Urdu Deccan

Friday, January 13, 2023

خلیل وجدان

یوم پیدائش 01 جنوری 1991

کھسک گئ زمین بھی،سرک گیا ہے آسماں
وہ ان کی اک ادا جو بن گئ تھی سر پہ امتحاں

فریب کاریاں ادھر ،ادھریہ کج ادائیاں 
ہمارے جیسوں کےلیے نہ یہ جہاں نہ وہ جہاں 

تمہارے جیسے شہر میں ہزار ہونگے گل بدن
ہمارے جیسے نہ بھی ہوں دل فگار دل جواں

 خلیل وجدان



ریاض حنفی

یوم پیدائش 01 جنوری 1960

آمد و رفت کے آثار بنانے کے لئے 
ہم تو ہیں دشت کو گلزار بنانے کے لئے 

وہ کہیں سے بھی مجھے ڈھونڈ کے لاسکتا ہے 
اک تماشا سرِ بازار بنانے کے لئے 

کوئی پڑھتا ہے مجھے آج بھی ناول کی طرح 
کوئی کوشش میں ہے اخبار بنانے کے لئے

سیکڑوں بار ملا ہوں کئی مزدوروں سے 
ایک ٹوٹی ہوئی دیوار بنانے کے لئے  

  تجھ کو ہر شہر کی دیوار پہ لکھ آیا ہوں 
زندگی تیرے خریدار بنا نے کے لئے 

اس کے ہمراہ کئی لوگ ہیں مصروفِ سفر 
اک مری راہ کو دشوار بنانے کے لئے 

ہم خزاں میں بھی بہاروں کی فضا لائے ہیں 
تیری موجودگی دم دار بنانے کے لئے 

میرا کہنا ہے محبت سے دلوں کو جیتو 
اس کا اصرار ہے ہتھیار بنانے کے لئے 

تیرے چہرے سے کئی رنگ لئے ہیں ہم نے 
اپنے ہر شعر کو شہکار بنانے کے لئے 

 ریاض حنفی



سید حامد حسین شاہ

یوم پیدائش 01 جنوری 1980

محبت سے تلاوت کر رہا ہوں
خدایا! میں عبادت کر رہا ہوں

کسی نے کہہ دیا ہے میری ماں سے
کہ میں تجھ سے محبت کر رہا ہوں

وفاوءں سے بھری اک انجمن میں
میں پہلی بار شرکت کر رہا ہوں

کسی نے مجھ سے نظروں سے کہا ہے
میں آنکھوں سے شررات کر رہا ہوں

زمیں پر روشنی کوئی نہیں ہے
میں سورج سے شکایت کر رہا ہوں

سید حامد حسین شاہ



نبیل قیصر

یوم پیدائش 01 جنوری 1969

کریں تحسین کیا اس سادگی کی
ضرورت کیا اسے مشاطگی کی

کھلا پیسہ ہو یا عریانیت ہو
بدل جاتی ہے کیوں نیت سبھی کی

منڈیروں پر جو کوا بولتا ہے
ہے شاید گھر میں پھر آمد کسی کی

مجھے معلوم ہے وہ جانتا ہے 
وجہ کیا ہے مری دیوانگی کی

مسرت سے جو لمحے بیت جائیں
نہیں اُمید ان کی واپسی کی

منالوں گا اسے قیصر میں جا کر
وجہ معلوم ہو ناراضگی کی

نبیل قیصر 



عباس کیفی

یوم پیدائش 01 جنوری 1986

دل نہیں ہے تو جستجو بھی نہیں 
اب کوئی شہر آرزو بھی نہیں 

عشق آزاد ہے کشاکش سے 
نامہ بر بھی نہیں عدو بھی نہیں 

حال و احوال کچھ نہیں معلوم 
ایک مدت سے گفتگو بھی نہیں 

ہر حوالہ نئی کتاب سے ہے 
کوئی ایضاً کوئی ہمو بھی نہیں 

مہرباں ہے تو اپنے مطلب سے 
ورنہ وہ ایسا نرم خو بھی نہیں 

اب بس آنکھوں سے دل نکل آئے 
اشک بھی خشک ہیں لہو بھی نہیں 

حق و باطل کی بات ہی کیا ہے 
تیغ کو ہیبت گلو بھی نہیں 

عباس کیفی



ندیم احمد

یوم پیدائش 01 جنوری 1979

جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا 
وہیں تلاش کرو میں جہاں نہیں ہوتا 

