Urdu Deccan

Sunday, August 28, 2022

امداد حُسينی

یوم وفات 27 اگست 2022
انا اللہ وانا الیہ راجعون

(نظم) کبھی یوں تھا
کبھی یوں تھا ہمارے تھے زمانے
گگن پر چاند سورج اور تارے تھے ہمارے
زمیں پر لہلہاتے کھیت سارے تھے ہمارے
تبسم خیر نظارے تھے اپنے
ترنم ریز جھرنے تھے ہمارے
مچلتی کھلکھلاتی نوجوانی تھی ہماری
ندی میں جو روانی تھی روانی تھی ہماری
دھڑکتی سانس لیتی مسکراتی گیت گاتی
زندگانی تھی ہماری
مگر اب 
کچھ نہیں ایسا
نا ہونا تھا
جسے
سب ہوگیا ویسا

امداد حُسينی



سید خالد معراج

یوم پیدائش 27 اگست 1976

میں موت سے لڑا ہوں، بدن چور چور ہے
آرام سے چلو کہ کفن چور چور ہے

اک قہقہے لگا کہ غم دل کہیں رکے
مدت سے سسکیوں کی چبھن، چور چور ہے

یہ عشق میرے صبر کے ٹکڑوں پہ ہے پلا
اب روح کا سلگتا چمن، چور چور ہے

دل میں اتر رہی ہے یوں معراج کی غزل
اردو زباں سے رنگ سخن ، چور چور ہے

سید خالد معراج



حبیب ہاشمی

یوم وفات 27 اگست 2022
انا اللہ وانا الیہ راجعون 

ایسا کہاں کہ شہر کے منظر بدل گئے 
منظر وہی ہیں صرف ستم گر بدل گئے 
چھوڑو تم انقلاب زمانہ کا تذکرہ 
وہ اور تھے جو حرف مقدر بدل گئے 
حبیب ہاشمی 


کوثر پروین کوثر

یوم پیدائش 27 اگست 1957

تجھ سے ہم عرض کریں اے دلِ شیدا کیا کیا
رنج سہتا ہے تجھے پالنے والا کیا کیا

تجھ کو دیکھا تو کئے میری نظر نے سجدے
یوں تو آنکھوں میں بسے تھے رُخِ زیبا کیاکیا

سرمئی شام سیہ رات گھنیرے بادل
ہم نے پایا ہے تری زلف کا صدقہ کیا کیا

کس کو معلوم تھا آغازِ محبت میں یہ راز
قہر ڈھائے گا محبت کا نتیجہ کیا کیا

کبھی محفل کبھی خلوت کبھی بستی کبھی دشت
خاک چھنواتا ہے وحشت کا تقاضا کیا کیا

کبھی آنکھوں سے لہو ٹپکا کبھی تلوؤں سے
گل کھلاتی رہی پھولوں کی تمنا کیا گیا

پیاس کو تیری سخاوت کا بھرم رکھنا تھا
ورنہ آنکھوں میں چھپے تھے مری دریا کیا کیا

ہوش آیا تو یہ معلوم ہوا اے کوثر
عشق انساں کو بناتا ہے تماشا کیا کیا

کوثر پروین کوثر



سید آصف دسنوی

یوم پیدائش 27 اگست 1966
عجب تضاد ہے سچائیوں سے آگے بھی 
مرا وجود ہے پرچھائیوں سے آگے بھی 

کسی کا حسن فریب‌ نشاط دیتا ہے 
نگار وقت کی انگڑائیوں سے آگے بھی 

چلا ہے تلخ حقائق کا کارواں جیسے 
مرے یقین کی بینائیوں سے آگے بھی 

جہاں وجود بھی خود کو سمیٹ لیتا ہے 
وہ اک مقام ہے تنہائیوں سے آگے بھی 

نہ جانے کیوں مجھے احساس یہ ستاتا ہے 
کہ کوئی اور ہے پرچھائیوں سے آگے بھی 

کوئی سفر میں ہے آصفؔ مرے علاوہ بھی 
مرے وجود کی سچائیوں سے آگے بھی 

سید آصف دسنوی
۔


طالب جوہری

یوم پیدائش 27 اگست 1929

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کا 
کنڈلی مار کے بیٹھا سانپ خزانے کا 

ہم بھی زخم طلب تھے اپنی فطرت میں 
وہ بھی کچھ سچا تھا اپنے نشانے کا 

راہب اپنی ذات میں شہر آباد کریں 
دیر کے باہر پہرہ ہے ویرانے کا 

بات کہی اور کہہ کر خود ہی کاٹ بھی دی 
یہ بھی اک پیرایہ تھا سمجھانے کا 

صبح سویرے شبنم چاٹنے والے پھول 
دیکھ لیا خمیازہ پیاس بجھانے کا 

بنجر مٹی پر بھی برس اے ابر کرم 
خاک کا ہر ذرہ مقروض ہے دانے کا 

طالبؔ اس کو پانا تو دشوار نہ تھا 
اندیشہ تھا خود اپنے کھو جانے کا 

طالب جوہری



اظہر ہاشمی

یوم پیدائش 26 اگست 1990

جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 
ستم گر کی ستائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

مجھے تنہائی پڑھنی ہے مگر خاموش لہجے میں 
یہی محفل کی خواہش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

مرے افکار پہ بولے بڑی تہذیب سے زاہد 
مقدر آزمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

