Urdu Deccan

Saturday, October 22, 2022

احمد وصی

یوم پیدائش 08 اکتوبر 1943

درد ٹھہرے تو ذرا دل سے کوئی بات کریں 
منتظر ہیں کہ ہم اپنے سے ملاقات کریں 

دن تو آوازوں کے صحرا میں گزارا لیکن 
اب ہمیں فکر یہ ہے ختم کہاں رات کریں 

میری تصویر ادھوری ہے ابھی کیا معلوم 
کیا مری شکل بگڑتے ہوئے حالات کریں 

اور اک تازہ تعارف کا بہانہ ڈھونڈیں 
ان سے کچھ ان کے ہی بارے میں سوالات کریں 

آؤ دو چار گھڑی بیٹھ کے اک گوشے میں 
کسی موضوع پہ اظہار خیالات کریں

احمد وصی



نازیہ حسین

یوم پیدائش 07 اکتوبر 

خلوص و وفا کا پتہ ہی نہیں ہے
محبت کا ملتا صلہ ہی نہیں ہے

تباہی کا اپنی سبب خود ہی ہم ہیں
زمانے سے کوئی گلہ ہی نہیں ہے

ملے جاہ جس کو خدا خود کو سمجھے
کہ طاقت سے بڑھ کر نشہ ہی نہیں ہے

نہ توڑو کسی کا کبھی دل خدارا
بڑا کوئی اس سے گنہ ہی نہیں ہے

نازیہ حسین



خلیل احمد

یوم پیدائش 07 اکتوبر 1994

کسی بھی شخص سے جب بھی ملے خوشی سے ملے
ہم اپنا عکس سمجھ کر ہر آدمی سے ملے

مزہ تو تب ہے کہ ہم تم ملیں اور ایسے ملیں 
کہ جیسے گیت میں اک راگ راگنی سے ملے

ہوس نے خضرت انساں کو دور رکھا ہے
ہر ایک راز سے جو اس کو عاشقی سے ملے 

تمھاری چاہ میں جو شے ہمیں نصیب ہوئی 
کجا نصیب کہ وہ تم کو زندگی سے ملے 

  خلیل احمد



کبیر احمد کبیر

یوم پیدائش 07 اکتوبر 1992

روگ جب سے مجھے لگا دل کا
حال کتنا برا ہوا دل کا

جب کبھی خیر و شر پرکھنا ہو
دیکھ لیجے بس آئینہ دل کا

بس وہی کامیاب ہوتے ہیں
مانتے ہیں جو مشورہ دل کا

صرف آنکھوں کو بند کر لیجے
دیکھنا ہو جو معجزہ دل کا 

دھڑکنوں پر گراں گزرتا ہے
یوں شب و روز جاگنا دل کا

ہار جاتے ہیں جیتنے والے
کیا عجب ہے یہ معرکہ دل کا

ہے یتیموں سی زندگی اپنی
رہنما جب سے مر گیا دل کا

کبیر احمد کبیر



نور احمد محمود

یوم پیدائش 07 اکتوبر 1959

الفت کو دل میں رکھ کے نفرت کو اب بھلا دو
جو بھی گلے ہیں جاناں وہ آج سب بھلا دو

عشق مجازی میں تم اتنے بھی کھو نہ جاؤ
ایسا نہ ہو کہ اک دن اپنا ہی رب بھلا دو

وعدے نہیں نبھاتے تو مجھ کو شک ہے اب تو
 اس کا ہے کیا بھروسہ تم مجھ کو کب بھلا دو

اس دن یقیں کروں گا الفت پہ میں تمہاری 
غیروں کو اپنے دل سے تم بھی تو جب بھلا دو

جب پیار تم کسی کا پورا ہی آزما لو
 شکوے جو اس سے تھے وہ لازم ہے سب بھلا دو

انساں نہیں فرشتہ غلطی کا وہ ہے پتلا
توبہ سے غلطیاں تم اے یار سب بھلا دو

مصروف ہیں صنم جی کچھ دن جو آج سے ہی
کہتے ہیں نور مجھ کو کچھ وقت اب بھلا دو

نور احمد محمود



حَسَن کاظمی

یوم پیدائش 07 اکتوبر 1960

خوبصورت ہیں آنکھیں تیری ، رات کو جاگنا چھوڑ دے
خود بخود نیند آ جائے گی ، تُو مُجھے سوچنا چھوڑ دے