اگر تمہاری زباں سے بیاں نہیں ہوتا 
مرا وجود کبھی داستاں نہیں ہوتا 

بچھڑ گیا تھا وہ ملنے سے پیشتر ورنہ 
میں اس طرح سے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا 

نظر بچا کے نکلنا تو چاہتا ہوں مگر 
وہ کس جگہ سے ہے غائب کہاں نہیں ہوتا 

کبھی تو یوں کہ مکاں کے مکیں نہیں ہوتے 
کبھی کبھی تو مکیں کا مکاں نہیں ہوتا 

ندیم احمد



اظہر احمدی

یوم پیدائش 01 جنوری 1977

دل میں اپنے صنم بسا لو مجھے
یعنی پلکوں پہ اب بٹھا لو مجھے

پختہ ایماں ہے اور یقیں کامل
جس طرح چاہو آزما لو مجھے

ہجر کی شب کا غم سہوں کیسے
اپنی دنیا میں اب بسالو مجھے

کس طرح غم سہوں زمانے کا
کیوں خدا سے کہوں اٹھا لو مجھے

آرزو ہے یہی صنم میرے
دل سے اپنے نہ تم نکالو مجھے

اپنی باتوں پہ میں بھی ہوں قائم
جس قدر چاہو تم ڈرا لو مجھے

ہے یہ کہنا ستم ظریفوں کا
خیر ہوگا ذرا ہنسا لو مجھے

بات اظہرؔ کی تو حقیقت ہے
ایک مظلوم ہوں ستا لو مجھے

اظہر احمدی



خالدہ نازش

یوم پیدائش 01 جنوری 1975

وفا پر یہ ستم ہونے سے پہلے
سرِ تسلیم خم ہونے سے پہلے

میں تجھ کو بھول جانا چاہتی ہوں
اسیرِ رنج و غم ہونے سے پہلے

مجھے مرنا گوارا ہو نہ جائے
تری چشمِ کرم ہونے سے پہلے

چلے جاؤ مرے ہم راز اٹھ کر
مری پلکوں کے نم ہونے سے پہلے

اسے معلوم ہے میری نظر میں
وہ کیا تھا محترم ہونے سے پہلے

مرے دامن میں تھیں خوشیاں ہزاروں
تمھاری ہم قدم ہونے سے پہلے

خالدہ نازش



طاہر سعود کرتپوری

یوم پیدائش 01 جنوری 1993

اس طرح ہیں ہم کسی کے واسطے
وزن جیسے، شاعری کے واسطے

میری قسمت میں اسےلکھ اس طرح
فاطمہ جیسے علی کے واسطے

اک پڑوسی رات بھر روتا رہا
اک پڑوسی کی خوشی کے واسطے

کچھ دنوں کا فقر و فاقہ اور غم
کیا بھلا اک جنتی کے واسطے

جس نے بخشےہیں ہمیں پیارےرسول
ساری تعریفیں اسی کے واسطے

باپ کے پاؤں دبائے عمربھر
ماں کے چہرےکی خوشی کےواسطے

طاہر سعود کرتپوری
 


تبسم فرحانہ

یوم پیدائش 01 جنوری 1968

کبھی ماہ پاروں کی بھی بات کر لیں
افق کے شراروں کی بھی بات کر لیں

زمیں کی تو با تیں بہت ہو چکی ہیں
چلو اب ستاروں کی بھی بات کر لیں

اندھیرے سے گزرے بیاباں میں پہنچے
اٹھو مرغ زاروں کی بھی بات کر لیں

چلو چاند مریخ کو دیکھ آئیں
ان اجڑے دیاروں کی بھی بات کر لیں

بلندی عمارت کی کیا دیکھتے ہو
جڑوں میں شراروں کی بھی بات کر لیں

محبت شرافت کتابوں میں دیکھی
دلوں میں دراڑوں کی بھی بات کر لیں

غریبوں کی نگری میں چل کر تبسم
زرا کام گاروں کی بھی بات کر لیں

تبسم فرحانہ



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...