Urdu Deccan

Monday, October 24, 2022

حسین سحر

یوم پیدائش 10 اکٹوبر 1942

کرن کرن کے درخشندہ باب میرے ہیں 
تمام روشنیوں کے نصاب میرے ہیں 

شبوں کے سبز جزیرے ہیں سب مری اقلیم 
تمام جاگتی آنکھوں کے خواب میرے ہیں 

میں ہوں تمام دھڑکتے دلوں کا شیدائی 
یہ آبگینے یہ نازک حباب میرے ہیں 

تمام عمر تخاطب مرا مجھی سے رہا 
سوال میں نے کئے ہیں جواب میرے ہیں 

خدائے دشت کی تقسیم پر میں راضی ہوں 
کہ آب پارے ترے ہیں سراب میرے ہیں 

نصیب آج ہیں کانٹے اگر تو کیا غم ہے 
نئی رتوں کے شگفتہ گلاب میرے ہیں 

میں آفتاب کے مانند ہوں نقیب سحرؔ 
سیاہیوں پہ سبھی احتساب میرے ہیں 

حسین سحر



عمرانہ مشتاق مانی

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1963

آ گیا وقت اگر پیار میں رسوائی کا 
لوگ دیکھیں گے تماشا ترے سودائی کا 

روح سے جسم الگ کرنے کے پس منظر میں 
ہے کوئی ہاتھ یقیناً کسی ہرجائی کا 

جاں غم وصل کی اک شام منائیں آ جا 
شور سنتی ہوں سسکتی ہوئی شہنائی کا 

میں ترے پیار کو دنیا سے چھپاؤں کیسے 
رنگ آنکھوں سے برستا ہے شناسائی کا 

خیر ہو آج مرے دل کے بیابانوں کی 
مانیؔ کرنا نہیں ماتم شب تنہائی کا 

عمرانہ مشتاق مانی



Saturday, October 22, 2022

موسیٰ رضا

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1976

تم میرے ساتھ بھی جدا بھی ہو 
تم مرا درد بھی دوا بھی ہو 

تم سفینہ بھی ناخدا بھی ہو 
تم تلاطم بھی آسرا بھی ہو 

ڈھونڈھتا ہوں کہاں کہاں تم کو 
راہزن تم ہو رہنما بھی ہو 

تم ہی ہو میری گرمئی آغوش 
میرے پہلو کا تم خلا بھی ہو 

دل کے رکنے کی ہو تم ہی آواز 
دل کی دھڑکن کی تم صدا بھی ہو 

پی کے سرشار بھی ہوں پیاسا بھی 
تشنگی بھی ہو تم نشہ بھی ہو 

موسیٰ رضا



عارف عسکری

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1960

مشعل سا کوئی پھول کھلا خاک پر نہیں 
یہ اس لئے کہ روشنی اب چاک پر نہیں 

مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں صبر ہی کروں
میٹھا جو کوئی پھل ہو، ابھی تاک پر نہیں 

جلنے لگا ہوں جسم کے اندر سے میں کہیں 
ہجراں کی آگ اب مری پوشاک پر نہیں 

صحرا ، میاں تو خود کو گلے سے لگا کے دیکھ
حیرت جو میرے دیدہء نمناک پر نہیں 

دیکھو ، یہ آبشار ، پرندے ، حسین پیڑ
لگتا ہے جیسے کوہ و دمن خاک پر نہیں 

چلتا ہے کوئی زور دل_ناتواں پہ بس
کچھ بھی توانا ،سر کش و بے باک پر نہیں 

ان میں سے ایک پر کوئی وعدہ بھی تھا ترا
گذرا ہوا زمانہ جن اوراق پر نہیں

آنکھوں کے بھیگنے کی ستاروں کو کیا خبر 
بارش جو خاک پر ہے وہ افلاک پر نہیں

ملبہ اٹھا کے لے گئے وہ انہدام سے
مسمار ہو کے بھی کوئی اب خاک پر نہیں 

ہاں اس لحاظ سے مجھے مفلس خیال کر
دنیا مری نظر تری املاک پر نہیں 

ڈرتا ہوں خود ہدف نہ اسی تیر کا بنوں
فتراک میں جو بوجھ سا فتراک پر نہیں 

انجان سا جو خوف برابر میں آ بسا
پہلے سی وہ گرفت مری دھاک پر نہیں 

عارف میں جس کو چھونے لگا ہوں خیال میں 
شاید اسے یقیں مرے ادراک پر نہیں

عارف عسکری


 

