Urdu Deccan

Wednesday, March 1, 2023

دائم بٹ

یوم پیدائش 25 فروری 1975

خدا بناتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے
بشر مٹاتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

یہ کس نے کھینچ دیں نفرت کی ہم میں دیواریں 
لہو بہاتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

عجیب خبط ہے اس شہرِ بے سماعت میں
صدا لگاتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

قیام اپنے لیے موت کے ہے مترادف
سفر بڑھاتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

دکھائی دیتا ہے یہ آئینے میں کون ہمیں
نظر چراتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

ہم ایسے دھوپ گزیدہ کہ صحرا در صحرا
شجر اگاتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

ہم اپنے مدِ مقابل ہیں آپ ہی دائم
شکست کھاتے چلے جا رہے ہیں صدیوں سے

 دائم بٹ



ظہیر الہ آبادی

یوم پیدائش 25 فروری 1985

کیسے بتاؤں دہر میں کیا کیا بدل گیا
امت کا فاطمہ ؓ سے رویہ بدل گیا

 پرسہ تو دور باپ کا، در بھی جلا دیا 
ماحول کیوں مدینے کا اتنا بدل گیا

در فاطمہ ؓ کا دیکھ کے حیران شہر ہے
سرکارؐ کیا گئے کہ مدینہ بدل گیا

کیسے ستم یہ ٹوٹے ہیں بنت رسول پر
احوال غیر ہو گئے حلیہ بدل گیا

دیتے نہیں جواب سلام علی ؓ کا اب
مردہ ضمیر لوگوں کا لہجہ بدل گیا

دیوار کے سہارے ہی چلتی ہیں سیدہ
چلنا رسول زادی کا کتنا بدل گیا

دیتے نہیں ہیں ساتھ جو کل تک مرید تھے
بعد رسول پل میں زمانہ بدل گیا

  ظہیر الہ آبادی

نجم الحسن کاظمی

یوم پیدائش 25 فروری 1998

خواب کچھ یوں مجھے رکھتا ہے پریشانی میں
اپنے ہی گھر کو جلاتا ہوں میں نادانی میں

ایک موقع تو ملے حسبِ توقع مجھ کو
تھوڑی مہلت ہی سہی وقت کی طغیانی میں

اکثر اوقات مرے قد سے بڑا ہوتا ہے
سائے کو دیکھتا رہتا ہوں میں حیرانی میں

دوست اک بار پلٹ کر مری بربادی دیکھ 
دوست تو دیکھ ابھی خوش ہوں میں ویرانی میں

 سب کے سب رنج برابر نظر آتے ہیں مجھے
عکس دھندلا نہیں ہوتا ہے کبھی پانی میں 

نجم الحسن کاظمی


 

احمد معاذ

یوم پیدائش 25 فروری 2002

آ کے گلشن میں کِھلو پھول سی چاہت کر کے
جب کہ بکھرو گے تو خوشبو کی وضاحت کر کے

خاک ہونا مرے ماتھے پہ لکھا تھا ورنہ
میں نے اک عمر گزاری تھی محبت کر کے

آندھیاں ان کے تعاقب میں چلا کرتی ہیں
جو بھی رہتے ہیں چراغوں کی حمایت کر کے

حافظے میں وہ کہیں جا کے ٹھہر جاتا ہے
یاد کرتا ہوں میں جب اس کو تلاوت کر کے

مجھ سے ناچیز میں شعلے کی جھلک جب دیکھی
کر دیا راکھ مجھے اس نے ملامت کر کے

اس کی ضد تھی کہ کہیں اور نہ دیکھوں احمد
سو مجھے پیار کیا اس نے جسارت کر کے

احمد معاذ


 

ضیاء الحق قاسمی

یوم پیدائش 25 فروری 1935

دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے 
واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے 

میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا 
ایسا لگتا ہے مجھے اور رلانا چاہے 

دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ 
مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے 

