحر

یوم پیدائش 25 آگست 1966

کیا کرشمہ تھا خدایا دیر تک 
خود کو کھو کر خود کو پایا دیر تک 

چھو کے لوٹا جب تجھے میرا خیال 
ہوش میں واپس نہ آیا دیر تک 

کل کوئی جھونکا ہوا کا چھو گیا 
اور پھر تو یاد آیا دیر تک 

ہم تری آغوش میں تھے رات بھر 
''ماہ کامل مسکرایا دیر تک'' 

کل ترے احساس کی بارش تلے 
میرا سونا پن نہایا دیر تک 

سن کے بھیگی رات کی سرگوشیاں 
اک کنوارا پن لجایا دیر تک

نینا سحر



شبیر احمد قرار

یوم پیدائش 25 اگست 1941

سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا 
جینا کیا سیکھا مر جانا سیکھ لیا 

دیواروں پر بستی کی اوقات کھلی 
بچوں نے تصویر بنانا سیکھ لیا 

کالی پیلی تفسیروں کی زد پر ہوں 
خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا 

سورج طعنے مارے چندا شرمائے 
راتوں نے کاجل پھیلانا سیکھ لیا 

آہ سفر دم ماں کے آنسو کل کی بات 
اب تو گھر نے ہاتھ ملانا سیکھ لیا 

جانے بوجھے لوگ بھی کل کو روتے ہیں 
وقت نے شاید لوٹ کے آنا سیکھ لیا 

لکڑی کی تلوار کہاں میدان کہاں 
شہزادے نے جان چرانا سیکھ لیا 

شبیر احمد قرار



کالی داس گپتا رضا

یوم پیدائش 25 اگست 1925

جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے 
انساں گھٹ کر سائے سے رہ جاتے ہوں گے 

دو دن کو گلشن پہ بہار آنے کو ہوگی 
پنچھی دل میں راگ سدا کے گاتے ہوں گے 

دنیا تو سیدھی ہے لیکن دنیا والے 
جھوٹی سچی کہہ کے اسے بہکاتے ہوں گے 

یاد آ جاتا ہوگا کوئی جب راہی کو 
چلتے چلتے پاؤں وہیں رک جاتے ہوں گے 

کلی کلی برہن کی چتا بن جاتی ہوگی 
کالے بادل گھر کر آگ لگاتے ہوں گے 

دکھ میں کیا کرتے ہوں گے دولت کے پجاری 
روپ کھلونا توڑ کے من بہلاتے ہوں گے

کالی داس گپتا رضا
 


غنی حیدر گنجوی

یوم پیدائش 24 اگست 1924

ہیں کفر کے فتوے تو اوروں کے لیے لیکن
میزانِ شریعت پہ کیا خود کو بھی تولا ہے

غنی حیدر گنجوی



Wednesday, August 24, 2022

مجیب ظفر انوار حمیدی

یوم پیدائش 24 اگست 1960

حق میری محبت کا ادا کیوں نہیں کرتے
تم درد تو دیتے ہو دوا کیوں نہیں کرتے

کیوں بیٹھے ہو خاموش سرہانے میرے آ کر
یارو مرے جینے کی دعا کیوں نہیں کرتے

پھولوں کی طرح جسم ہے پتھر کی طرح دل
جانے یہ حسیں لوگ وفا کیوں نہیں کرتے

ہر بات پرندوں کی طرح اڑتی ہوئی سی
جو بات بھی کرتے ہو سدا کیوں نہیں کرتے

لو دیکھو حمیدیؔ لب دریا پہ ہے دریا
پر پیاس ہے کب کی یہ پتا کیوں نہیں کرتے

مجیب ظفر انوار حمیدی


 

اشوک ساحل

یوم وفات 24 آگست 2020

اب اس سے پہلے کہ دنیا سے میں گزر جاؤں 
میں چاہتا ہوں کوئی نیک کام کر جاؤں 

خدا کرے مرے کردار کو نظر نہ لگے 
کسی سزا سے نہیں میں خطا سے ڈر جاؤں 

ضرورتیں میری غیرت پہ طنز کرتی ہیں 
مرے ضمیر تجھے مار دوں کہ مر جاؤں 

بہت غرور ہے بچوں کو میری ہمت پر 
میں سر جھکائے ہوئے کیسے آج گھر جاؤں 

مرے عزیز جہاں مجھ سے مل نہ سکتے ہوں 
تو کیوں نہ ایسی بلندی سے خود اتر جاؤں

اشوک ساحل

شاہد نور

یوم پیدائش 24 اگست 1980

مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
مری مٹی کو دلدل کردیا ہے

مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے

میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
تری فرقت نے جنگل کردیا ہے

کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
سمندر کو مکمل کردیا ہے

مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
مرے آنسو کو صندل کردیا ہے

وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے

فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

شاہد نور



حیرت بدایونی

یوم پیدائش 24 اگست 1896

اگر ساقی تسلی بخش سمجھوتا نہیں ہوتا
تو پھر تشنہ لبوں کا جوش بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا

جو خود مختارِ گلشن ہیں وہاں ایسا نہیں ہوتا
عَناِدل کی فغاں و آہ پر پہرا نہیں ہوتا

وفورِ عیش سے ہر چند مالا مال ہے لیکن
شعورِ عاشقی انسان میں پیدانہیں ہوتا

وفاداری کے دستورالعمل ہی کو بدل ڈالے
محبت میں کسی کم بخت سے اتنا نہیں ہوتا

جب آتا ہے تو پھر طوفان پر طوفان آتا ہے
نہیں ہوتا تو برسوں فتنہ بھی برپا نہیں ہوتا

غمِ دل سے گراں تر ہے غم ِدنیا ومافیہا
یہ غم پیدا کیا جاتا ہے خود پیدا نہیں ہوتا

تمہیں انصاف سے کہہ دو مسیحا ہو کہ قاتل ہو
کہ ہر بیمار ۔ مر جاتا تو ہے اچھا نہیں ہوتا

غموں کی کوئی حد بھی ہے کہاں تک سختیاں جھیلے
کسی کا دل ہو ۔ دل ہوتا ہے ، پتھر کا نہیں ہوتا

یہاں تفریقی شیخ و برہمن اچھی نہیں ساقی
یہاں کوئی کسی کے خون کا پیاسا نہیں ہوتا

وہ بھی اک پردہ تھاحیرت جسے تم جلوہ سمجھے ہو
جو آنکھوں کو نظر آجائے وہ جلوا نہیں ہوتا

حیرت بدایونی



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...