Urdu Deccan

Wednesday, April 14, 2021

سید ناصر مستجاب

 یوم پیدائش 10 اپریل 1978


صد شکر زمانے سے جدا بیچ رہے ہیں

ہم دشت میں بارش کی دعا بیچ رہے ہیں


کیوں حرمتِ قرآن کی قسموں کو ا ٹھا کر

کچھ لوگ عدالت میں خدا بیچ رہے ہیں


رہبر ہیں مرے ملک میں فنکار بلا کے

وعدوں کے غباروں میں ہوا بیچ رہے ہیں 


صدیوں سے چلی آتی کہانی کے ردھم میں 

درویش صفت لوگ نیا بیچ رہے ہیں


اس ملکِ خدا داد میں اسلام کے داعی

پردے میں ثقافت کے حیا بیچ رہے ہیں


کھلتی ہوئی کلیوں کو یہ بازار میں لا کر

نوخیز جوانی کا مزہ بیچ رہے ہیں


اندھے توحقیقت میں وہی لوگ ہیں ناصر 

اندھوں کے نگر میں جو دیا بیچ رہے ہیں


سید ناصر مستجاب


اے جی جوش

 یوم پیدائش 11 اپریل 1928


جفاؤں سے تمہاری اپنی تکمیل وفا ہوگی

خرد کی ابتدا ہو گی جنوں کی انتہا ہوگی


کسی کے دل کی دنیا بھی کبھی درد آشنا ہو گی

جو میرے دل سے ابھرے گی وہی اسکی صدا ہوگی


وہ جینے بھی نہیں دیتے وہ مرنے بھی نہیں دیتے 

تو پھر یہ زندگی کیسے بسر میرے خدا ہوگی


اٹھایا جام ساقی نے مرے آگے سے یہ کہہ کر

اگر تم اور پی لو گے تو محفل بے مزا ہوگی


مجھے ہر بار دھوکا دیتی ہے دھڑکن مرے دل کی

یہی ہر دم سمجھتا ہوں تری آواز پا ہو گی


مری باتوں پہ چپ رہنا مرے رونے پہ ہنس دینا

میں سمجھا یہ بھی اس کے حسن کی کوئی ادا ہوگی


جلیں گی اور بجھیں گی شمعیں انکی برم میں لیکن

نہ ہوگا جوش جس محفل میں وہ محفل بھی کیا ہوگی


اے جی جوش


انور شعور

 یوم پیدائش 11 اپریل 1943


فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا

وہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا


کیا کرتے تھے باتیں زندگی بھر ساتھ دینے کی

مگر یہ حوصلہ ہم میں جدا ہونے سے پہلے تھا


حقیقت سے خیال اچھا ہے بیداری سے خواب اچھا

تصور میں وہ کیسا سامنا ہونے سے پہلے تھا


اگر معدوم کو موجود کہنے میں تأمل ہے

تو جو کچھ بھی یہاں ہے آج کیا ہونے سے پہلے تھا


کسی بچھڑے ہوئے کا لوٹ آنا غیر ممکن ہے

مجھے بھی یہ گماں اک تجربہ ہونے سے پہلے تھا


شعورؔ اس سے ہمیں کیا انتہا کے بعد کیا ہوگا

بہت ہوگا تو وہ جو ابتدا ہونے سے پہلے تھا


انور شعور


جاوید سرور

 یوم پیدائش 10 اپریل 1956


رنگ برنگے پھول کھلے ہیں آنگن کے گلدانوں میں

آج حقیقت چھپی ہوئی ہے دنیا کے افسانوں میں


قہرِ خداوندی سے یارب دنیا کو چھٹکارا دے

دعا یہی ہے شامل یا رب سب کے ہی ارمانوں میں


قیدی جیسا جیون سبکا آج گھروں میں سمٹا ہے

خوف کرونا کا چھایا ہے قید ہیں سب زندانوں میں


بھول کے ہم سب رب کو بیٹھے تب ہی توآفت آئی 

شعرا ادبا الجھ گئے ہیں شمع میں پروانوں میں


اپنوں سے اے سرور ہم نے اکثر دهوکا کھایا ہے

بھائی چارہ کی خوبی دیکھی ہم نے بیگانوں میں


جاوید سرور


ابو محمد سحر

 یوم پیدائش 10اپریل 1928


اک تحفہ نو سوئے حرم لے کے چلے ہیں

پہلو میں محبت کا صنم لے کے چلے ہیں


صحرا میں کہاں پر توِ اندازِ گلستان

خود اپنی نگاہوں کا بھرم لے کے چلے ہیں


کیا حال ہے دل کا اسے اب کون بتائے

محفل میں تری دیدۂ نم لے کے چلے ہیں


کانٹوں کا گلہ کیا ہے ہم راہِ طلب میں

اک دشتِ بلا زیر قدم لے کے چلے ہیں


ہر جنبشِ پا کاشفِ اسرار جہاں ہے

ہم جب بھی چلے ساغرِ جم لے کے چلے ہیں


سرمایۂ دل،جنسِ وفا، خواب تمنا

کیا کیا سرِ بازارِ ستم لے کے چلے ہیں


آئی ہے کسی جلوہ گہ ِناز کی پھر یاد