یہ جو بے حال سا منظر یہ جو بیمار سے ہم تم 
سیاست کی نوازش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

ادھر ہے جام ہاتھوں میں لبوں پہ مسکراہٹ ہے 
ادھر جب خوں کی بارش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

ملازم بننا تھا کس کو ملازم بن گیا کوئی 
ہنر زیر سفارش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

زباں آزاد ہے جو بھی وہی تو زندہ ہے لیکن 
زباں پہ کیسی بندش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

عداوت کی یہاں اظہرؔ جو اک چنگاری اٹھی تھی 
وہ بنتی جاتی آتش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں

اظہر ہاشمی


 

کامل اختر

یوم پیدائش 26 اگست 1946

گرچہ میں بن کے ہوا تیز بہت تیز اڑا 
وہ بگولا تھا مگر میرے تعاقب میں رہا 

مجھ سے کتنوں کو اسی دن کی شکایت ہوگی 
ایک میں ہی نہیں جس پر یہ کڑا وقت پڑا 

اور تاریک مری راہ گزر کو کر دے 
تو مگر اپنی تمنا کے ستارے نہ بجھا 

اب تو ہر وقت وہی اتنا رلاتا ہے مجھے 
جس کو جاتے ہوئے میں دیکھ کے رو بھی نہ سکا 

تم سے چاہا تھا بہت ترک تعلق کر لوں 
جانے کیوں مجھ سے مری جاں کبھی ایسا نہ ہوا 

عمر بھر یاد رہا اپنی وفاؤں کی طرح 
ایک وہ عہد جسے آپ نے پورا نہ کیا 

کوئی سورج تو ملے کوئی سہارا تو بنے 
چاند کا ہاتھ مرے ہاتھ سے پھر چھوٹ گیا

کامل اختر


 

شفا گوالیاری

یوم پیدائش 26 اگست 1912

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے 
موت سے کرکے بغاوت زندگی تک آ گئے 

اپنی منزل آپ ہی خود آ رہے ہیں اب نظر 
ہو نہ ہو ہم آج اپنی روشنی تک آ گئے 

اے غم عالم تری اس دل نوازی کے نثار 
تیرے نزدیک آ کے جیسے ہر خوشی تک آ گئے 

کیوں فضاؤں میں نظر آتے ہیں جلوؤں کے غبار 
کیا مہ و خورشید گرد آدمی تک آ گئے 

بجھ رہی ہیں جن کی خاطر عشرتیں کونین کی 
ایسے غم بھی کچھ ہماری زندگی تک آ گئے 

اب محبت کا ہر اک رخ آئنہ بن جائے گا 
آج ہم ان کی نگاہ بے رخی تک آ گئے 

فطرتاً اب ہو چلا انسان فطرت آشنا 
خود گماں سارے یقیں کی روشنی تک آ گئے 

شاعری کی راہ میں کرتے ہوئے روشن چراغ 
اے شفاؔ ہم بھی مقام زندگی تک آ گئے

شفا گوالیاری

کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے
دامن میں اپنے میرا گریباں لئے ہوئے

ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لئے ہوئے
شام خزاں ہے صبح بہاراں لئے ہوئے

سجدہ ہے میرا ذوق فراواں لئے ہوئے
اٹھے گا اب تو سر در جاناں لئے ہوئے

بعد رہائی بھی نہ میں زنداں سے جاؤں گا
بیٹھا رہوں گا عزت زنداں لئے ہوئے

اب بھی نہ خندہ لب ہوں مرے زخم ہائے دل
وہ مسکرا رہے ہیں نمکداں لئے ہوئے

اے چارہ ساز بیٹھ یہ چارہ گری بھی دیکھ
اٹھے گا میرا درد ہی درماں لئے ہوئے

رنگینیٔ تبسم پیہم نہ پوچھئے
جیسے وہ آ رہے ہوں گلستاں لئے ہوئے

ایسا بھی کاش آئے محبت میں انقلاب
وہ آئیں میری دید کا ارماں لئے ہوئے

کیسی بہار آئی ہے اب کے بہ رنگ نو
ہر ایک گل ہے خون شہیداں لئے ہوئے

امکان سہو ہم سے بھی ممکن ہے اے شفاؔ
انسانیت کا ہم بھی ہیں امکاں لئے ہوئے

شفا گوالیاری




ساغر صدیقی

فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا
ہماری بادہ کشی کہہ رہی ہے سب اچھا

نہ اعتبارِ محبت، نہ اختیارِ وفا
جُنوں کی تیز روی کہہ رہی ہے سب اچھا

دیارِ ماہ میں تعمیر مَے کدے ہوں گے
کہ دامنوں کی تہی کہہ رہی ہے سب اچھا

قفس میں یوُں بھی تسلّی بہار نے دی ہے
چٹک کے جیسے کلی کہہ رہی ہے سب اچھا

وہ آشنائے حقیقت نہیں تو کیا غم ہے
حدیثِ نامہ بَری کہہ رہی ہے سب اچھا

تڑپ تڑپ کے شبِ ہجر کاٹنے والو
نئی سحر کی گھڑی کہہ رہی ہے سب اچھا

حیات و موت کی تفریق کیا کریں ساغر
ہماری شانِ خود کہہ رہی ہے سب اچھا

ساغر صدیقی

 


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...