Urdu Deccan

Monday, November 29, 2021

نائلہ راٹھور

 یوم پیدائش 21 نومبر


تیری قربت کی جستجو کی ہے 

کیا عجب دل نے آرزو کی ہے 


بات جو بھی تھی روبرو کی ہے 

کب پس پشت گفتگو کی ہے 


میں نے خود کو اگر نہیں بدلا 

ترک کب تو نے اپنی خو کی ہے 


سوچ تیری جدا ہے گر مجھ سے

کیوں پھر اتنی بھی گفتگو کی ہے 


زندگی جی کے تھک چکے ہیں ہم

موت کی اب تو آرزو کی ہے

  

عرش کو چھو کے کیوں نہیں آتی 

جب دعا کی ہے باوضو کی ہے 


بھول جانا تیری ضرورت تھی 

پوری تیری ہی آرزو کی ہے

 

تو نے کب مجھ سے بیوفائی کی 

بات ساری تو اس لہو کی ہے

 

نائلہ راٹھور


Saturday, November 20, 2021

شازیہ طارق

 یوم پیدائش 21 نومبر 1975


آرزو اے دل کا پیکر دل فریب

کیا بتائیں اے گلِ تر دل فریب


حالتِ ابتر کو میری دیکھ کر

رو پڑا پھولوں سا پیکر دل فریب


دے گیا دشمن کو ہائے تقویت

ڈوبنے کا میرے منظر دل فریب


بے خیالی میں ہو ئ مجھ سے خطا

جو پہن لی میں نے جھانجر دل فریب


سوزِ دل کا اب سبب مت پوچھیے

کیجیے بس ذکرِ دلبر دل فریب


بعد مدت کے کھلی دل کی کلی

دیکھ کے پھولوں سا پیکر دل فریب


شازیہ علم و ہنر کی گود سے

چن لو کچھ نایاب گوہر دل فریب


شازیہ طارق


نادیہ سحر

 تجھ سے اک کیا ہوئی شناسائی

آنکھ ہر ہو گئی تماشائی


تو بھی اپنا نہیں تھا دوست مرے

بات یہ دیر سے سمجھ آئی


بھول جانے پہ تھا بہت موقوف

پر تجھے بھول ہی نہیں پائی


نام تیرا لیا کسی نے کہیں 

آنکھ اشکوں سے میری بھر آئی


میرےکمرے میں دو ہی چیزیں ہیں 

ایک میں ایک میری تنہائی


ہم جہاں سے چلے تھے دکھ لے کر 

زندگی کیوں ہمیں وہیں لائی


ہم محبت کسی سے کر بیٹھے 

ہم نے اس جرم کی سزا پائی


بین کرتا ہے دل کسی کا سحر 

بج رہی ہے کہیں پہ شہنائی 


نادیہ سحر


دیشمکھ ابن مقصود مہروی

 ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش کے حوالے سے ایک مطلع۔۔۔۔


تاریخ کے اوراق میں تابندہ رہیں گے 

مرجائیں گے، دنیا میں مگر زندہ رہیں گے 


دیشمکھ ابن مقصود مہروی


احمد ندیم قاسمی

 یوم پیدائش 20 نومبر 1916


میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا 

ایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتا 


اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے 

کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا 


اے خدا پھر یہ جہنم کا تماشا کیا ہے 

تیرا شہکار تو فی النار نہیں ہو سکتا 


اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے 

تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہو سکتا 


تو کہ اک موجۂ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے 

حشر آتا ہے تو بیدار نہیں ہو سکتا 


سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی 

گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہو سکتا 


راکھ سی مجلس اقوام کی چٹکی میں ہے کیا 

کچھ بھی ہو یہ مرا پندار نہیں ہو سکتا 


اس حقیقت کو سمجھنے میں لٹایا کیا کچھ 

میرا دشمن مرا غم خوار نہیں ہو سکتا 


میں نے بھیجا تجھے ایوان حکومت میں مگر 

اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہو سکتا 


تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے 

رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہو سکتا 


وہ جو شعروں میں ہے اک شے پس الفاظ ندیمؔ 

