Urdu Deccan

Wednesday, October 26, 2022

گوہر شیخ پوروی

یوم پیدائش 21 اکٹوبر 1951

روز دل کو مرے اک زخم نیا دیتے ہیں 
آپ کیا اپنا بنانے کی سزا دیتے ہیں 

میری بیتابیٔ دل کا جو اڑاتے ہیں مذاق 
وہ بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں 

لوگ کہتے ہیں جسے ظرف وہ اپنا ہے مزاج 
اپنے دشمن سے بھی ہم پیار جتا دیتے ہیں 

کوئی آواز نہیں ہوتی بھرے برتن سے 
اور خالی ہوں تو ہر گام صدا دیتے ہیں 

دیکھ کر میرے نشیمن سے دھواں اٹھتا ہوا 
سوکھے پتے بھی درختوں کے ہوا دیتے ہیں 

زخم دل چاند کی مانند چمکتے ہیں مرے 
آپ جب بھولی ہوئی بات سنا دیتے ہیں 

آپ چپ چاپ ہی آتے ہیں تصور میں مگر 
میرے خوابیدہ خیالوں کو جگا دیتے ہیں 

صرف اک دیوتا سمجھا ہے تمہیں میں نے مگر 
لوگ پتھر کو بھی بھگوان بنا دیتے ہیں 

کچی دیوار کی مانند ہیں ہم اے گوہرؔ 
ایک ٹھوکر سے جسے لوگ گرا دیتے ہیں

گوہر شیخ پوروی



کاشفؔ اورا

یوم پیدائش 20 اکتوبر 2000

ہنستی رہو کہ دیپ کے تیور میں دم رہے
مجھ کہکشاں کے ساتھ ہوا کا بھرم رہے

گنتی کے چند سال مقدر میں ماں رہی
بچپن گزر چکا تھا سو خوشیوں سے تھم رہے

ہم نے تمہارے ساتھ بتائے ہیں چار دن
الحمد! زندگی کی صدا کا ردھم رہے

بیشک! کوئی کسی کا بھی نعم البدل نہیں
لیکن وہ چاند جس کی محبت میں ہم رہے

وہ تھا تو زندگی کے مقاصد تھے لیکن اب
کاشفؔ میں چاہتا ہوں یہ طوفان تھم رہے

کاشفؔ اورا


جلالؔ لکھنوی

یوم وفات 20 اکتوبر 1909

کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی 
وہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی 

کیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی 
سوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی 

کچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل 
اب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی 

دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر 
یہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں جاتی 

کہتی ہے شب ہجر بہت زندہ رہوگے 
مانگا کرو تم موت ابھی آئی نہیں جاتی 

وہ ہم سے مکدر ہیں تو ہم ان سے مکدر 
کہہ دیتے ہیں صاف اپنی صفائی نہیں جاتی 

ہم صلح بھی کر لیں تو چلی جاتی ہے ان میں 
باہم دل و دلبر کی لڑائی نہیں جاتی 

خود دل میں چلے آؤ گے جب قصد کرو گے 
یہ راہ بتانے سے بتائی نہیں جاتی 

چھپتی ہے جلالؔ آنکھوں میں کب حسرت دیدار 
سو پردے اگر ہوں تو چھپائی نہیں جاتی

جلالؔ لکھنوی



منور مرزا زرمی


یوم پیدائش 20 اکتوبر 1955

یہ مانا توجہ کے قابل نہیں ہوں
مگر میں کسی سے بھی غافل نہیں ہوں

ہدایت سے اسلام کی چشم پوشی
میں ایسی ترقی کی قائل نہیں ہوں

رہوں کیوں زمانے کے رحم و کرم پر
بھروسا ہے خود پر ، میں کاہل نہیں ہوں

سمجھ لیتی میں ماسوا کی حقیقت
ابھی عقل میں ایسی کامل نہیں ہوں

سدا مے کدوں میں گزر کرنے والو!
خبردار میں عیشِ منزل نہیں ہوں

سمجھتی ہوں میں سب کے انداز رزمیؔ
اب اتنی بھی آخر میں جاہل نہیں ہوں

منور مرزا زرمی


نادر کاکوری

یوم وفات 20 اکتوبر 1912

کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کر 
زمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کر 

