Urdu Deccan

Tuesday, May 4, 2021

ضیاء رشیدی

 نظم


نیکیوں کا مہینہ یہ رمضان ہے 

برکتوں کا مہینہ یہ رمضان ہے 


ہم کرالیں گناہوں کی بخشش سبھی 

تائبوں کا مہینہ یہ رمضان ہے


دل بہت پر سکوں رہتا اس ماہ میں 

راحتوں کا مہینہ یہ رمضان ہے


کتنے عاصی نکالے گا رب نار سے 

بخششوں کا مہینہ یہ رمضان ہے 


خوب پختہ کریں اپنے ایماں کو ہم 

مومنوں کا مہینہ یہ رمضان ہے 


جتنی ممکن عبادت کریں رات دن 

عابدوں کا مہینہ یہ رمضاں ہے 


کر لیں تقوی سے خود کو مزین سبھی 

زاہدوں کا مہینہ یہ رمضان ہے 


جمع کر اے ضیا توشہء آخرت

رحمتوں کا مہینہ یہ رمضان ہے


    ضیاء رشیدی


جاوید صبا

 یوم پیدائش 03 مئی 1958


تجھ کو پانے کی یہ حسرت مجھے لے ڈوبے گی

لگ رہا ہے کہ محبت مجھے لے ڈوبے گی


حالت عشق میں ہوں اور یہ حالت ہے کہ اب

ایک لمحے کی بھی فرصت مجھے لے ڈوبے گی


اب میں سمجھا ہوں کہ یہ درد محبت کیا ہے

یہ ترے پیار کی شدت مجھے لے ڈوبے گی


میری بیتابی دل چین نہ لینے دے گی

تیری خاموش طبیعت مجھے لے ڈوبے گی


تیری آنکھوں کے سمندر میں خیالوں کی طرح

ڈوب جانے کی یہ عادت مجھے لے ڈوبے گی


ڈوبتی نبض کہیں کا نہیں چھوڑے گی مجھے

درد لے ڈوبے گا وحشت مجھے لے ڈوبے گی


تیری آنکھوں کا یہ جادو کہیں لے جائے گا

یہ تری سادہ سی صورت مجھے لے ڈوبے گی


تیرے اشکوں سے کلیجہ مرا کٹ جائے گا

میری حساس طبیعت مجھے لے ڈوبے گی


ہر قدم پر میں ترا بوجھ اٹھاؤں کیسے

زندگی تیری ضرورت مجھے لے ڈوبے گی


جاوید صبا


جون ثانی

 یوم پیدائش 02 مئی 1993


رونے دھونے کی ہر کہانی کی

میرے اشکوں نےترجمانی کی


تم جسے بوڑھا کہہ رہے ہو وہ

میری تصویر ہے جوانی کی


جسم بیکار ہو گیا میرا 

روح نے ایسی چھیڑخانی کی


ان پرندوں نے رات بھر یارو

میری میت کی پاسبانی کی


بھسم کر دو یا مجھ کو دفنا دو

رو پڑی لاش زندگانی کی


حوصلہ روبرو چلا تھا مگر 

راستے نے غلط بیانی کی


جھوٹ سچ میں معاہدہ جو ہوا

آنکھ روئی تھی بدگمانی کی


زندگی کو گزارنے میں میاں 

ایلیا نے مدد کی ثانی کی


 جون ثانی


محمد اکرم قاسمی

 یوم پیدائش 02 مئی 1987


کیا اضطرابِ شوق نے حالت خراب کی 

لڑکا میں گاؤں کا ہوں تُو لڑکی خوشاب کی


تُو نے کیا پسند مجھے اِس کا شکریہ

میں داد دے رہا ہوں ترے انتخاب کی


چاروں طرف سے چُبھنے لگے خار وقت کے

ہاتھو‍ں میں میرے آئی کلی کیا گلاب کی


میں تشنگی کا جام ہوں ساقی کے ہاتھ میں 

تُو حُسن کی صراحی تُو مستی شراب کی


میں کوچہءِ فراق کا سویا نصیب ہوں 

تعبیر ہے تُو جاگتی آنکھوں کے خواب کی 


ملنا ہے تم سے اُس جگہ اکرام قاسمی 

ہو ختم بات ، جس جگہ دنیا کے باب کی


محمد اکرام قاسمی


خلیل حسین بلوچ

 یوم پیدائش 02 مئی 1990


وحشتیں شور مچائیں گی یہاں اترے گی

چاندنی، شب کے تعاقب میں جہاں اترے گی


زخمِ دل آج ہرا ہے تو بھرے گا آخر

دیکھنا کل کو شفا بن کے خزاں اترے گی


عشق کامل ہے تو الفاظ میں لکنت کیسی

لڑکھڑائے گی تو سولی پہ زباں اترے گی


ختم ہوتی یہ نہیں ہجر کی زردی یارا

تیرے بیمار کی رنگت ہے کہاں اترے گی


میں تہہِ خاک پکاروں گا محبت تجھ کو

زندگی لے کے مِرا نام و نشاں اترے گی


