Urdu Deccan

Friday, September 23, 2022

عائشہ بیگ عاشی

,یوم پیدائش 13 سپتمبر 

جو میری سوچوں کو روشنی دیں
نظر میں سورج اُگا رہی ہوں

سخن کی شاخِ خیالِ نو پر
میں رنگ و خوشبو کِھلا رہی ہوں

سجا کے حرفوں میں چاند تارے
رُخِ غزل جگمگا رہی ہوں

کشید کر کے گُلوں سے رنگت
دھنک زمیں پر سجا رہی ہُوں

حصار کر کے محبتوں کا
دِیے ہوا میں جلا رہی ہوں

ازل سے آبِ حیات عاشی
امیدِ جاں کو پلا رہی ہوں

عائشہ بیگ عاشی



نورالدین ثانی

یوم پیدائش 13 سپتمبر 1979

جو کچھ تھا میرے پاس وہ جاگیر بیچ کر
سپنے خرید لایا ہوں تعبیر بیچ کر

دیکھا گیا تڑپنا نہ بچوں کا بھوک سے
لایا ہے روٹی غازی بھی شمشیر بیچ کر

ماحول کر رہا ہے اشارہ یہ دیش کا 
گوبر خریدا جائے گا انجیر بیچ کر 

آپس میں مسلکی، جو لڑائی کے ہیں سبب
آرام سے وہ سوئے ہیں تقریر بیچ کر

 نورالدین ثانی


 

سراج آغازی جبلپور

یوم پیدائش 13 سپتمبر 1957

ہم تری راہ میں ثابت قَدَمی سیکھ گئے
نقشِ پا پڑھکے ترے راہبری سیکھ گئے

مکتَبِ عشق میں ہر چال تری سیکھ گئے
"ہم کہ چھوٹے ہیں مگر بات بڑی سیکھ گئے"

ہے نئے دور کی آوارہ ہواؤں کا اثر
تھے مہذب جو سبھی بے اَدَبی سیکھ گئے

مشکلیں کر کے وہ تقسیم پریشاں ہی رہے
مشکلیں جھیل کے ہم چارہ گری سیکھ گئے

غیر تو غیر تھے اپنوں کی نظر سے بھی گرے
بات ہم وقت پہ جب کرنا کھری سیکھ گئے

سوگئے ہم جو نمائش کدے میں رکھکے عصا
بچّے اس شہر کے سب جادوگری سیکھ گئے

پڑھکے آیاتِ وِلا کرتے ہی دم ان پہ سراج
دلّگی بھول کے وہ دل کی لگی سیکھ گئے

 سراج آغازی جبلپور


 

افسر دکنی

یوم پیدائش 13 سپتمبر 1949
ماں
ترے سائے میں مجھ کو راحت ہے ماں
ترے پاؤں کے نیچے جنت ہے ماں 

ترے کتنے احسان ، سر پر مرے
 حقیقت ہے ماں یہ حقیقت ہے ماں
  
میں تا عمر بس تیری خدمت کروں
یہی تو مرے دل کی حسرت ہے ماں

مجھے رات دن ، یاد آتی ہے تو
یہ میرے لئے اک سعادت ہے ماں

سکھائے ہیں آداب ، تونے مجھے
ترا پیار ہے اور عنایت ہے ماں

گزر جاؤں گا سخت راہوں سے میں
کہ حاصل مجھے تیری شفقت ہے ماں

افسر دکنی


 

دل ایوبی

یوم پیدائش 13 سپتمبر 1929

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو
ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو

دیتا ہے اب یہی دل شوریدہ مشورہ
جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو

رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا
یاں بھی قرینے سارے مرے گھر کے دیکھ لو

شاہان کج کلاہ زمیں بوس ہو گئے
تیور مگر وہی ہیں مرے سر کے دیکھ لو

سجدے میں دو جہان ہیں اے دلؔ ہمارے ساتھ
رتبے یہ آستان قلندر کے دیکھ لو 

دل ایوبی


 

