Urdu Deccan

Tuesday, February 28, 2023

حاویؔ مومن آبادی

یوم پیدائش 04 فروری 1982

دکھنے میں باغ باغ ہیں ہم لوگ
ورنہ تو داغ داغ ہیں ہم لوگ

خوابِ خرگوش میں پڑے ہیں گُم 
ہائے کیا خر دماغ ہیں ہم لوگ

دل کی ہر بات مان لیتے ہیں 
کتنے سادہ دماغ ہیں ہم لوگ

کسی مسمار خُمر خانے کے
صد شکستہ ایاغ ہیں ہم لوگ

ایک دوجے سے جل رہے ہیں ہم
گویا حاویؔ چراغ ہیں ہم لوگ

حاویؔ مومن آبادی


 

Friday, February 24, 2023

چندر بھان کیفی دہلوی

یوم وفات 04 فروری 1941

کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا
کہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا

تقدیر اسی کی ہے نصیبہ ہے اسی کا
جس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا

تا زیست نہ ٹوٹے وہ مرا عہد وفا ہے
تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا

برچھی کی طرح دل میں کھٹکتی ہیں ادائیں
انداز جو قاتل دم رفتار ہے تیرا

کیا تو نے کھلائے چمن بزم میں کیفیؔ
کیا رنگ گل افشائی گفتار ہے تیرا

چندر بھان کیفی دہلوی



الطاف نادر

یوم پیدائش 03 فروری 1951

خوابیدہ زمانے کو جگاتے جاؤ
نقارہ اخوت کا بجاتے جاؤ
اغلط کوئی کہتا ہے اسے کہنے دو
دیوار عداوت کی گراتے جاؤ

الطاف نادر



معراج بنارسی

یوم پیدائش 03 فروری 1960

بسا دے سینے میں ایسی یارب ولائے خیرالوراﷺ کی خوشبو
نفس نفس سے اٹھے ہماری نبیﷺ کے عشق و وفا کی خوشبو

وہی ہیں تحت الثری کی نکہت وہی ہیں عرش علیٰ کی خوشبو
انہیں کے صدقے مہک رہی ہے تمام ارض و سما کی خوشبو

زمین و افلاک و لامکاں ہو مقامِ سدرہ ہو یا جناں ہو
مہک رہی ہے تمام عالم میں سیدالانبیا کی خوشبو

اِنہیں پہ صدقے ہے صبحِ اول انہیں پہ قرباں ہے یومِ آخر
انہیں میں ہے ابتدا کی خوشبو اِنہیں میں ہے انتہا کی خوشبو

یہی وہ شاداب گل ہے جس میں بسی ہے بوئے نویدِ عیسی
اسی شگفتہ گلاب میں ہے خلیلِ حق کی دعا کی خوشبو

بنا ہے معراجؔ دل کا آنگن محبتِ مصطفیٰ کا گلشن
ہماری روحِ رواں پہ قربان ہے بہشتی ہوا کی خوشبو

معراج بنارسی



اعجاز وارثی

یوم پیدائش 03 فروری 1911

کار خیر اتنا تو اے لغزش پا ہو جاتا 
پائے ساقی پہ ہی اک سجدہ ادا ہو جاتا 

وہ تو یہ کہئے کہ مجبور ہے نظم ہستی 
ورنہ ہر بندۂ مغرور خدا ہو جاتا 

قافلے والے تھے محروم بصیرت ورنہ 
میرا ہر نقش قدم راہنما ہو جاتا 

غم کے ماروں پہ بھی اے داور حشر ایک نظر 
آج تو فیصلۂ اہل وفا ہو جاتا 

یوں اندھیروں میں بھٹکتے نہ کبھی اہل خرد 
کوئی دیوانہ اگر راہنما ہو جاتا 

دل تری نیم نگاہی کا تو ممنون سہی 
درد ابھی کم ہے ذرا اور سوا ہو جاتا 

لذت غم سے ہے ضد فطرت غم کو شاید 
درد ہی درد نہ کیوں درد دوا ہو جاتا 

سن کے بھر آتا اگر ان کا بھی دل اے اعجازؔ 
قصۂ درد کا عنوان نیا ہو جاتا

اعجاز وارثی


 

فرحت حنیف وارثی

یوم پیدائش 03 فروری 1966

مکان چہرے دکان چہرے 
ہماری بستی کی جان چہرے 

اجاڑ نسلوں کے نوحہ گر ہیں 
خزاں رسیدہ جوان چہرے 

دھواں دھواں منظروں کا حصہ 
خیال خوشبو گمان چہرے  

کوئی تأثر ہو زندگی کا 
کریں خوشی غم بیان چہرے 

کوئی نہیں ہے کسی سے واقف 
نگر میں سب بے نشان چہرے 

حنیفؔ قدریں بدل چکی ہیں 
نہ ڈھونڈ وہ درمیان چہرے 

فرحت حنیف وارثی


 

مستحسن عزم

یوم پیدائش 02 فروری 1970

نچوڑتا ہے جو آنکھوں سے نیند ، آب کے ساتھ 
گزارتا ہوں دن اپنا اُس ایک خواب کے ساتھ

میں گیندا ، میں نے رکھی انفرادیت قائم
َرکھا گیا تھا مجھے گچّھےمیں گلاب کے ساتھ

ابھی بھی دھندلا ہےمنظر کچھ اورکھول پرت
مرا سوال کھڑا ہے ترے جواب کے ساتھ 

یہ شہر سارا توپردے میں بھی کھلا ہوا ہے 
کسے برہنہ کہیں کون ہے حجاب کے ساتھ

دلِ تباہ کو حاصل ہے لطفِ خودداری
کہاں جنوں کا تعلق ہےاحتساب کے ساتھ

جوچڑھ گئی ہے نفاست زباں پہ، جاتی نہیں 
ذرا سا بیٹھا تھا اردو کی اک کتاب کے ساتھ

ملا تو طرزِ تخاطب کا عزمؔ بھید کُھلا
لیا تھا اُس نے مرا نام تو جناب کے ساتھ

مستحسن عزم


 

شہاب لکھنوی

یوم پیدائش 02 فروری 1925

کون احسانِ ناخدائی لے
اس سے بہتر تو ڈوب جانا ہے

شہاب لکھنوی

 

 

اشرف چنگیزی

یوم پیدائش 02 فروری 1932

یہ رنگ سیاست ہے تو پھر اب کے ابابیل
پھینکیں گے وہ پتھر کہ کوئی سر نہ بچے گا

اشرف چنگیزی 

 

نفیس دسنوی

یوم پیدائش 02 فروری 1950

لامکاں کے رہنے والے اس جہاں تک آگئے
ایک لغزش پر کہاں سے ہم کہاں تک آگئے

دل گرفتہ تم بھی کچھ تھے‘ دل گرفتہ ہم بھی تھے
کہتے کہتے داستاں آہ و فغاں تک آگئے

لغزشِ آدم میں پنہاں تھی کسی کی مصلحت
اک قدم بہکا مکاں سے ہم زماں تک آ گئے

ہے فریبِ دل نشیں ان کی محبت بھی نفیسؔ
بات جب نکلی یقیں کی‘ ہم گماں تک آ گئے 

نفیس دسنوی


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...