یوم پیدائش 03 فروری 1911
کار خیر اتنا تو اے لغزش پا ہو جاتا
پائے ساقی پہ ہی اک سجدہ ادا ہو جاتا
وہ تو یہ کہئے کہ مجبور ہے نظم ہستی
ورنہ ہر بندۂ مغرور خدا ہو جاتا
قافلے والے تھے محروم بصیرت ورنہ
میرا ہر نقش قدم راہنما ہو جاتا
غم کے ماروں پہ بھی اے داور حشر ایک نظر
آج تو فیصلۂ اہل وفا ہو جاتا
یوں اندھیروں میں بھٹکتے نہ کبھی اہل خرد
کوئی دیوانہ اگر راہنما ہو جاتا
دل تری نیم نگاہی کا تو ممنون سہی
درد ابھی کم ہے ذرا اور سوا ہو جاتا
لذت غم سے ہے ضد فطرت غم کو شاید
درد ہی درد نہ کیوں درد دوا ہو جاتا
سن کے بھر آتا اگر ان کا بھی دل اے اعجازؔ
قصۂ درد کا عنوان نیا ہو جاتا