اس کا الفاظ میں اظہار نہیں ہو سکتا 


احمد ندیم قاسمی


احمد علی برقی اعظمی

 یاد رفتگاں: بیاد فیض احمد فیضؔ مرحوم

یوم پیدائش: ۱۳ فروری ۱۹۱۱

یوم وفات: ۲۰ نومبر ۱۹۸۴


فیضؔ تھے دنیائے اردو کے دلوں پر حکمراں 

ہیں جہاں فکر و فن میں اُن کی عظمت کے نشاں


اُن کے ہیں شعروسخن میں جو نقوشِ جاوداں 

آج بھی ہیں اور رہیں گے زیبِ تاریخِ جہاں


اُن کی تخلیقات ہیں اردو ادب کا شاہکار

جو ہیں دنیائے ادب میں مرجعِ دانشوراں


اُن کی غزلیں اور نظمیں شہرۂ آفاق ہیں 

ہوتے ہیں محظوظ یکساں جن سے سب پیر و جواں


شخصیت تھی اُن کی اپنے آپ میں اک انجمن

عہدِ نو میں تھے وہ اردو کے امیرِ کارواں


تھے شعورِ فن سے اپنے خسروِ ملکِ سخن

فکر سے تھے اپنی وہ سب کے دلوں پر حکمراں


فیض اور اردو ادب اب لازم و ملزوم ہیں 

باہمی رشتہ ہے اُن کا جس طرح ہوں جسم و جاں


جاری و ساری رہے گا فیضؔ کا یہ فیضِ عام

ہے مُزین فیضؔ سے اردو ادب کی داستاں


تھے وہ برقی آبروئے خطۂ برِ صغیر

جن کے ہیں آثارِ ادبی ایک گنجِ شایگاں


احمد علی برقیؔ اعظمی


عرفان اللہ عرفان

 یوم پیدائش 20 نومبر 1974


ٹوٹتے خواب کی تعبیر سے اندازہ کیا

میں نے شاید ذرا تاخیر سے اندازہ کیا 


دونوں جانب سے مسلمان تھے مرنے والے

آپ نے نعرہء تکبیر سے اندازہ کیا؟ 


میرے کمرے میں کوئی آیا نہیں میرے بعد

گرد آلود سی تصویر سے اندازہ کیا


جھوٹ کے پائوں بھی ہوتے ہیں اگر تو بولے

آج میں نے تری تقریر سے اندازہ کیا


آپ جادو سے بنا لیتے ہیں مٹی سونا

آپ کی پھیلتی جاگیر سے اندازہ کیا 


آپ تو اپنی خوشی سے ہیں غلام ابن ِ غلام 

آپ کی قیمتی زنجیر سے اندازہ کیا


عرفان اللہ عرفان 


تسنیم فاروقی

 یوم پیدائش 19 نومبر 1915


پھر ترے ہجر کے جذبات نے انگڑائی لی

تھک کے دن ڈوب گیا رات نے انگڑائی لی


جیسے اک پھول میں خوشبو کا دیا جلتا ہے

اس کے ہونٹوں پہ شکایات نے انگڑائی لی


سرخ ہی سرخ ہے اس شہر کا منظر نامہ

امن ہوتے ہی فسادات نے انگڑائی لی


ہم بھی اس جنگ میں فی الحال کیے لیتے ہیں صلح

دیکھا جائے گا جو حالات نے انگڑائی لی


گرمیٔ آہ سے نم ہو گئیں آنکھیں اے دوست

بڑھ گیا حبس تو برسات نے انگڑائی لی


فاصلہ رنج و مسرت میں بس اک سانس کا ہے

مسکرائے تھے کہ صدمات نے انگڑائی لی


جھیل جیسی وہ چمکتی ہوئی آنکھیں تسنیمؔ

ان میں ڈوبے تھے کہ نغمات نے انگڑائی لی


تسنیم فاروقی


خان امیر تابشِ نیازی

 یوم پیدائش 19 نومبر


یہ کون رو رہا تھا تھوڑی سی دیر پہلے

ماتَم سا ہو رہا تھا تھوڑی سی دیر پہلے


تُجھ کو بَتانا ہو گا وہ کون تھا تُو جِس کے

سَپنوں میں کھو رہا تھا تھوڑی سی دیر پہلے


محبوب سے مخاطِب ہو کر مَیں داغ دِل کے

اَشکوں سے دھو رہا تھا تھوڑی سی دیر پہلے


پُھولوں پہ سونے والا جانے وہ آج کیسے

کانٹوں پہ سو رہا تھا تھوڑی سی دیر پہلے


روتے ہوئے میں تابِشؔ پڑھ کر تُمہارے خط کا

کاغذ بھِگو رہا تھا تھوڑی سی دیر پہلے


خان اَمیر تابِش نیازی


ایوب اختر

 یوم پیدائش 19 نومبر 1977


آپ کا انتظار اچھا لگا

دل کو یہ اعتبار اچھا لگا


آپ کو دیکھ کر کہا دل نے 

حسن کا شاہکار اچھا لگا


آپ آئے مزاج پرسی کو 

آج اپنا بخار اچھا لگا


تو ملا ہے تو دل میں پھول کھلے

اے غرورِ بہار اچھا لگا


تونے میری جو دل نوازی کی

اے مرے غم گسار اچھا لگا


  ایوب اختر


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...