Urdu Deccan

Tuesday, June 1, 2021

شمشاد شاد

 عناد، بغض و حسد اور نفرتوں کا لہو

رگوں میں دوڑ رہا ہے عداوتوں کا لہو 


ہوائے شہر ہوئی جب سے خودسر و ببارک

جنوں زدہ ہوا جاتا ہے چاہتوں کا لہو


صحافتیں ہوئیں جب سے سیاستوں کی غلام 

ورق ورق پہ ہے بکھرا حقیقتوں کا لہو


اگر نہ ہوتا یہاں بول بالا رشوت کا 

تو رائیگاں نہیں جاتا لیاقتوں کا لہو


ادب کی بزم میں تُک بندیاں! معاذ اللہ

نہیں ہے تاب جو دیکھوں بلاغتوں کا لہو


لہو لہو ہوئی دھرتی لہو لہو آکاش

ہے شش جہات میں بکھرا رفاقتوں کا لہو


جدید فکر و ترقی کے نام پر انساں

بہا رہا ہے مسلسل روایتوں کا لہو


انا کی پیاس بجھانے کے واسطے تم کو

ملا تھا شاؔد ہماری ہی حسرتوں کا لہو

 

شمشاد شاؔد،


Monday, May 24, 2021

اعجاز کنور راجہ

 یوم پیدائش 24 مئی 1951


یہ کیا ہوا کہ شور سرِدار ختم شد

جاں ختم شد کہ یورشِ آزار ختم شد


پل بھر میں چور چور تھا آئینہء خیال

صد اہتمامِ عکسِ گل و خار ختم شد


آؤ کہ ہم بھی زیست کا ساماں خرید لیں

زاں پیشتر کہ رونقِ بازار ختم شد


بھر بھر کے لوگ جاتے رہے ہیں جبینِ شوق

ہم آئے ہیں تو خاک درِ یار ختم شد


سائے سے ا پنا ساتھ قدم دو قدم کا تھا

دیوار ختم، سایۃ دیوار ختم شد


جس نے کہا اسی کے طرفدار ہو گیئے

وا حسرتا! وہ جرآتِ انکار ختم شد


جاہ و جلال حاکمِ دوراں یہ کیا کیا

اظہار صدق بر سرِ دربار ختم شد


مدت کے بعد ایک دریچہ کھلا کنور

گویم ، حضور ! خواہشِ دیدار ختم شد


اعجاز کنور راجہ


حسن شاہنواز زیدی

 سبھی راستے ترے نام کے سبھی فاصلے ترے نام کے

کبھی مل مجھے مری سوچ کے سبھی دائرے ترے نام کے


مرے کام کے تو نہیں ہیں یہ یہ جو میرے لات و منات ہیں

یہ مجھے عزیز ہیں اس لیے کہ ہیں سلسلے ترے نام کے


میں شراب پیتا تو کس طرح مجھے تیرے حکم کا پاس تھا

مگر آج ساقی نے جب دیئے مجھے واسطے ترے نام کے


کوئی منبروں پہ ہے معتبر کوئی سر کشیدہ ہے دار پر

وہ سہولتیں ترے ذکر کی یہ مجاہدے ترے نام کے


یہاں جو بھی تھا وہ تجھی سے تھا یہاں جو بھی ہے وہ تجھی سے ہے

سبھی عکس ہیں تری ذات کے سبھی رنگ تھے ترے نام کے


ابھی میں نے ظلمت شب کی سمت نگاہ ڈالی تھی غور سے

کہ کسی نے دل کی منڈیر پر دیئے رکھ دیے ترے نام کے


حسن شاہنواز


زیدی

سرور خان سرور

 یوم پیدائش 24 مئی 1965


کتنے اچھے ہیں مرے گھر کے پرانے برتن

چھت ٹپکتی ہے تو کیچڑ نہیں ہونے دیتے 


  ہم ترے دل میں سکونت بھی نہیں کر پائے 

  اور ترے شہر سے ہجرت بھی نہیں کر پائے

  

ہم وہ مجبور ِ تمنا کہ بھری دنیا میں

اپنے حصے کی محبت بھی نہیں کر پائے


ہم نہیں جانتے کہتے ہیں جوانی کس کو

ہم تو بچپن میں شرارت بھی نہیں کر پائے


سرور خان سرور


ندیم اعجاز

 بدنامیوں کو نام کہو گے کہاں تلک

یوں پستیوں کو بام کہو گے کہاں تلک


اک اہل زر کا کھیل ہے دستورِ مملکت

اِس ظلم کو نظام کہو گے کہاں تلک


ڈھل جائے گی ہاں خود ہی یہ کیوں انتظار ہے

ظلمت کی شب کو شام کہو گے کہاں تلک


یہ جبر کا نظام کہو اب نہیں قبول

یوں تلخیوں کو جام کہو گے کہاں تلک


ندیم اعجاز


ریاض ساغر

 اک بھیڑ منزلوں کا پتہ پوچھتی رہی،

میں سر پھرا تھا آگے نکلنا پڑا مجھے۔


     "ریاض ساغر"

ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی

 در بدر زندگی ہے دنیا میں 

کیسی یہ بے بسی ہے دنیا میں 


زندگی کے نقوش ہیں مدھم  

موت کی آ گہی ہے دنیا میں 


ایک درویش کہتا جاتا تھا 

بے وطن آدمی ہے دنیا میں 


 ہر ضرورت کی شے میسر ہے 

بس تری اک کمی ہے دنیا میں 

 

چاہتیں، حسرتیں، تمنائیں

زندگی ڈھونڈھتی ہے دنیا میں


گرتی دنیا اگر نہیں سنبھلی

یہ صدی آخری ہے دنیا میں

 

ساری دنیا سکون ڈھونڈتی ہے

 بےکلی ہر گھڑی ہے دنیا میں 

 

صرف معبود کے سوا شاکر 

کچھ نہیں دائمی ہے دنیا میں


ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی


انس مسرور انصاری

 نظم مسیحائی


میں نےدیکھا ہےتجھ کو اکثر یوں

خوبصورت سی تیری آنکھوں میں

سرمئ شام کی اداسی ہے

رخ پہ گرد ملال کی صورت

اک پریشاں خیال کی صورت

جانےکس نام کی اداسی ہے

کون سادکھ ہے مضطرب کیوں ہے

کیا کوئی زخم بن گیا ناسور

تو کہ سر تاقدم تھی کیف و سرور

آکہ ہرغم کو تیرے بانٹ لوں میں

اپنا ہردرد سونپ دے مجھ کو

میں مسیحا نہیں مگرجاناں

تیرے ہرزہر غم کوپی لوں گا

تجھ کوخوش دیکھ کر میں جی لوں گا

اپنا سرمایہء نشاط و سرور 

میں ترے دل میں سب کےسب رکھ دوں

تیرے زخموں پہ اپنے لب رکھ دوں


انس مسرورانصاری


مرزا غالب

 نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا


کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا


جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے

سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا


آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا


بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا


آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ

موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا


شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے

دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا


لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل

نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا


خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع

پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا


وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ

جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا


مرزا غالب


صوفی تبسم

 اس عالمِ ویراں میں کیا انجمن آرائی 

دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی 


پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں 

جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی 


اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ 

اک گوشۂ خلوت میں یہ دشت کی پہنائی 


اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے 

بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی 


افسونِ تمنا سے بے دار ہوئی آخر 

کچھ حسن میں بے تابی کچھ عشق میں زیبائی 


وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے 

تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی 


ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحر تبسمؔ تھا 

نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی


 صوفی تبسم


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...