یوم پیدائش 29 اگست 1803
پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے
عالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہے
مصباح و نجوم آفتاب و مہتاب
جس نور کو دیکھتا ہوں ضو تیری ہے
مرزا سلامت علی دبیر
یوم پیدائش 29 اگست 1803
پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے
عالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہے
مصباح و نجوم آفتاب و مہتاب
جس نور کو دیکھتا ہوں ضو تیری ہے
مرزا سلامت علی دبیر
یوم پیدائش 28 اگست
دھڑکن ہیں، میری سانس ہیں، میری حیات ہیں
اک آپ ہی تو بس مری کُل کائنات ہیں
یہ وحدت الوجود ہے یا وحدت الشہود
میں جانتی ہوں آپ ہی بس میری ذات ہیں
دیکھوں جدھر بھی آپ کی صورت دکھائی دے
میں یک جہت ہوں آپ مرے شش جہات ہیں
میری متاع کچھ بھی نہیں شاملِ نصاب
ہاں آپ ہی بس آپ ہی وجہِ زکوٰة ہیں
مصرع کہوں کہ شعر کہوں، یا غزل ثبین
میری ہر ایک بات کی بس آپ بات ہیں
ثبین سیف
یوم پیدائش 28 اگست 1928
کتنا شرمندہِ مذاقِ درد انسانی ہے آج
قاتلوں کو بھی غرورِ پاک دامانی ہے آج
اُف رے ماضی تیری چیخوں کی صدائے بازگشت
سازِ ہستی کی صدا کس درجہ طوفانی ہے آج
چہرہ اُترا زلف الجھی اور افسردہ نظر
دوستوں کو پھر بھی ارمان ِغزل خوانی ہے آج
کاش مٹنے والے بھی آکر یہ منظر دیکھتے
کتنا سنجیدہ مزاجِ فتنہ سامانی ہے آج
آشیاں لٹنے پہ کل تک پھول ہنستے تھے جہاں
رقص فرما ، دیکھ اُسی گلشن میں ویرانی ہے آج
آپ کے سمٹے ہوئے دامن کو اس کی کیا خبر
اس قدر رسوا خلوصِ اشک افشانی ہے آج
جتنا روشن ہے شرابی کی نگاہوں کا چراغ
اتنی ہی تاریک تر زاہد کی پیشانی ہے آج
ایک لغزش جس کو جوہر عین مستی کہہ سکوں کو
بزم میں یوں تو بہکنے کی فراوانی ہے آج
جوہر صدیقی
یوم پیدائش 28 اگست 1896
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں
جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں
نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں
حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے
وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں
ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں
تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں
اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں
خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں
جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں
تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں
ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں
ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے
تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں
رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے
ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں
زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے
اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں
فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
فراق گورکھپوری
یوم پیدائش 28 اگست 1962
یہ کس حساب سے آئی ہمارے حصّے موت
تمام عمر قیامت ، تمام رستے موت
کھلا کہ واعظ ِ عیار غیر کا ہے رفیق
سو ہم تو شوق ِ شہادت میں مر گئے بے موت
ہے میرے گرد مسلسل کسی کرم کا حصار
گزر رہی ہے مسلسل نظر بچا کے موت
یہ کون ہے کہ جو صحرا میں ڈھونڈتا ہے حیات
یہ کون ہے کہ جو شہروں میں بانٹتا ہے موت
نہ پوچھ ہم سے مکافات ِ کار کی امید
نصیب ِ زیست ہوئی موت ماورائے موت
کیا جو ہم نے کبھی یونہی روز و شب کا حساب
