Urdu Deccan

Tuesday, February 28, 2023

سدرشن فاکر

یوم وفات 19 فروری 2008

اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے 
لیلیٰ مجنوں کی مثالوں پہ ہنسی آتی ہے 

جب بھی تکمیل محبت کا خیال آتا ہے 
مجھ کو اپنے ہی خیالوں پہ ہنسی آتی ہے 

لوگ اپنے لئے اوروں میں وفا ڈھونڈتے ہیں 
ان وفا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے 

دیکھنے والو تبسم کو کرم مت سمجھو 
انہیں تو دیکھنے والوں پہ ہنسی آتی ہے 

چاندنی رات محبت میں حسیں تھی فاکرؔ 
اب تو بیمار اجالوں پہ ہنسی آتی ہے

سدرشن فاکر


 

غلام محمد بختیار قیسی

یوم وفات 18 فروری 2023
اناللہ واناالیہ راجعون 
 شہر ناگپور کے بزرگ شاعر حضرت غلام محمد بختیار قیسی

آج اس دارفانی سے کوچ کر گئے

نور محمد جالب

یوم وفات 18 فروری 2023

ہر ایک سے نباہ کا اقرار کم کرو
کچی سڑک پہ نکلے ہو رفتار کم کرو

مانا کہ تشنہ لب کوئی تم سا نہیں مگر
دریا سے اپنی پیاس کا اظہار کم کرو

کانوں میں پھر اذان کی آواز آئے گی
کمرے کی گونجتی ہوئی جھنکار کم کرو

ہے زندگی کا لطف نشیب و فراز میں
بہتر ہے اپنا راستہ ہموار کم کرو

جالب تمہیں بھی تنکا سمجھ لیں نہ یہ کہیں
ان سر پھری ہواؤں سے تکرار کم کرو

نور محمد جالب


 

رجب چوہدری

یوم پیدائش 18 فروری 

مکان دل کا سجانے کی اب ضرورت ہے
کسی کو اس میں بسانے کی اب ضرورت ہے

بھڑک اٹھیں گے مری راکھ سے کئی شعلے 
ذرا سی آگ دکھانے کی اب ضرورت ہے

نئی صدی ہے بدل دو پرانی رسموں کو
نیا سماج زمانے کی اب ضرورت ہے

کچھ اتنا دور نہیں ہے پہنچ سے سورج بھی
بس ایک جست لگانے کی اب ضرورت ہے

دئیے کا تیل بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا
نئے چراغ جلانے کی اب ضرورت ہے