بھولے ہوئے کچھ قول و قسم لے کے چلے ہیں


منزل پہ پہنچ کر عجب افتاد پڑی ہے

اک قافلۂ یاس و الم لے کے چلے ہیں


کام آئی نہ تدبیر کوئی اہل ِوفا کی 

آخر وہی تقدیر کا غم لے کے چلے ہیں


سوزِ غمِ الفت کہ سحر سوزِ غمِ دہر

ہر سوز پئے لوح و قلم لے کے چلے ہیں


ابو محمد سحر


ذوالفقار نقوی

 آئینوں کو غلام رکھا ہے

ہم نے پہرہ مدام رکھا ہے


صورتیں عکس کے منافی ہوں

بس یہی اہتمام رکھا ہے


اپنے سائے پہ گر گئی دیوار

دشت میں اب قیام رکھا ہے


اے کلیسا کے واعظوں تم نے 

کیسا پھیلا کے دام رکھا ہے


ایک ریلا ہے بد شگونی کا

جو نگاہوں نے تھام رکھا ہے


اس کی اپنی اَنا نہیں ٹوٹی

 جس کو تم نے امام رکھا ہے


رقص کرتی ہے تشنگی لب پر

گرچہ ہاتھوں میں جام رکھا ہے


لحظہ لحظہ جو موت ہے نقوی

زندگی اس  کا  نام رکھا ہے


ذوالفقار نقوی


عبد الحمید عدم

 یوم پیدائش 10 اپریل 1910


لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا


کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا


ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر

شیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا


کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیٔ بہار

جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا


دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر

اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا


عبد الحمید عدم


محمد علوی

 یوم پیدائش 10اپریل 1927


اور بازار سے کیا لے جاؤں

پہلی بارش کا مزا لے جاؤں


کچھ تو سوغات دوں گھر والوں کو

رات آنکھوں میں سجا لے جاؤں


گھر میں ساماں تو ہو دلچسپی کا

حادثہ کوئی اٹھا لے جاؤں


اک دیا دیر سے جلتا ہوگا

ساتھ تھوڑی سی ہوا لے جاؤں


کیوں بھٹکتا ہوں غلط راہوں میں

خواب میں اس کا پتہ لے جاؤں


روز کہتا ہے ہوا کا جھونکا

آ تجھے دور اڑا لے جاؤں


آج پھر مجھ سے کہا دریا نے

کیا ارادہ ہے بہا لے جاؤں


گھر سے جاتا ہوں تو کام آئیں گے

ایک دو اشک بچا لے جاؤں


جیب میں کچھ تو رہے گا علویؔ

لاؤ تم سب کی دعا لے جاؤں


محمد علوی


امام بخش ناسخ

 یوم پیدائش 10 اپریل 1772


جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں

نام تیرا ہی لیا کرتے ہیں


چاک کرنے کے لیے اے ناصح

ہم گریبان سیا کرتے ہیں


ساغر چشم سے ہم بادہ پرست

مئے دیدار پیا کرتے ہیں


زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں


سنگ اسود بھی ہے بھاری پتھر

لوگ جو چوم لیا کرتے ہیں


کل نہ دے گا کوئی مٹی بھی انہیں

آج زر جو کہ دیا کرتے ہیں


دفن محبوب جہاں ہیں ناسخؔ

قبریں ہم چوم لیا کرتے ہیں


امام بخش ناسخ


ن م دانش

 یوم پیدائش 21مارچ 1958


وہ کسی بھی عکس جمال میں نہیں آئے گا

وہ جواب ہے تو سوال میں نہیں آئے گا


نہیں آئے گا وہ کسی بھی حرف و بیان میں

وہ کسی نظیر و مثال میں نہیں آئے گا


اسے ڈھالنا ہے خیال میں کسی اور ڈھب

وہ شباہت و خد و خال میں نہیں آئے گا


وہ جو شہسوار ہے تیغ زن رہ زندگی

مرے ساتھ وقت زوال میں نہیں آئے گا


یہاں کون تھا جو سلامتی سے گزر گیا

یہاں کون ہے جو وبال میں نہیں آئے گا


اسے لاؤں گا میں سکوت حرف و صدا میں بھی

وہ سخن کبھی جو سوال میں نہیں آئے گا


جو ہیں منتظر بڑی دیر سے انہیں کیا خبر

نہیں آئے گا کسی حال میں نہیں آئے گا


ن م دانش


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...