اک بھیڑ منزلوں کا پتہ پوچھتی رہی،
میں سر پھرا تھا آگے نکلنا پڑا مجھے۔
"ریاض ساغر"
در بدر زندگی ہے دنیا میں
کیسی یہ بے بسی ہے دنیا میں
زندگی کے نقوش ہیں مدھم
موت کی آ گہی ہے دنیا میں
ایک درویش کہتا جاتا تھا
بے وطن آدمی ہے دنیا میں
ہر ضرورت کی شے میسر ہے
بس تری اک کمی ہے دنیا میں
چاہتیں، حسرتیں، تمنائیں
زندگی ڈھونڈھتی ہے دنیا میں
گرتی دنیا اگر نہیں سنبھلی
یہ صدی آخری ہے دنیا میں
ساری دنیا سکون ڈھونڈتی ہے
بےکلی ہر گھڑی ہے دنیا میں
صرف معبود کے سوا شاکر
کچھ نہیں دائمی ہے دنیا میں
ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی
نظم مسیحائی
میں نےدیکھا ہےتجھ کو اکثر یوں
خوبصورت سی تیری آنکھوں میں
سرمئ شام کی اداسی ہے
رخ پہ گرد ملال کی صورت
اک پریشاں خیال کی صورت
جانےکس نام کی اداسی ہے
کون سادکھ ہے مضطرب کیوں ہے
کیا کوئی زخم بن گیا ناسور
تو کہ سر تاقدم تھی کیف و سرور
آکہ ہرغم کو تیرے بانٹ لوں میں
اپنا ہردرد سونپ دے مجھ کو
میں مسیحا نہیں مگرجاناں
تیرے ہرزہر غم کوپی لوں گا
تجھ کوخوش دیکھ کر میں جی لوں گا
اپنا سرمایہء نشاط و سرور
میں ترے دل میں سب کےسب رکھ دوں
تیرے زخموں پہ اپنے لب رکھ دوں
انس مسرورانصاری
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
مرزا غالب
اس عالمِ ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی
اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشۂ خلوت میں یہ دشت کی پہنائی
اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی
افسونِ تمنا سے بے دار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے تابی کچھ عشق میں زیبائی
وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی
ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحر تبسمؔ تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
صوفی تبسم
متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
حجاب اِکسیر ہے آوارۂ کوئے محبّت کو
مِری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاںبندی
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی
زیارتگاہِ اہلِ عزم و ہمّت ہے لحَد میری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی
مِری مشّاطگی کی کیا ضرورت حُسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حِنابندی
علامہ اقبال
خدایا دور کر دے کفر کے یہ جو اندھیرے ہیں
دلوں میں دین احمد کی ہمارے روشنی بھر دے
یہ کوئی زندگی ہے آج جس کو جی رہے ہیں ہم
مسلماں ہیں , مسلمانوں سی ہم میں زندگی بھر دے
جاوید اختر
مری زبان کو پاؤں کو بھی شکایت ہے
کہ مجھ سے میری نگاہوں کو بھی شکایت ہے
میں چھوڑ کیوں نہیں دیتا انہیں سدا کے لیئے
یہ مجھ سے میرے گناہوں کو بھی شکایت ہے
وبائیں کر رہی ہیں قتلِ عام دنیا میں
کوئی نہ کوئی وباؤں کو بھی شکایت ہے
وبا کا ساتھ ہوائیں بھی دے رہی ہوں جہاں
میں سوچتا ہوں ہواؤں کو بھی شکایت ہے
ہر ایک سمت ہے آلودگی سے آلودہ
ہر ایک شہر کو گاؤں کو بھی شکایت ہے
ملے گی اُسکو نہ جنت کبھی کوئی جس سے
گلہ ہے باپ کو ماؤں کو بھی شکایت ہے
خدا کے نام پہ دیتے نہیں ہیں سِکہ بھی
امیر سے یہ گداؤں کو بھی شکایت ہے
وہ سوکھ جایا ہی کرتا ہے ایک دن عابدؔ
کہ جس درخت سے چھاؤں کو بھی شکایت ہے
ایس،ڈی،عابدؔ
یوم پیدائش 20 مئی 1939
لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے
اس نے مٹھی میں چھپا رکھے ہیں گوہر سارے
زخم دل جاگ اٹھے پھر وہی دن یار آئے
پھر تصور پہ ابھر آئے وہ منظر سارے
تشنگی میری عجب ریت کا منظر نکلی
میرے ہونٹوں پہ ہوئے خشک سمندر سارے
اس کو غمگین جو پایا تو میں کچھ کہہ نہ سکا
بجھ گئے میرے دہکتے ہوئے تیور سارے
آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس
میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے
دوستو تم نے جو پھینکے تھے مرے آنگن میں
لگ گئے گھر کی فصیلوں میں وہ پتھر سارے
خون دل اور نہیں رنگ حنا اور نہیں
ایک ہی رنگ میں ہیں شہر کے منظر سارے
قتل گہہ میں یہ چراغاں ہے مرے دم سے بشیرؔ
مجھ کو دیکھا تو چمکنے لگے خنجر سارے
بشیر فاروقی
میری رہائی ہے یہاں اب کِس کے ہاتھ میں
جو قید ہو چکا ہوں میں اپنی ہی ذات میں
کرتا ہوں بات یوں تو بہت سوچ کر مگر
پھر نقص ڈھونڈتا ہوں میں اپنی ہی بات میں
سورج تلاش کرتا ہے دن بھر یہاں وہاں
جگنو بھی ڈھونڈتے ہیں اُسے رات رات میں
اُس نے دغا دیا تو نئی بات کیا ہوئی
اِک واقعہ ہے یہ بھی کئی واقعات میں
بازی لگا دی جان کی یہ جانتے ہوئے
مِلنی ہے مجھ کو جیت بھی اب میری مات میں
ذُلفی نہیں ہے تُو بھی مِرے مسئلے کا حل
تیرے سِوا ہیں اور بھی کچھ غم حیات میں
ذوالفقار علی ذُلفی
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...