شہود عالم آفاقی

یوم وفات 09 اکتوبر 2000

آداب زندگی سے بہت دور ہو گیا 
شہرت ذرا ملی تو وہ مغرور ہو گیا 

اب رقص خاک و خوں پہ کوئی بولتا نہیں 
جیسے یہ میرے ملک کا دستور ہو گیا 

دشمن سے سرحدوں کو بچانا تھا جس کا کام 
اپنوں کو قتل کرنے پہ مامور ہو گیا 

گمنام تھا لباس شرافت کی وجہ سے 
دستار مکر باندھی تو مشہور ہو گیا 

سورج بھی اعتماد کے قابل نہیں رہا 
آیا جو وقت شام تو بے نور ہو گیا 

نالہ جو بہہ رہا تھا مرے گاؤں میں شہودؔ 
دریا سے مل گیا ہے تو مغرور ہو گیا

شہود عالم آفاقی



ناطق لکھنوی

یوم وفات 09 اکتوبر 1950

اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح 
میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح 

دل کے سوا کوئی نہ تھا سرمایہ اشک کا 
حیراں ہوں کام آنکھوں کا جاری ہے کس طرح 

عنصر ہے خیر و شر کا ہر اک شے میں یوں نہاں 
ہر شمع بزم نوری و ناری ہے جس طرح 

بس یوں سمجھ لو مجھ کو امید سحر نہ تھی 
کیا پوچھتے ہو رات گزاری ہے کس طرح 

اس نقش مستقل پہ ہے شرمندہ آئینہ 
تصویر ان کی دل پہ اتاری ہے اس طرح 

ناطقؔ جلال میں بھی اثر اس قدر نہیں 
رعب جمال قلب پہ طاری ہے جس طرح

ناطق لکھنوی



ساجد عالم ساجد

یوم پیدائش 09 اکتوبر 1963

تیری بانہوں کو ہار کرتے ہیں
زندگی تجھ سے پیار کرتے ہیں

ایک تارہ نہ ہو سکا اپنا
روز تارے شمار کرتے ہیں

اپنی قسمت میں راہ تکنا ہے
اس لیے انتظار کرتے ہیں

اس کو جھوٹی خبر سمجھ لینا
تجھ پہ ہم اعتبار کرتے ہیں

ٹوٹ جاتا ہے دل کا دروازہ
جب نظر تم سے چار کرتے ہیں

تم نے دھو کا دیا ہے ساجد کو
چاند کا انتظار کرتے ہیں

ساجد عالم ساجد



ڈاکٹر سید کاظم

یوم پیدائش 08 اکتوبر 2000

دکھا کے گنبدِ خضری کی آب و تاب آقاﷺ
ہمارے تن سے مٹا دیں سب اضطراب آقاﷺ

 ہر ایک لمحہ رہیں آپ کی ثناء میں گم
رہے ہر ایک برائی سے اجتناب آقاﷺ

نہیں مثال کہیں ملتی آپ سی کوئی 
ہیں دو جہان میں بس آپ لاجواب آقاﷺ

ہماری جان بچا لیجے کیجے نظرِ کرم
ہماری سر پہ بہت ہو گئے عذاب آقاﷺ
 
یہی دعا ہے فقط اس گدائے کاظم کی 
بروزِ حشر ہمیں کرنا کامیاب آقاﷺ

ڈاکٹر سید کاظم



شجرؔ ڈیروی

یوم پیدائش 08 اکتوبر 1992

جنابِ من امانِ جان چاہوں گا
متاعِ درد پر دربان چاہوں گا

ہوا ہے فیصلہ جو ملتوی کل تک
میں اُس کے ہونے کے امکان چاہوں گا

ضمیرِ آدمیت کی صدا ہوں مَیں
کسی کا کیوں بھلا نقصان چاہوں گا

پناہِ شب ضروری تو نہیں لیکن
ملا موقع تو میں خلجان چاہوں گا

مجھے خود ذات کے جنگل میں رہنے دو 
یہی اک وادیِ ویران چاہوں گا

دعاؤں میں، مناجاتوں میں، سجدوں میں
فقط مَیں دولتِ ایمان چاہوں گا

شجرؔ ہوں ، میں تو ہر تخلیق میں اپنی
نئے مضموں نئے عنوان چاہوں گا

شجرؔ ڈیروی


 

رحمان جامی

یوم پیدائش 08 اکتوبر 1943

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے 
وہ کون ہے جو کن میں مگر پردہ نشیں ہے 

مانا کہ نہیں ہوں ترے الطاف کے قابل 
تو پھر بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے 

بندہ ہوں ترا غیب پہ ایمان ہے میرا 
اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے 

شاہوں کے بھی تاجوں کو لگا دیتا ہے ٹھوکر 
یہ بندۂ نا چیز جو اک خاک نشیں ہے 

تھا ہند کی جانب مرے آقا کا اشارہ 
خوشبوئے محبت تو ہمیشہ سے یہیں ہے 

مانا کہ مرا لٹ گیا سرمایہ خوشی کا 
اک درد کی دولت تو ابھی میرے قریں ہے 

احباب کے برتاؤ کو میں کیسے بھلاؤں 
بیکار تسلی گئی دل پھر بھی حزیں ہے 

آسان نہیں راہ وفا دیکھ کے جامیؔ 
تکلیف کہیں بھوک کہیں پیاس کہیں ہے

رحمان جامی



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...