تھکے تھکے سے بہت لگ رہے ہیں منزل پر
مسافروں کو ٹھکانے کی اب ضرورت ہے

رجب چوہدری 



سرفراز شاکر

یوم وفات 17 فروری 2023

سوکھ جائے گا سمندر دیکھنا
پھر مری آنکھوں کا منظر دیکھنا

خالی رہ جائے گا یہ گھر دیکھنا
جب نکل جاؤں میں باہر دیکھنا 

نوچ کر لے جائے گا مجھ کو کوئی
تم مرے بکھرے ہوئے پر دیکھنا

وہ جو دنیا کے قفس میں بند ہیں
اڑ ہی جائیں گے کبوتر دیکھنا

سونی ہے شاکر حویلی تو مگر
چیختا ہے کون اندر دیکھنا

سرفراز شاکر   



سید غلام ربانی ایاز

یوم پیدائش 17 فروری 1942

روتے روتے حالِ دل پر مسکرانا آگیا
نالۂ شب گیر کو نغمہ بنانا آگیا

خارزارِ زندگی ہے رشکِ گلزارِ ارم
اب خزاں کے دور میں بھی گل کھلانا آگیا

آتے آتے آگیا جینے کا فن آخر ہمیں
آسماں کو اپنے قدموں پر جھکانا آگیا

خلق‘ اخلاق و رواداری ‘ محبت‘ پیارسے
دشمنِ جاں کو بھی سینے سے لگانا آگیا

تم کو گل چینو! مبارک ہوں یہ گل اندازیاں 
اب ہمیں پلکوں سے کانٹوں کو اٹھانا آگیا

ہے گلِ خنداں کی صورت اب دلِ صد چاک ایازؔ
کھاتے کھاتے چوٹ پیہم مسکرانا آگیا

سید غلام ربانی ایاز



ریاض غازی پوری

یوم پیدائش 17 فروری 1937

تسلی دے کے بہلایا گیا ہوں 
سکوں کی راہ پر لایا گیا ہوں 

عدم سے جانب گلزار ہستی 
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں 

کڑی منزل عدم کی ہے اسی سے 
یہاں دم بھر کو ٹھہرایا گیا ہوں 

حقیقت کا ہوا ہے بول بالا 
میں جب سولی پہ لٹکایا گیا ہوں 

حقیقت سے میں افسانہ بنا کر 
ہر اک محفل میں دہرایا گیا ہوں 

خدا معلوم ان کی انجمن سے 
میں خود اٹھا کہ اٹھوایا گیا ہوں 

ریاضؔ اپنا تھا شیوہ گل پرستی 
مگر کانٹوں میں الجھایا گیا ہوں

ریاض غازی پوری


 

آفتاب عالم مٹابرجی

یوم پیدائش 16 فروری 1964

صاف دامن ہے کہاں داغ گناہوں کے ہیں 
کس لئے سادہ دل انسان مجھے کھینچتا ہے 

بحر و آوزان کی حاجت نہیں پڑھتی مجھ کو
خوں پلانے کو قلمدان مجھے کھینچتا ہے 

سر یہ خم کیوں نہ رہے آپ کے آجانے پر 
آج بھی آپ کا احسان مجھے کھینچتا ہے 

آرزو ضبط سے جب آگے نکال جاتی ہے 
" دشت میں روح کا ہیجان مجھے کھینچتا ہے "

میرے اللہ مجھے حفظ و امان میں رکھنا
وسوسے ڈال کے شیطان مجھے کھینچتا ہے 

وہ بلائیں گے تو سب چھوڑ کے جانا ہوگا 
آج کل کوزہء ویران مجھے کھینچتا ہے 

اپنی انکھوں پہ لگائے ہوئے پٹی عالم
بے وجہ عدل کا میزان مجھے کھینچتا ہے 

آفتاب عالم مٹابرجی


 

عبد الحق بیتاب

یوم پیدائش 15 فروری 1964

ہوکر حصارِ ذات میں محبوس آئینہ
کرتا ہے درد و کرب کو محسوس آئینہ

کل کو عجب نہیں کہ وہ ثابت ہو خالی نیک
گو آج میرے حق میں ہے منحوس آئینہ

اے کاش کوئی کھول دے تصویر پر یہ راز
کیوں اپنی زندگی سے ہے مایوس آئینہ

خائف شعور ہے کہیں بیتابؔ کر نہ لے
عکسِ توہّمات کو معکوس آئینہ

عبد الحق بیتاب



منصور عمر

یوم پیدائش 15 فروری 1955

خدایا ذرا ان پہ احسان کر دے 
جو ہیں آدمی ان کو انسان کر دے 

رہیں یاد کے وہ گھروندے سلامت 
مگر دل کے آنگن کو ویران کر دے 

کبھی اپنے ہی روبرو جب کھڑا ہو 
تو آئینہ اس کو بھی حیران کر دے 

زمیں تا فلک ہو مرا نام روشن 
کچھ ایسا ہی جینے کا سامان کر دے 

بہت ناز ہے جن کو اپنی انا پر 
کبھی میرے گھر ان کو مہمان کر دے 

کروں نام کا اپنے سکہ میں رائج 
مجھے ایک دن کا جو سلطان کر دے 

اگر صلح منصورؔ کرتے نہیں وہ 
تو بڑھ کے لڑائی کا اعلان کر دے

منصور عمر


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...