سیکڑوں لوگ تھے موجود سر ساحل شوق 
پھر بھی وہ شوخ مرے ساتھ نہانا چاہے 

آج تک اس نے نبھایا نہیں وعدہ اپنا 
وہ تو ہر طور مرے دل کو ستانا چاہے 

میں نے سلجھائے ہیں اس شوخ کے گیسو اکثر 
اب اسی جال میں مجھ کو وہ پھنسانا چاہے 

میں تو سمجھا تھا فقط ذہن کی تخلیق ہے وہ 
وہ تو سچ مچ ہی مرے دل میں سمانا چاہے 

اس نے پھیلائی ہے خود اپنی علالت کی خبر 
وہ ضیاؔ مجھ کو بہانے سے بلانا چاہے

ضیاء الحق قاسمی


 

سرور جاوید

یوم پیدائش 25 فروری 1947

یہی دنیا ہے کھو جائے گا تو بھی
اسی جنگل کا ہو جائے گا تو بھی

مجھے معلوم کب تک طشت دل میں
زیاں کی فصل بو جائے گا تو بھی

مسافت عمر بھر کی ایک شب میں
دم فرقت ہے سو جائے گا تو بھی

تری آنکھیں ستارے بانٹی ہیں
مرا دامن بھگو جائے گا تو بھی 

سرور جاوید



Tuesday, February 28, 2023

تلک راج پارس

یوم پیدائش 24 فروری 1952

جبریل ملے آپؐ سے سرکار حرا میں 
اقرا پڑھے تھے سیدِ ابرار حرا میں 

کی حمد خدا آ پ نے سرکار ! حرا میں
آ تے تھے یہاں سید ابرار حرا میں 

 پندرہ سو برس بیت گئے آپؐ کو آقا 
 خوشبو ہے مگر آپؐ کی سرکار حرا میں 

سینے کو کیا چاک فرشتے نے یہاں پر 
ضو بار ہوا آپؐ کا کردار حرا میں 

جو ان کےہیں قدموں کے نشاں کرتے ہیں باتیں 
رہتے ہیں سدا احمدِ مختار حرا میں 

محسوس ہوئی مجھ کو ترے لمس کی خوشبو
جب میں بھی گیا سید ابرار حرا میں

پارس ہو کبھی لطف وکرم چشمِ عنایت   
میں نعت لکھوں سید ابرار حرا میں 

تلک راج پارس


 

باسط اوجینی

یوم پیدائش 24 فروری 1919

روداد غم کی جب سے شہرت سی ہو گئی ہے 
رنگینئ جہاں سے وحشت سی ہو گئی ہے 

تیور بتا رہے ہیں انداز بے رخی کے 
ان کو جفا سے شاید رغبت سی ہو گئی ہے 

ناحق اٹھا رہے ہو طوفاں تجلیوں کے 
ذوق نظر کو میرے غفلت سی ہو گئی ہے 

محسوس کر رہا ہوں تار نفس میں تیزی 
کچھ اضطراب غم میں شدت سی ہو گئی ہے 

مطلب نہیں کرم سے بے مہریوں کا غم کیا 
صبر و رضا سے اب تو الفت سی ہو گئی ہے 

تاروں کی انجمن میں محو خیال ہو کر 
راتوں کو جاگنے کی عادت سی ہو گئی ہے 

دل بجھ چکا ہے باسطؔ باقی نہیں تمنا 
اب زندگی سے مجھ کو نفرت سی ہو گئی ہے

باسط اوجینی


 

مصدق اعظم

یوم پیدائش 22 فروری 1978

صبح کا منظر ہے لیکن گل کوئی تازہ نہیں 
روئے گلشن پر کہیں بھی اوس کا غازہ نہیں 

ٹوٹ کر ہم چاہنے والوں سے جب بچھڑیں گے آپ 
ہم ہی ہم بکھریں گے لیکن مثل شیرازہ نہیں
 
غار والوں کی طرح نکلا ہے وہ کمرے سے آج 
اس کو اس دنیا کی تبدیلی کا اندازہ نہیں 

کچھ نہ کچھ کہتے تو رہتے ہیں یہاں ہم لوگ جی 
پھر بھی اس شہر بتاں میں کئی وازہ نہیں 

اس عمارت کے مقدر کی لکیروں میں کہیں 
کھڑکیاں تو ہیں مگر مصداقؔ دروازہ نہیں

مصدق اعظم



ساگر چاپدنوی

یوم پیدائش 22 فروری 1935

لب ہنستے ہیں ، دل روتا ہے
ساتھی ایسا بھی ہوتاہے

ساگر چاپدنوی


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...