Urdu Deccan

Friday, October 28, 2022

سیفی اعظمی

یوم پیدائش 22 اکتوبر 1939

خوشی سے پھولیں نہ اہلِ گلشن ، ابھی کہاں سے بہار آئی
ابھی تو پہنچا ہے آئینوں تک مرا مذاقِ برہنہ پائی

سیفی اعظمی



رخسار ناظم آبادی

یوم پیدائش 22 اکتوبر 1959

لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے 
بس وہی قابل دستار ہوا کرتے تھے 

یہ الگ بات وہ تھا دور جہالت لیکن 
لوگ ان پڑھ بھی سمجھ دار ہوا کرتے تھے 

سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی 
پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے 

جن قبیلوں میں یہاں آج دئے ہیں روشن 
ان قبیلوں کے تو سردار ہوا کرتے تھے 

تب عدالت سے رعایت نہیں مل پاتی تھیں 
تب گنہ گار گنہ گار ہوا کرتے تھے 

کیا زمانہ تھا مہکتی تھیں وہ کیاری گھر کی 
گھر کے آنگن گل و گلزار ہوا کرتے تھے 

قید مذہب کی نہ تھی کل کے پڑوسی دونوں 
ایک دوجے کے مددگار ہوا کرتے تھے 

گھر کے سب لوگ نبھاتے تھے خوشی سے جن کو 
گھر کے ہر فرد کے کردار ہوا کرتے تھے

رخسار ناظم آبادی



Wednesday, October 26, 2022

زرتاب غزل

یوم پیدائش 22 اکتوبر 

رہ حیات کو آسان کچھ کیا جائے
چلو کہ جینے کا سامان کچھ کیا جائے

دکھائیں آئنہ تنقید کرنے والوں کو
ضروری ہے کہ ہشیمان کچھ کیا جائے 

فرشتہ بننے کی تلقین ابھی ہے بے معنی
ہر آدمی کو تو انسان کچھ کیا جائے

لہو بھی دے کے وفادار ہم نہ بن پائے
کسی پہ کیسے اب احسان کچھ کیا جائے

نہ کوئی چاہ, نہ خواہش نہ ولولہ زرتاب
یہ دل ہوا بڑا ویران کچھ کیاجائے

زرتاب غزل


 

عدم گونڈوی

یوم پیدائش 22 اکتوبر 1947

بھوک کے احساس کو شعر و سخن تک لے چلو 
یا ادب کو مفلسوں کی انجمن تک لے چلو 

جو غزل معشوق کے جلووں سے واقف ہو گئی 
اس کو اب بیوہ کے ماتھے کی شکن تک لے چلو 

مجھ کو نظم و ضبط کی تعلیم دینا بعد میں 
پہلے اپنی رہبری کو آچرن تک لے چلو 

عدم گونڈوی


 