خواب روٹھے تو اداسی نے سنبھالی آنکھیں

نیند لوٹی تو کسی اور جہاں اترے گی


دیکھ کیسا ہے یہ بے موسمی بادل چھایا

صاف لگتا ہے کہ بارانِ زیاں اترے گی


خلیل حسین بلوچ


ف س اعجاز

 یوم پیدائش 02 مئی 1948


یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا

یا کسی ٹوٹے ہوئے بت سے چمٹ کر سو جا


ننھا بچہ ہے تو آ ماں کے گھنے آنچل میں

رات کی چھلنی سڑک ہی سے لپٹ کر سو جا


ہر گھڑی شور مچاتی ہوئی مخلوق کے بیچ

اپنے ہونے کے یقیں سے ذرا ہٹ کر سو جا


نیند اڑنے کا مزہ تو بھی چکھا دے ان کو

چال مکار ستاروں کی الٹ کر سو جا


اوڑھ لے سارے بدن پر تو ہوا کی چادر

اور طوفان کی بانہوں میں سمٹ کر سو جا


اے خلیفہ اے نئے وقت کے ہارون رشید

تو روایات شب عدل سے کٹ کر سو جا


ف س اعجاز


تاجور نجیب آبادی

 یوم پیدائش 02 مئی 1894


محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائے

یہ لا حاصل ہی عمر عشق کا حاصل نہ بن جائے


مجھی پر پڑ رہی ہے ساری محفل میں نظر ان کی

یہ دل داری حساب دوستاں در دل نہ بن جائے


کروں گا عمر بھر طے راہ بے منزل محبت کی

اگر وہ آستاں اس راہ کی منزل نہ بن جائے


ترے انوار سے ہے نبض ہستی میں تڑپ پیدا

کہیں سارا نظام کائنات اک دل نہ بن جائے


کہیں رسوا نہ ہو اب شان استغنا محبت کی

مری حالت تمہارے رحم کے قابل نہ بن جائے


تاجور نجیب آبادی


انس مسرور انصاری


 یوم پیدائش 02 مئی 1952


مشکل پڑی تو میں نے اٹھائے دعا کو ہاتھ

اب میری آبرو ہے رسول خدا کے ہاتھ


کوئی بڑا نہ چھوٹا تری بارگاہ میں

یکساں تری نظرمیں ہیں شاہ و گدا کے ہاتھ


میری طرف بھی ایک نگاہ کرم حضور

پھیلے ہوئے ہیں دیر سے اک با وفا کے ہاتھ


سورج پلٹ پڑا کبھی مہتاب شق ہوا

وہ معجزے دکھائے نبی نے اٹھا کے ہاتھ


سنتا ہوں روز جاتی ہے سوئے در حبیب

بھیجوں گا میں سلام محبت صبا کے ہاتھ


ہونٹوں پہ حرف شوق ہے آنکھوں میں اشک غم

رحمت سے اپنی بھر دو مری التجا کے ہاتھ


جن رفعتوں پہ میرے نبی کے قدم گئے

پہنچیں گےحشر تک بھی نہیں ارتقاء کے ہاتھ


شرمندہ اس قدر ہوں گناہوں پہ آج میں

اٹھتے نہیں ہیں بار حیا سے دعا کے ہاتھ


مسرور کو طلب سے زیادہ ہی مل گیا

کتنے شفیق ہیں ترے حسن عطا کے ہاتھ


انس مسرورانصاری

معظم علی خان

 یوم وفات 01/05/2021


پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی

جب حصار غم میں گزری زندگی اچھی لگی


ایک پتھر پھینکنے پر گاؤں کے تالاب میں

پر سکوں موجوں کی اکثر برہمی اچھی لگی


شب کی تنہائی میں دروازے پہ دستک دفعتاً

گھپ اندھیرے میں اچانک روشنی اچھی لگی


بخشی ہے چاندنی کہرے کو بھی تابانیاں

اس کے چہرے پر اداسی ہی سہی اچھی لگی


جس طرح چاہا تصور نے تراشا وہ بدن

بستر احساس پر اس کی کمی اچھی لگی


درمیاں کانٹوں کے بھی شاداب تھے مسرور تھے

جانے کیوں پھولوں کی یہ شائستگی اچھی لگی


اب کے ہم بھٹکے تو راہ راست پر آجائیں گے

سیدھے رستے سے معظم گمرہی اچھی لگی


معظم علی خان


سحر کاظمی

 پوچھا کسی نے حال تو میں نے زمین پر 

بجھتے ہوئے چراغ کا منظر بنا دیا 

سحر کاظمی


یوم وفات 01/05/2021


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...