Urdu Deccan

Monday, March 8, 2021

قیوم نظر

 یوم پیدائش 07 مارچ 1914


ماتھے پر ٹیکا صندل کا اب دل کے کارن رہتا ہے

مندر میں مسجد بنتی ہے مسجد میں برہمن رہتا ہے 


ذرہ میں سورج اور سورج میں ذرہ روشن رہتا ہے

اب من میں ساجن رہتے ہیں اور ساجن میں من رہتا ہے 


رت بیت چکی ہے برکھا کی اور پریت کے مارے رہتے ہیں

روتے ہیں رونے والوں کی آنکھوں میں ساون رہتا ہے 


اک آہ نشانی جینے کی رہتی تھی مگر جب وہ بھی نہیں

کیوں دکھ کی مالا جپنے کو یہ تنکا سا تن رہتا ہے 


اے مجھ پر ہنسنے اور کسی کو دیکھنے والے یہ تو کہو

یوں کب تک جان پہ بنتی ہے یوں کب تک جوبن رہتا ہے 


دل توڑ کے جانے والے سن دو اور بھی رشتے باقی ہیں

اک سانس کی ڈوری اٹکی ہے اک پریم کا بندھن رہتا ہے


قیوم نظر


آغا شاعر قزلباش

 یوم پیدائش 05 مارچ 1981


بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں

یہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیں


وہ دیوانہ ہوں جس نے کوہ و صحرا چھان ڈالے ہیں

انہیں تلووں سے تو ٹوٹے ہوئے کانٹے نکالے ہیں


تراشی ہیں وہ باتیں اس ستم گر نے سر محفل

کلیجے سے ہزاروں تیر چن چن کر نکالے ہیں


جگر دل کے ورق ہیں وعدۂ دیدار سے روشن

انہیں کیوں دوں کسی کو یہ تو جنت کے قبالے ہیں


اگر منہ سے کہا کچھ تو بکھر ہی جائیں گے ٹکڑے

بڑی مشکل سے ہم ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالے ہیں


ہمیں ہیں موجد باب فصاحت حضرت شاعرؔ

زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں


آغا شاعر قزلباش


Thursday, March 4, 2021

خواجہ ریاض الدین عطش


 یوم پیدائش 04 مارچ 1925

زندگانی وہ معتبر ہوگی
جو محبت کے نام پر ہوگی

ہوگی پھولوں کی منزلت معلوم
عمر کانٹوں میں جب بسر ہوگی

دل رہے گا تو خون دل ہوگا
اشک ہوں گے تو چشم تر ہوگی

جو تجھے دیکھ کے پلٹ آئے
وہ نظر بھی کوئی نظر ہوگی

رات تو دن کی اک علامت ہے
رات ہوگی تو اک سحر ہوگی

رات بھر ہم جلیں گے فرقت میں
روشنی آج رات بھر ہوگی

بیکلی کا گماں عطشؔ تھا مگر
یہ نہ سمجھا تھا اس قدر ہوگی

خواجہ ریاض الدین عطش

#urdupoetry #urdudeccan #اردودکن #اردو #شعراء #birthday  #پیدائش #شاعری #اردوشاعری #اردوغزل #urdugazal #urdu #poetrylover #poetry #rekhta #شاعر #غزل #gazal