مرے نقش قدم نے راہ میں کانٹے بچھائے ہیں 
بتائیں تو وہ گھر غیروں کے جائیں گے کہاں ہو کر 

خدا سے سرکشی کی پیر زاہد اس قدر تو نے 
کہ تیرا تیر سا قد ہو گیا ہے اب کماں ہو کر 

کوئی پوچھے کہ میت کا بھی تم کچھ ساتھ دیتے ہو 
یہ آئے مرثیہ لے کر وہ آئے نوحہ خواں ہو کر 

ارادہ پیر زاہد سے ہے اب ترکی بہ ترکی کا 
کسی بھٹی پہ جا بیٹھوں گا میں پیر مغاں ہو کر 

تلاش یار کیا اور سیر کیا اے ہم نشیں ہم تو 
چلے اور گھر چلے آئے یہاں ہو کر وہاں ہو کر 

سخنؔ کی بزم میں نادرؔ اسی کے سر پہ سہرا ہے 
رہا جو ہم نوائے بلبل ہندوستاں ہو کر

نادر کاکوری



بیدل حیدری

یوم پیدائش 20 اکتوبر 1924

ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے 
وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے 

پیار کی خاطر کچھ بھی ہم کر سکتے ہیں 
وہ تیری مزدوری بھی ہو سکتی ہے 

سکھ کا دن کچھ پہلے بھی چڑھ سکتا ہے 
دکھ کی رات عبوری بھی ہو سکتی ہے 

دشمن مجھ پر غالب بھی آ سکتا ہے 
ہار مری مجبوری بھی ہو سکتی ہے 

بیدلؔ مجھ میں یہ جو اک کمی سی ہے 
وہ چاہے تو پوری بھی ہو سکتی ہے

بیدل حیدری



شکیل نبی نگری

یوم پیدائش 20 اکٹوبر 1918

بے رخی کا تری شکوہ میں کروں کیوں تجھ سے
وقت پڑنے پہ تو سایہ بھی جدا ہوتا ہے

آج پھر شورِ سلاسل سے لرزتی ہے بہار
حشر دیوانوں کا پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

فصلِ گل آتے ہی اڑ جاؤ قفس کو لے کر
بلبلو! نالہ و فریاد سے کیا ہوتا ہے

شکیل نبی نگری


 

سلیم اللہ فہمی

یوم پیدائش 19 اکتوبر 1906

برق بھی یوں کبھی نہ تڑپی تھی
اُف دلِ بے قرار کا عالم

ہاتھ جانے لگے گریباں تک
آ چلا ہے بہار کا عالم

ہے تر ےزلف و رخ کے قابو میں
میرے لیل و نہار کا عالم

سلیم اللہ فہمی


سلمان خان جہانپوری

یوم پیدائش 19 اکتوبر 

کل جب اوج پہ سنّاٹا تھا 
مجھ میں اک کہرام مچا تھا

آخر مجھ میں ایسا کیا ہے
آخر وہ کیا دیکھ رہا تھا

عید کا چاند مبارک سب کو
میں ترا چہرہ دیکھ رہا تھا

بوند تھی شبنم کی یا آنسو
پھول سے گال پہ جانے کیا تھا

بیگانہ دنیا سے تجھ میں
اپنی دنیا دیکھ رہا تھا

سلمان خان جہانپوری



عفت زیبا کاکوروی

یوم پیدائش 19 اکتوبر 1924

زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہا 
تیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہا 

دھڑکنیں سناتی ہیں لا مکاں کے افسانے 
کتنی داستانوں کو سن رہے ہیں ہم تنہا 

منزلیں بلاتی ہیں جستجو مچلتی ہے 
تیرگی کا عالم ہے اور ہر قدم تنہا 

یہ بھی چھین لے آ کر گردش جہاں مجھ سے 
چند آرزوئیں ہیں اور میرا دم تنہا 

کاش کوئی قسمت سے جا کے اتنا کہہ دیتا 
حوصلے مرے رہبر تیرے پیچ و خم تنہا 

روح کے اجالوں نے تیرگی کو للکارا 
ظلمتوں کی راہوں میں گھر گئے ہیں ہم تنہا

عفت زیبا کاکوروی



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...