تیری آنکھوں سے کلیاں کھِلیں ، تیرے آنچل سے بادل اُڑیں
دیکھ لے جو تیری چال کو ، مور بھی ناچنا چھوڑ دے

تیری آنکھوں سے چھلکی ہوئی ، جو بھی اِک بار پی لے اگر
پھِر وہ میخوار اے ساقیا ، جام ہی مانگنا چھوڑ دے

اے خوشی ایک پَل کو سہی ، میں کبھی تُجھ سے مل تو سکوں
میرے گھر سے کہاں جائے گی ، کُچھ تو اپنا پتہ چھوڑ دے

زندگی ہے مُسلسل سفر ، سب کی ہے ایک ہی رہگُزر
ایک ہی جب ہے سب کی ڈگر ، کیوں کوئی راستہ چھوڑ دے

میری آنکھوں میں رہتا ہے تُو ، تیری آنکھوں میں رہتا ہوں میں
صِرف مِحسوس کر لے مُجھے ، آنکھ سے دیکھنا چھوڑ دے 

 حَسَن کاظمی

 


غضنفر غضنی

یوم پیدائش 06 اکتوبر 1992

تمہارا لہجہ تمہاری باتیں تباہ کن ہیں
حسین چہرہ ہے اور نگاہیں تباہ کن ہیں

بچھا کے رکھیں ہیں دشمنوں نے یہاں پہ کانٹے
تبہی تو چاہت بھری یہ راہیں تباہ کن ہیں

اگر جکڑلیں تو قید رکھتی ہیں زندگی بھر 
سنو یہ چاہت کی نرم باہیں تباہ کن ہیں

جو دیکھتا ہے وہ تجھ پہ کرتا ہے جان قرباں
یہ تیرا جلوہ تری ادائیں تباہ کن ہیں

ہمیں میسر نہیں ہے اک پل سکون غضنی
ہمارے دن اور ہماری راتیں تباہ کن ہیں

غضنفر غضنی



راج بلد یوراج

یوم پیدائش 06 اکتوبر 1924

مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں 
نہیں نہیں مجھے اب تیرا انتظار نہیں 

وہ بے وفائی کے قائل میں جاں نثاری کا 
کسی کو اپنی طبیعت پہ اختیار نہیں 

سمجھ سکے کوئی کیا میرے ظرف عالی کو 
پئے ہیں میکدے لیکن ذرا خمار نہیں 

تری نگاہ سے گر کر یقیں ہوا مجھ کو 
جہاں میں کوئی کسی کا بھی غم گسار نہیں 

مرے خفیف تبسم پہ بھولنے والو 
میں کامگار نہیں ہوں میں کامگار نہیں
 
ہیں دل سے ترک محبت کے مشورے لیکن 
تمہیں بھلا بھی سکوں گا یہ اعتبار نہیں 

معاملے میں محبت کے بد گمان ہوں راجؔ 
وہ کیا ہیں مجھ کو خدا کا بھی اعتبار نہیں 

راج بلد یوراج



مصروفہ قادر

یوم پیدائش 06 اکتوبر 1991

تھکن سے چور ہوتی جارہی ہوں
بہت رنجور ہوتی جارہی ہوں

ابھی کچھ بھی نہ بگڑا لوٹ آؤ
میں تم سے دور ہوتی جارہی ہوں

میں چپ ہوں اور دنیا کہہ رہی ہے
بہت مغرور ہوتی جارہی ہوں

تری یادوں کا سورج ڈھل رہا ہے
میں پھر بے نور ہوتی جارہی ہوں

نہیں آواز د ی اس بے خبر نے
میں کیوں مجبور ہوتی جارہی ہے

مصروفہ قادر



زین الحق خان آزاد

 یوم پیدائش 06 اکتوبر 1945


دن کوہنستی ہے بولتی ہے مگر

مفلسی رات بھر سسکتی ہے


زین الحق خان آزاد




محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...