یوم پیدائش 22 اکتوبر 1959
لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے
بس وہی قابل دستار ہوا کرتے تھے
یہ الگ بات وہ تھا دور جہالت لیکن
لوگ ان پڑھ بھی سمجھ دار ہوا کرتے تھے
سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی
پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے
جن قبیلوں میں یہاں آج دئے ہیں روشن
ان قبیلوں کے تو سردار ہوا کرتے تھے
تب عدالت سے رعایت نہیں مل پاتی تھیں
تب گنہ گار گنہ گار ہوا کرتے تھے
کیا زمانہ تھا مہکتی تھیں وہ کیاری گھر کی
گھر کے آنگن گل و گلزار ہوا کرتے تھے
قید مذہب کی نہ تھی کل کے پڑوسی دونوں
ایک دوجے کے مددگار ہوا کرتے تھے
گھر کے سب لوگ نبھاتے تھے خوشی سے جن کو
گھر کے ہر فرد کے کردار ہوا کرتے تھے
رخسار ناظم آبادی