حسین مجروح

یوم پیدائش 13 سپتمبر 1951

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب
پاؤں ٹکتے ہی نہیں اپنے زمیں پر صاحب

خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر بات کے بیچ
ہاں کا دھوکہ ہو ہمیں اس کی نہیں پر صاحب

تخت یاروں کو ہے غم شاہ کی معزولی کا
اور فدا بھی ہیں نئے تخت نشیں پر صاحب

ہم تو اک سانولی صورت ہے جسے چاہتے ہیں
آپ مر جائیں کسی ماہ جبیں پر صاحب

حسن رنگوں کے تصادم سے جلا پاتا ہے
جیسے اک خال کسی روئے حسیں پر صاحب

ہم وہ مجروح زیارت کہ سر محفل بھی
آنکھ رکھتے ہیں اسی پردہ نشیں پر صاحب

حسین مجروح


 

کاشف الرحمن کاشف

یوم پیدائش 12 سپتمبر 1980

اس کے ساتھ گزارا پل پل
یاد کروں تو آنکھیں جل تھل

اُس کی آنکھ میں عکس تھا میرا
خوابوں کا پھر پھیلا جنگل

آنکھ سے لے کر پانی یارو
دل کی زمیں پر برسا بادل

سوچنے بیٹھوں کیا ہوں میں ؟ تو
ہو جاتا ہے ذہن مرا شل

اُس کی آنکھ کی گہرائی میں
میری چاہت کا ہے مقتل

کاشف اس سے بچ کر چلنا
دنیا ہے نفرت کی دلدل

کاشف الرحمن کاشف


 

اکبر حبیبی

یوم پیدائش 12 سپتمبر 1960

سنانا چاہتے تھے ہم تو پھول کے قصے
کہاں سے آگئے لب پر ببول کے قصے

وہ سوچتا تھا کہ رک جائیں گے قدم میرے
مگر تھے ذہن میں میرے اصول کے قصے

وہ ایک پیڑ جسے کر کے بے لباس ہَوا
سنارہی ہے کسے اپنی بھول کے قصے

اب اپنے آپ کو پہچاننا بھی مشکل ہے
ہر آئینے میں عبارت ہیں دھول کے قصے

اتر گیا ہے جہاں کا گلاب سا چہرہ
ہر ایک دل میں رقم ہیں ببول کے قصے

جنھیں سفر کی تھکاوٹ نے راستہ نہ دیا
وہی تو لکھتے ہیں اکبرؔ فضول کے قصے

اکبر حبیبی


 

داغ نیازی

یوم پیدائش 12 سپتمبر 1954

امنِ باہم کی فضا برباد ہے
یہ ہمارے دور کی ایجاد ہے

یاد تیری میرے دل میں ہے مکیں
قصرِ دل میرا ابھی آباد ہے

دور ہوجائے کرونا کی وبا
اے خدا تجھ سے یہی فریاد ہے

آپ کا جانا نگاہیں پھیر کر
”مدتیں گزریں ابھی تک یاد ہے“

لکھنؤ علم و ادب کے واسطے
آم کی خاطر ملیح آباد ہے

داغ تیری اک نگاہِ لطف سے
زندگانی شاد ہے آباد ہے

داغ نیازی


 

جاوید شاھد

یوم پیدائش 12 سپتمبر 1958

یوں زندگی سے خواب جزیروں میں آگئے 
حرماں نصیب جیسے اسیروں میں آگئے

جن کی رگوں کے خون سے فن کو جلا ملی
وہ کوزہ گر چمن کے حقیروں میں آگئے

ان سے متاع دین بھی دنیا بھی چھن گئی
جن کے ضمیر زر کی لکیروں میں آ گئے

تیرے لئے تو تج دئیے سب تخت و تاج بھی 
شاھی کو چھوڑا ہم نے فقیروں میں آگئے

ہے روشنی بھی ساتھ تو صوت ازاں بھی ہے
شاھد جی جب سے زندہ ضمیروں میں آ گئیے

جاوید شاھد



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...