اسد اعوان

یوم پیدائش 22 اکتوبر 1975

کچھ بھی تمام زیست کمایا تو ہے نہیں
میرا کسی کے پاس بقایا تو ہے نہیں

میرا یہ رنگ اور ہے میرا یہ ڈھنگ اور
میری غزل میں لفظ پرایا تو ہے نہیں

کچھ بھی گلہ نہیں ہے مجھے بےوفاٶں سے
سارے ملے“ کسی نے رلایا تو ہے نہیں

کوچہء خوش جمال میں اپنی انا سمیت
سب کچھ لُٹا دیا ہے بچایا تو ہے نہیں

مجھ سے جدا ہوا ہے مگر یہ بھی ٹھیک ہے
اُس نے کسی طرح سے بھلایا تو ہے نہیں

خود آ گیا ہے سارے زمانے کو چھوڑ کر
میں تو اُسے ملا ہوں منایا تو ہے نہیں

دنیا غلط خفا ہے مرے دوست سے اسد
میرے پیام پر بھی وہ آیا تو ہے نہیں

اسد اعوان



وصفی بہرائچی

یوم پیدائش 22 اکتوبر 1914

کیا چیز محبت ہے زمانے کو دکھا دو 
دل صاف کرو اتنا کہ آیئنہ بنا دو

تعمیر گلستاں کے لیے کیا ہے ضروری 
بھولے ہیں جو یہ بات انھیں یاد دلا دو

معلوم ہوں سب ایک ہی کنبے کے ہیں افراد 
یوں شمع مساوات واخوت کی جلا دو

اب دور نہیں آپ سے کچھ آپ کی منزل 
منزل کی طرف ایک قدم اور بڑھا دو

یوں مل کے رہو اہل چمن صحن چمن میں
دشمن کے لیے آہنی دیوار بنا دو

یہ اندرا گاندھی سے سبق ہم کو ملا ہے 
فتنہ جب اٹھے کوئی تو طاقت سے دبا دو

وصفیؔ ہے یہی فرض یہی شرط وفا بھی 
اس خاک کے ہر ذرے کو گلزار بنا دو

وصفی بہرائچی


 

اقبال ارشد

یوم پیدائش 22 اکٹوبر 1940

تو اسے اپنی تمناؤں کا مرکز نہ بنا
چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے

اقبال ارشد

 

ریحانہ نواب

یوم پیدائش 21 اکتوبر 1958

اک شہزادہ بھیس بدل کر ایسے محل میں آتا ہے 
ذکر تمہارا جیسے جاناں میری غزل میں آتا ہے 

حیراں حیراں کھویا کھویا پاگل پاگل بے کل سا 
جانے کس کو ڈھونڈنے چندا جھیل کے جل میں آتا ہے 

آنکھوں میں دیدار کا کاجل میں بھی لگا کر جاتی ہوں 
وہ بھی اکثر ڈھونڈنے مجھ کو تاج محل میں آتا ہے 

گاہے اماوس کی راتوں میں گاہے چاندنی راتوں میں 
اک غمگیں افسردہ سایہ شیش محل میں آتا ہے 

جانے کہاں سے اتنے پرندے شاخوں پر آ جاتے ہیں 
کھٹا میٹھا البیلا رس جوں ہی پھل میں آتا ہے 

جس کو سن کر دل بھر آئے آنکھیں بھی نم ہو جائیں 
ایسے شعروں کی شرکت سے حسن غزل میں آتا ہے 

آ ریحانہؔ اس سے پوچھیں ماضی کی روداد حسیں 
جو چھوٹی سی کشتی لے کر شام کو ڈل میں آتا ہے

ریحانہ نواب



مرشد ندوی

یوم پیدائش 21 اکتوبر 1964

آئینے سے سارے چہرے گم ہوئے
میری یادوں کے خزانے گم ہوئے

منظروں سے رونقیں جاتی رہیں
وہ سبھی موسم سہانے گم ہوئے

بھیڑ ہے اور بھیڑ کی تہذیب کیا
بھیڑ میں انسان سارے گم ہوئے

دن میں سائے خاک پر تڑپا کئے
رات میں وہ بھی بچارے گم ہوئے

زندگی کی داستاں ہے مختصر
آئے ہم، رستے سنوارے، گم ہوئے

حسرتوں کی دھول نظریں کھا گئی
راہ میں کیا کیا نظارے گم ہوئے

وقت کی رفتار میں بچتا بھی کیا
زندگی کے سب نگینے گم ہوئے

تیر کر ساحل پہ آئے وہ بچے
ورنہ مرشد سب سفینے گم ہوئے

مرشد ندوی


بہزاد فاطمی

یوم پیدائش 21 اکٹوبر 1914

وجہ شہرت تری آشفتہ سری میری ہے
شہر تیرا ہی سہی دربدری میری ہے

چن لیا لاکھ خدائوں میں پرستش کے لئے
حسن تیرا ہی سہی دیدہ وری میری ہے

ہے خبر موسم سفاک کی مجھ کو لیکن
بارش سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے

اب تو مانوس ہوں اس درجہ غموں سے بہزادؔ
بزم احباب میں بھی نوحہ گری میری ہے

بہزاد فاطمی



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...