کھلا کہ کچھ بھی نہیں زندگی سوائے موت
سخن بھی کیسے ہو آشوب ِ شہر سے محفوظ
غزل ہے نوحہ نما اور ردیف تک ہے" موت "
راغب تحسین
یوم پیدائش 28 اگست 1959
دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے
دل میں دشمن کے بھی گھر اپنا بنانا چاہیے
آپ کے دل میں جگہ میرے لئے کیا سچ ہے یہ
اللہ اللہ اس سے بہتر کیا ٹھکانہ ہے
گر کبھی نفرت کی کوئی لہر اٹھے قلب سے
جس طرح ہو اس کو تو قابو میں لانا چاہیے
بانٹتے ہی چاہیے رہنا محبت کے گلاب
دل کے گلشن کو کہا کس نے سجانا چاہیے
انجمن کوئی ہو اور دامن کسی کا بھی ہو وہ
خوشبوؤں میں سب کے دامن کو بسانا چاہیے
راز دل افشا نہ ہو حسانؔ ہے بہتر یہی
حال دل کھل کر کبھی لب پر نہ لانا چاہیے
محمد حازم حسان
یوم پیدائش 28 اگست 1971
جھوٹ کو سچ تو مرے یار بنا سکتا ہے
یہ ہنر سن تجھے سردار بنا سکتا ہے
تجھ کو بھی حق ہے سیاست میں چلے جانے کا
تو اگر ریت کی دیوار بنا سکتا ہے
یہ نیا دور ترقی ہے یہاں سکوں سے
کوئی خرقہ کوئی دستار بنا سکتا ہے
مختلف روگ کی بس ایک دوا دے دے کر
یہ مسیحا ہمیں بیمار بنا سکتا ہے
زعم سجدوں کا جبیں پر نہ سجائے پھریے
یہ تکبر بھی گنہ گار بنا سکتا ہے
ہوش والوں میں یہ چرچا بھی بہت عام ہوا
مجھ کو پاگل بھی مرا یار بنا سکتا ہے
ڈال کر خواب نئے ادھ کھلی آنکھو میں یہاں
شعبدہ باز بھی سرکار بنا سکتا ہے
بوجھ ہو تیری انا پر جو سہارا دانشؔ
وہ سہارا تجھے لاچار بنا سکتا ہے
حنیف دانش اندوری
دِل، کہ روتا رہا تھا جلنے تک
گُل تھے خنداں مگر مسلنے تک
میری سانسیں تلک تمہاری ہیں
میں تمہارا ہوں دَم نکلنے تک
ہوش آتے لگے گی تھوڑی دیر
بس ذرا تھام لو سنبھلنے تک
تم نہیں ہو تو یہ بہار ہی کیا
کاش! آجاؤ رُت بدلنے تک
مات کھا جاؤں گا یہ طے ہے مگر
دَم تو لینے دو چال چلنے تک
جب سُلگنا ہی ہے مقدّر میں
شمع روتی ہے کیوں پگھلنے تک
ہونے والی ہے صبحِ نَو طالعِ
یہ اندھیرے ہی رات ڈھلنے تک
محمد عارف
یوم پیدائش 27 اگست 1987
راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں
سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں
کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے
آپ تو خیر سمجھ دار نظر آتے ہیں
میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی
ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں
زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے
پھر ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں
ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابشؔ
اور پھر وہ ہی لگاتار نظر آتے ہیں
زبیر علی تابش
یوم پیدائش 27 اگست 1909
اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگا
وہ اپنی نگاہوں کا اثر یاد تو ہوگا
وہ دھوم زمانے میں مرے جوش جنوں کی
وہ غلغلۂ شام و سحر یاد تو ہوگا
بھولے تو نہ ہو گے وہ تجلی کی حکایت
وہ تذکرۂ داغ جگر یاد تو ہوگا
ہر گام پہ وہ حسن کی پر ہوش نگاہیں
وہ عشق کا بد مست سفر یاد تو ہوگا
ہر لمحہ وہ دنیائے محبت میں تغیر
ہر سانس میں وہ رنگ دگر یاد تو ہوگا
وہ دل کو ترے حسن خود آرا سے تعلق
وہ خاک سے پیمان نظر یاد تو ہوگا
وہ کارگہ دہر سے اک بے خبری سی
وہ طعنۂ ہر اہل خبر یاد تو ہوگا
وہ دید کہ تھا روکش آرائش گیتی
پہروں طرف راہگزر یاد تو ہوگا
وہ عشق کے جذبات کا بھرپور تلاطم
طوفان کی موجوں میں گزر یاد تو ہوگا
گم کردہ سکوں پا کے مجھے اپنی گلی میں
کہنا وہ تجاہل سے کدھر یاد تو ہوگا
بھولی تو نہ ہوگی مری الفت کی حقیقت
مدت کا فسانہ ہے مگر یاد تو ہوگا
نہال سیوہاروی
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...