ایم اے راحل بورے والا

 یوم پیدائش 04 مارچ 1972


ہم وفا ڈھونڈ رہے ہیں اب تک

دیکھ کیا؟ ڈھونڈ رہےہیں اب تک


شہر میں موت بِکے ہے تیرے

ہم قضا ڈھونڈ رہے ہیں اب تک


اپنے اِس من کے صنم خانے میں

ہم خدا ڈھونڈ رہے ہیں اب تک


من کے صحرا کو جو کر دے جَل تَھل 

وہ گھٹا ڈھونڈرہے ہیں اب تک


دیکھ کر جس کو کِھلے من کا پھول

دِلربا ڈھونڈ رہے ہیں اب تک


دھوپ چھاٶں پہ رہے راضی جو 

ہم نوا ڈھونڈ رہے ہیں اب تک


جو لڑکپن کی طرف لے جائے

راستہ ڈهونڈ رہے ہیں اب تک


زندگی بیت چلی ہے رَاحِلؔ

آپ کیا؟ ڈھونڈ رہے ہیں اب تک


ایم بى اے رَاحِلؔ بورے


والا

Wednesday, March 3, 2021

واقف انصاری

 یوم پیدائش 04 مارچ 1966


خودی کو بیچ دینا بے ضمیری کو نہاں رکھنا

بلا کا وصف ہے اس میں تقدس سا عیاں رکھنا


ہمیں پہلے سے ہے اندازهء سود و زیاں رکھنا

نظر میں ہر گھڑی دار و رسن کے امتحاں رکھنا


توانائی کی حدت میں نہ ہو تبدیل یہ اک دن

زیادہ سے زیادہ جسم پہ بار گراں رکھنا


گھرے ہیں نرغہ ء اعدا میں جب سے آگیا خود کو

فساد و فتنه و قبر و قضا میں خونچکاں رکھنا


اسیر گیسوئے حرص و حوس جب معتبر ٹھہرا

چراغ انس و جاں ممکن نہیں ہے ذوفشاں رکھنا


درون شہر جاں میں شور و شر برپا ہے جب پیہم

عبث ہے قصہء شام و سحر نوک زباں رکھنا


ہمارا حال کچھ ایسا ہے جیسے موج دریا میں

کسی کاغذ کی کشتی پر کشادہ بادباں رکھنا


ذرا سن لے خدا ہی کچھ ہماری کون سنتا ہے

دعائے نارسائی میں فغان بے زباں رکھنا


زمانے سے اگر آگے نکلنا ہے تمہیں واقف

برابر ذہن و دل میں عہد کی تیاریاں رکھنا


واقف انصاری 


میکش اکبرآبادی

 یوم پیدائش 03 مارچ 1902


دنیا میں کوئی اہل نظر کیا رہا نہیں

وہ سامنے ہے اور کوئی دیکھتا نہیں


ایسا بھی انقلاب جہاں میں ہوا نہیں

دن ہو گیا ہے اور اندھیرا گیا نہیں


تم نے بھی کچھ سنا ہے مرے دل کا ماجرا

ہے ہر زباں پہ اور کسی نے کہا نہیں


مانا کہ میں زمانے میں مجبور ہوں مگر

یہ خیر ہے کہ تم بھی کسی کے خدا نہیں


آج اپنے آشیانے میں بلبل ہے بے وطن 

صیاد کے بھی عہد میں ایسا ہوا نہیں


ایمان ہے مرا تری جنت پر اے خدا

لیکن یہ میرے خون جگر کا صلہ نہیں


میکش مرا بیان زمانے نے سن لیا

ہے جس کا ذکر صرف اسی نے سنا نہیں


میکش اکبرآبادی


Tuesday, March 2, 2021

مظہر مرزا جان جاناں

 یوم پیدائش 03 مارچ 1699


نہ تو ملنے کے اب قابل رہا ہے

نہ مج کو وہ دماغ و دل رہا ہے


یہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے

کہاں اس کو دماغ و دل رہا ہے


خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے


نہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام

یہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے



مظہر مرزا جان جاناں


رئیس وارثی

 یوم پیدائش 01 مارچ 1963


میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا

سو پاش پاش تو ہونا مرا مقدر تھا


تمام رات سحر کی دعائیں مانگی تھیں

کھلی جو آنکھ تو سورج ہمارے سر پر تھا


چراغ راہ محبت ہی بن گئے ہوتے

تمام عمر کا جلنا اگر مقدر تھا


فصیل شہر پہ کتنے چراغ تھے روشن

سیاہ رات کا پہرا دلوں کے اندر تھا


اگرچہ خانہ بدوشی ہے خوشبوؤں کا مزاج

مرا مکان تو کل رات بھی معطر تھا


سمندروں کے سفر میں وہ پیاس کا عالم

کہ فرش آب پہ اک کربلا کا منظر تھا


اسی سبب تو بڑھا اعتبار لغزش پا

ہمارا جوش جنوں آگہی کا رہبر تھا


جو ماہتاب حصار شب سیاہ میں ہے

کبھی وہ رات کے سینے پہ مثل خنجر تھا


میں اس زمیں کے لیے پھول چن رہا ہوں رئیسؔ

مرا نصیب جہاں بے اماں سمندر تھا


رئیس وارثی


اجمل اجملی

 یوم پیدائش 01 مارچ 1932


وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں

بکھرا ہوا حیات کا دفتر سمیٹ لوں


پھر جانے ہم ملیں نہ ملیں اک ذرا رکو

میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لوں


یاروں نے جو سلوک کیا اس کا کیا گلا

پھینکے ہیں دوستوں نے جو پتھر سمیٹ لوں


کل جانے کیسے ہوں گے کہاں ہوں گےگھر کے لوگ

آنکھوں میں ایک بار بھرا گھر سمیٹ لوں


تار نظر بھی غم کی تمازت سے خشک ہے

وہ پیاس ہے ملے تو سمندر سمیٹ لوں


اجملؔ بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ

جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لوں


اجمل اجملی


Monday, March 1, 2021

غزل ظفر کلیم ناگپور انڈیا

قد بڑھانے کے بہانے کتنے

دوست دشمن ہوئے جانے کتنے


گُل ہوئی شمع تو معلوم ہوا

ظلم ڈھائے ہیں ہوا نے کتنے


کچھ تو ہو صرفِ حسابِ گُل بھی

پھول برسائے صبا نے کتنے


اے غمِ عشق بتا، کچھ تو بتا

غم دیئے تجھ کو خدا نے کتنے


روز اک تازہ بہانہ، توبہ

تم کو آتے ہیں بہانے کتنے


اک گلی اس کی ہے اک میخانہ

ہم غریبوں کے ٹھکانے کتنے


یاد آئے وہ گئے دن تو ظؔفر

کُھل گئے زخم پرانے کتنے


ظؔفر کلیم، ناگپور


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...